’پیسے غلط جگہ خرچ ہورہے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تحریک انصاف کے صدر عمران خان نے کہا ہے کہ ’صدر مشرف امریکہ سے ستر ملین ماہانہ وصول کرکے پاکستانی فوج کے ذریعے وزیرستان میں اپنے ہی ملک کے شہریوں کا قتل عام کروا رہے ہیں۔‘ وہ اتوار کی شب لاہور کے نواحی علاقے میں مسلم لیگ نواز کے ورکرز کنونشن سے خطاب کررہے تھے۔ یہ کنونشن پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے آٹھ سال پورے ہونے کی مناسبت سے کیا گیا تھا اور اس کی صدارت سابق صدر پاکستان رفیق تارڑ نے کی۔ پاکستان میں ایٹمی دھماکے کیے جانے کی سالگرہ کو یوم تکبیر کہا جاتا ہے۔ عمران خان کو اس تقریب میں خاص مہمان کے طور پر بلایا گیا اور اختتامی تقریر بھی انہی کی تھی۔ عمران خان نے کہا کہ ’صدر مشرف کا روزانہ خرچ نو لاکھ روپے اور وزیر اعظم کا روزانہ خرچ آٹھ لاکھ روپے ہے اور وہ دونوں پچیس پچیس ملین کے جہاز رکھے ہوئے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’پوری دینا میں حکمرانی کرنے والے ملک امریکہ کا دفاعی ادارہ پینٹاگون صرف ڈھائی سو ایکٹر پر ہے جبکہ پاکستان کی آرمی کا ہیڈ کواٹر اسلام آباد میں ڈھائی ہزار ایکٹر پر بن رہا ہے۔‘
سابق صدر رفیق تارڑ کا پاکستان کے آئینی صدر کہہ کر استقبال کیا گیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’بنگلہ دیش کی طرح وزیرستان اور بلوچستان میں قتل عام کیا جارہا ہے اللہ نہ کرے کہ کبھی ایسا وست آئے کہ وہاں بھی پاکستانیوں کو پاسپورٹ لیکر جانا پڑے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’مشرف پر جب بھی کوئی کڑا وقت آتا ہے تو وہ میٹنگ بلا لیتے ہیں اور اخبار میں شائع ہوتا ہے کہ کور کمانڈروں فارمیشن کمانڈروں کی میٹنگ بلائی گئی ہے۔‘ سابق صدر تارڑ کے الفاظ تھے کہ ’ارے ان بے حمیت اور بزدل پراپرٹی ڈیلروں سے کون ڈرتا ہے۔یہ ہندوستان کے سامنے بھیگی بلی بنے رہتے ہیں اور اپنے ہی مسلمانوں کا قتل عام کررہے ہیں۔‘
انہوں نے کہاکہ ’کیا کبھی کسی نے سوچا کہ ایسا کیوں ہورہا ہے اور کون ایسا کر رہا ہے اور ایسا کرنے والوں کی پشت پناہی کون کر رہا ہے؟‘ رائے ونڈ کے ایک بڑے میدان میں ہونے والی اس تقریب میں ساڑھے تین ہزار کرسیاں بچھائی گئیں تھیں جن میں سے زیادہ تر پر لوگ بیٹھے تھے اور کئی کھڑے بھی تھے۔ مسلم لیگ نواز پنجاب کے صدر سردار ذوالفقار کھوسہ نے اسے اس سال لاہور میں مسلم لیگ نواز کا سب سے بڑا جلسہ قرار دیا۔ جلسہ گاہ اور اس تک کا راستہ مختلف بینروں اور پوسٹروں سے سجایا گیا تھا۔ سٹیج پر لگے بینر پر لکھا تھا کہ’اہل وطن کو ایٹمی پاکستان مبارک ہو‘، راستے میں اور پنڈال میں جگہ جگہ میاں نواز شریف، شہباز شریف اور ان کے والد میاں شریف سمیت مختلف رہنماؤں کے بڑے بڑے بورڈ لگائے گئے تھے۔ جلسے میں نعرے لگائے گئے کہ ’ملک کو بچانا ہے تو نواز شریف کا لانا ہے‘،’نواز شریف زندہ باد‘،’میاں دے نعرے وجن گے‘اور ایٹم بم زندہ باد کے نعرے لگائے گئے۔
مقررین نے نواز شریف شہباز شریف اور بے نظیر بھٹو کی فوری وطن واپسی اور شفاف انتخابات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ نواز شریف اور بے نظیر کے درمیان ہونے والی میثاق جمہوریت اس ملک کے مستقبل کے لیے خوش آئند ہے۔ ایک قرارداد میں ایٹی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر سے روا رکھے جانے والے حکومتی سلوک کی مذمت کی گئی۔ پاکستان نے گیارہ مئی سن انیس سو اٹھانوے میں بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں اسی سال اٹھائیس مئی کو چھ دھماکے کیے تھے۔ پاکستان میں اس وقت کی حکومت نے اس دن کو یوم تکبیر قرار دیتے ہوئے اسے ہر سال سرکاری طور پرمنانے کا اعلان کیا تھا لیکن بعد میں میاں نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ جلسے میں یوم تکبیر کو سرکاری سطح پر نہ منائے جانے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ |
اسی بارے میں عمران خان : امریکی اڈے پر پریشان23 August, 2004 | پاکستان ’قرضے: پیشکش مسترد کی جائے‘23 November, 2005 | پاکستان حزب اختلاف کی گول میز کانفرنس 27 February, 2006 | پاکستان معاہدہ: عمران کی مشروط حمایت25 April, 2006 | پاکستان ’مشرف نے دھاندلی شروع کر دی ہے‘08 May, 2006 | پاکستان ایک اور کل جماعتی کانفرنس20 September, 2005 | پاکستان جوہری پھیلاؤ میں ملوث نہیں: نواز02 February, 2006 | پاکستان ایل او سی پر نئی چوکیاں نہیں27 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||