اندھیرے میں روشنی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک ایسے وقت کہ جب دنیا بھر کی نظریں تعلقات کی بحالی کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تاریخی کرکٹ سیریز پر مرکوز ہیں، بھارت کی بلائنڈ کرکٹ ٹیم بھی پاکستان پہنچ رہی ہے۔ اس دورے میں وہ پاکستان بلائنڈ کرکٹ ٹیم کے خلاف پانچ ون ڈے میچوں کی سیریز کھیلے گی جو اس وقت بلائنڈ ورلڈ چیمپئن ہے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان بلائنڈ کرکٹ سیریز کا پہلا میچ 20 فروری کو لاہور میں کھیلا جائے گا۔ سیریز کا دوسرا اور تیسرا میچ 22 اور 24 فروری کو کراچی میں کھیلا جائے گا اور شیخوپورہ 27 فروری کو چوتھے میچ کی میزبانی کرے گا۔ سیریز کا اختتام 29 فروری کو راولپنڈی کے میچ کے ساتھ ہوگا۔
اس سیریز کے لئے پاکستان کرکٹ بلائنڈ کونسل نے، جس کے صدر آغا شوکت ہیں، پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیف ایگزیکٹیو عارف عباسی، ڈاکٹر ظفر الطاف، کمانڈر ارشد جیلانی، منیرحسین اور اقبال منیر پر مشتمل آرگنائزنگ کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ پاکستان بلائنڈ کرکٹ کونسل کے صدر آغا شوکت کا کہنا ہے کہ پاکستان بلائنڈ کرکٹ ٹیم کی کارکردگی قابل ذکر رہی ہے۔ اس نے گزشتہ سال بھارت کے شہر چنئی میں منعقدہ بلائنڈ کرکٹ ورلڈ کپ کے فائنل میں جنوبی افریقہ کو شکست دی تھی۔ جبکہ 1998 میں دہلی میں منعقدہ پہلے بلائنڈ ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم کو فائنل میں جنوبی افریقہ نے ہرایا تھا۔
پاکستان بلائنڈ کرکٹ ٹیم دونوں عالمی کپ کھیلنے کے علاوہ جنوبی افریقہ اور انگلینڈ کے دورے کر چکی ہے۔ چار سال قبل جنوبی افریقہ کے دورے میں پاکستان بلائنڈ ٹیم نے میزبان ٹیم کو سیریز کے تمام چھ میچوں میں شکست دی تھی۔ جبکہ دوسال قبل انگلینڈ کے دورے میں پاکستان ٹیم نے سیریز تین ایک سے اپنے نام کی تھی۔ ورلڈ کپ جیتنے پر صدر جنرل پرویز مشرف نے ٹیم کی پذیرائی کی تھی لیکن حکومت اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے مستقل بنیادوں پر سرپرستی نہ ہونے کے نتیجے میں پاکستان بلائنڈ کرکٹ کونسل کوشدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کرکٹ کے ذریعے اپنے کرکٹرز کو معاشرے کا مفید شہری بھی بنانے کا فریضہ انجام دے رہی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان بلائنڈ کرکٹ ٹیم کے تین کھلاڑی اس وقت پنجاب یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ایک کرکٹر نے ایل ایل بی مکمل کر لیا ہے۔ آغا شوکت کا خیال ہے کہ پاک بھارت بلائنڈ سیریز سے نہ صرف کرکٹ کو فروغ حاصل ہوگا بلکہ وہ حکومت اور عام لوگوں تک اپنی سرگرمیاں اور مسائل پہنچانے میں بھی کامیاب ہوسکیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||