BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 28 May, 2006, 22:59 GMT 03:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پیسے غلط جگہ خرچ ہورہے ہیں‘

عمران خان اس کنونشن میں مہمان خصوصی تھے
تحریک انصاف کے صدر عمران خان نے کہا ہے کہ ’صدر مشرف امریکہ سے ستر ملین ماہانہ وصول کرکے پاکستانی فوج کے ذریعے وزیرستان میں اپنے ہی ملک کے شہریوں کا قتل عام کروا رہے ہیں۔‘ وہ اتوار کی شب لاہور کے نواحی علاقے میں مسلم لیگ نواز کے ورکرز کنونشن سے خطاب کررہے تھے۔

یہ کنونشن پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے آٹھ سال پورے ہونے کی مناسبت سے کیا گیا تھا اور اس کی صدارت سابق صدر پاکستان رفیق تارڑ نے کی۔ پاکستان میں ایٹمی دھماکے کیے جانے کی سالگرہ کو یوم تکبیر کہا جاتا ہے۔

عمران خان کو اس تقریب میں خاص مہمان کے طور پر بلایا گیا اور اختتامی تقریر بھی انہی کی تھی۔ عمران خان نے کہا کہ ’صدر مشرف کا روزانہ خرچ نو لاکھ روپے اور وزیر اعظم کا روزانہ خرچ آٹھ لاکھ روپے ہے اور وہ دونوں پچیس پچیس ملین کے جہاز رکھے ہوئے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پوری دینا میں حکمرانی کرنے والے ملک امریکہ کا دفاعی ادارہ پینٹاگون صرف ڈھائی سو ایکٹر پر ہے جبکہ پاکستان کی آرمی کا ہیڈ کواٹر اسلام آباد میں ڈھائی ہزار ایکٹر پر بن رہا ہے۔‘

’پالیسی ترجیحات غلط‘
 پوری دینا میں حکمرانی کرنے والے ملک امریکہ کا دفاعی ادارہ پینٹاگون صرف ڈھائی سو ایکٹر پر ہے جبکہ پاکستان کی آرمی کا ھیڈ کواٹر اسلام آباد میں ڈھائی ہزار ایکٹر پر بن رہا ہے۔
عمران خان
عمران خان نے کہا کہ’یہ سب عیاشیوں کے زمرے میں آتا ہے اس کے مقابلے میں عام لوگ گندہ پانی پی کر مر رہے ہیں اسی فی صد پاکستانی چار ہزار روپے یا اس سے کم پر گذرار کر رہے ہیں۔‘ انہوں نے صدر مشرف کو امریکی صدر کا غلام قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے اتنا بزدل کمانڈو کبھی نہیں دیکھا۔

سابق صدر رفیق تارڑ کا پاکستان کے آئینی صدر کہہ کر استقبال کیا گیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’بنگلہ دیش کی طرح وزیرستان اور بلوچستان میں قتل عام کیا جارہا ہے اللہ نہ کرے کہ کبھی ایسا وست آئے کہ وہاں بھی پاکستانیوں کو پاسپورٹ لیکر جانا پڑے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’مشرف پر جب بھی کوئی کڑا وقت آتا ہے تو وہ میٹنگ بلا لیتے ہیں اور اخبار میں شائع ہوتا ہے کہ کور کمانڈروں فارمیشن کمانڈروں کی میٹنگ بلائی گئی ہے۔‘

سابق صدر تارڑ کے الفاظ تھے کہ ’ارے ان بے حمیت اور بزدل پراپرٹی ڈیلروں سے کون ڈرتا ہے۔یہ ہندوستان کے سامنے بھیگی بلی بنے رہتے ہیں اور اپنے ہی مسلمانوں کا قتل عام کررہے ہیں۔‘

یہ کنونشن مسلم لیگ کی جانب سے کیا گیا تھا
مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا نے کہا کہ ’پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے تینوں افراد کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا گیا۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ایٹمی پروگرام شروع کرنے والے ذوالفقار علی بھٹوکو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر کو ذلت رسوائی کےسوا کچھ نہیں ملا اور ایٹمی دھماکے کرنے والے وزیراعظم کو برطرف کرکے جلاوطن کر دیا گیا۔‘

انہوں نے کہاکہ ’کیا کبھی کسی نے سوچا کہ ایسا کیوں ہورہا ہے اور کون ایسا کر رہا ہے اور ایسا کرنے والوں کی پشت پناہی کون کر رہا ہے؟‘

رائے ونڈ کے ایک بڑے میدان میں ہونے والی اس تقریب میں ساڑھے تین ہزار کرسیاں بچھائی گئیں تھیں جن میں سے زیادہ تر پر لوگ بیٹھے تھے اور کئی کھڑے بھی تھے۔ مسلم لیگ نواز پنجاب کے صدر سردار ذوالفقار کھوسہ نے اسے اس سال لاہور میں مسلم لیگ نواز کا سب سے بڑا جلسہ قرار دیا۔

جلسہ گاہ اور اس تک کا راستہ مختلف بینروں اور پوسٹروں سے سجایا گیا تھا۔ سٹیج پر لگے بینر پر لکھا تھا کہ’اہل وطن کو ایٹمی پاکستان مبارک ہو‘، راستے میں اور پنڈال میں جگہ جگہ میاں نواز شریف، شہباز شریف اور ان کے والد میاں شریف سمیت مختلف رہنماؤں کے بڑے بڑے بورڈ لگائے گئے تھے۔

جلسے میں نعرے لگائے گئے کہ ’ملک کو بچانا ہے تو نواز شریف کا لانا ہے‘،’نواز شریف زندہ باد‘،’میاں دے نعرے وجن گے‘اور ایٹم بم زندہ باد کے نعرے لگائے گئے۔

سابق صدر کا بیان
 بنگلہ دیش کی طرح وزیرستان اور بلوچستان میں قتل عام کیا جارہا ہے اللہ نہ کرے کہ کبھی ایسا وست آئے کہ وہاں بھی پاکستانیوں کو پاسپورٹ لیکر جانا پڑے۔
رفیق تارڑ
قافلوں اور قائدین کا ڈھول کی تھاپ پر استقبال کیا جاتا اور جلسے کی کارروائی کے دوران آتش بازی کا مظاہرہ بھی کیا گیا۔ تقریب سے تہمینہ دولتانہ جعفر اقبال اور چودھری عبدالغفور نے بھی خطاب کیا۔

مقررین نے نواز شریف شہباز شریف اور بے نظیر بھٹو کی فوری وطن واپسی اور شفاف انتخابات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ نواز شریف اور بے نظیر کے درمیان ہونے والی میثاق جمہوریت اس ملک کے مستقبل کے لیے خوش آئند ہے۔

ایک قرارداد میں ایٹی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر سے روا رکھے جانے والے حکومتی سلوک کی مذمت کی گئی۔ پاکستان نے گیارہ مئی سن انیس سو اٹھانوے میں بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں اسی سال اٹھائیس مئی کو چھ دھماکے کیے تھے۔

پاکستان میں اس وقت کی حکومت نے اس دن کو یوم تکبیر قرار دیتے ہوئے اسے ہر سال سرکاری طور پرمنانے کا اعلان کیا تھا لیکن بعد میں میاں نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ جلسے میں یوم تکبیر کو سرکاری سطح پر نہ منائے جانے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

عمران خانعمران خان بتاتے ہیں
’قرضوں کی پیشکش کیوں مسترد کی جائے؟
نیاجوہری تنازعہ
’راز افشا نہیں ہوسکتے، مگر۔۔۔‘
ڈاکٹر قدیر خانقربانی کے بکرے
حکومت سارا الزام سائنسدانوں پر ڈال رہی ہے
عبدالقدیر خانجوہری پروگرام
پاکستانی جوہری پروگرام کا مستقبل وضاحت طلب
خان اور سکیورٹی
ڈاکٹر قدیر خان کے راز صیغۂ راز میں
اسی بارے میں
’قرضے: پیشکش مسترد کی جائے‘
23 November, 2005 | پاکستان
ایک اور کل جماعتی کانفرنس
20 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد