آنکھ: انوکھی بیماری کا شکار خاندان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے ضلع بدین میں ایک ایسا خاندان موجود ہے جو آنکھوں کی ایک انوکھی بیماری میں مبتلا ہے اور اس خاندان میں پیدا ہونے والے بچے عمر کی ایک حد کو پہنچنے کے بعد بینائی کھو دیتے ہیں۔ ضلع بدین کے ایک چھوٹے شہر کھورواہ کے رہائشی غلام علی خاصخیلی کے گیارہ بچے ہیں جن میں سات لڑکیاں ہیں اور ان میں سے ان کے آٹھ بچوں کی بینائی ختم ہوچکی ہے۔ سولہ سالہ محمد سلیم نے بتایا کہ ان کے تمام بہن بھائی پیدائشی طور پر نابینا نہیں ہوتے بلکہ رفتہ رفتہ نظر ختم ہوتی جاتی ہے۔ دونوں آنکھوں کی نظر سے محروم سلیم کہتے ہیں کہ وہ پانچ جماعت پاس ہیں اور پڑھنے لکھنے کا انہیں بہت شوق تھا۔ وہ جب چھٹی جماعت میں تھے تو ان کی نظر ختم ہوگئی۔ ان کے مطابق جب ان کی نظر کمزور ہونا شروع ہوئی تو انہوں نے سمجھا کہ زیادہ پڑھنے والے بچوں کی نظر متاثر ہوتی ہے۔ لیکن وہ دیکھتے ہی دیکھتے بینائی سے محروم ہوگئے۔ سلیم نے بتایا کہ ان کے بڑے بھائی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ غلام علی خاصخیلی پیشے کے اعتبار سے کسان ہیں اور انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارتے ہیں۔ ان کی بڑی صاحبزادی زبیدہ بھی نابینا ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ پیدا ہوئیں تو ٹھیک تھیں اور کپڑوں کے رنگ بھی پہچان لیتی تھیں لیکن بعد میں بینائی چلی گئی۔
زبیدہ کی ایک بہن فرزانہ ہیں جو اپنے گیارہ بہن بھائیوں میں واحد شادی شدہ ہیں۔ ان کے بارے میں زبیدہ نے بتایا کہ ان کی آنکھ کی نظر تھی اور جب وہ بھی ختم ہونے لگی تو انہوں نے آپریشن کروایا اور کچھ عرصے تک تو نظر سلامت رہی لیکن اب ان کی دوسری آنکھ بھی خراب ہورہی ہے۔ اس خاندان میں اٹھارہ سالہ شمشاد، بارہ سالہ زاہدہ اور سات سالہ لیاقت علی کی بینائی تو سلامت ہے۔ لیکن اپنے بہن بھائیوں کی مختلف عمر کے حصوں میں پہنچنے کے بعد بینائی ختم ہونے کی وجہ سے ہر وقت پریشان رہتے ہیں کہ ان کا کیا ہوگا۔ غلام علی خاصخیلی کی صبح شام یہی دعا ہوتی ہے کہ ان کے تین بچوں کی نظر سلامت رہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بچوں کا علاج کروانے کی کوشش کی لیکن غربت ان کے آڑے آتی رہی۔ ان کے بیٹے محمد سلیم نے بتایا کہ وہ حیدرآباد کے ایک ہسپتال میں داخل ہوئے اور ڈاکٹر نے سات روز کے بعد پیسے نہ ہونے کی وجہ سے نکال دیا اور کہا کہ بستر خالی کرو۔ سلیم جو استاد بننے کے خواہاں ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اگر انہیں مخصوص بچوں کے سکول میں داخلہ ملے تو اپنا خواب پورا کرسکتے ہیں۔ سلیم نے بتایا کہ شہر کے بچے ان کا مذاق اڑاتے ہیں اور کبھی پتھر مارتے ہیں تو کبھی انہیں دھکا دے کر تماشہ بناتے ہیں۔
ڈاکٹر اشوک کمار کے مطابق اس بیماری میں مبتلا افراد کی نظر عمر کی ایک حد کو پہنچنے کے بعد رفتہ رفتہ کم ہوتی ہے اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ مکمل طور پر نابینا جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس بیماری میں آنکھ کے پردے کے پیچھے جو عوامل ہوتے ہیں وہ پردے کو نقصان پہنچاتے ہیں اور وہ پردہ تبدیل نہیں ہوسکتا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس طرح کی بیماری شمالی علاقہ جات اور پوٹھوہار کے علاقے میں بھی کچھ خاندانوں میں ہے۔ ڈاکٹر کے مطابق قریبی رشتہ داروں میں شادیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ لیکن زبیدہ نے بتایا کہ ان کے لیے ایک خاندان سے باہر کا رشتہ آیا تھا اور والد نے انہیں منع کردیا کہ وہ اپنے رشتہ داروں سے باہر رشتہ نہیں کریں گے۔ بدین ضلع کے رہائشی اس خاندان کے انوکھی بیماری میں مبتلا متاثرہ افراد کو جہاں پریشانی ہے وہاں جن کی نظر سلامت ہے وہ بھی ایک خوف کے ماحول میں زندگی گزارتے ہیں۔ انہیں یہ آس بھی رہتی ہے کہ کاش حکومتی سطح پر یا کوئی امدادی ادارہ ان کی مدد کرے۔ |
اسی بارے میں فاتح بلائنڈ کرکٹ ٹیم وطن واپس16.12.2002 | صفحۂ اول نابینا بچے جنگ کے خلاف24.03.2003 | صفحۂ اول نابیناؤں کے لئے پہلا فون22 November, 2003 | نیٹ سائنس اندھیری دنیا: جب زمین پیروں تلے نہ رہی11 February, 2004 | Blog اندھیرے میں روشنی11 February, 2004 | کھیل اندھیری دنیا: مرغی لائے ہو؟24 February, 2004 | Blog اندھیرے کا سفر: روشنی پھیلانے والا03 March, 2004 | Blog اندھے پن کا علاج پالک سے30 April, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||