| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
اب چین میں بھی چوکے چھکے
چین ایشیئن کرکٹ کونسل میں شامل ہونے کو ہے لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ آبادی والے اس ملک میں حقیقت میں کرکٹ کون کھیل رہا ہے؟ تیس برس کی جیا لیو جو باتوں کی شوقین ہیں اور کرکٹ جیسے مشغلے کے باعث وہ چین میں خاصی منفرد شخصیت بھی ہیں کہتی ہیں کہ ’جب بھی لوگوں سے کہتی ہوں کہ میں کرکٹ کھیلتی ہوں تو وہ پوچھتے ہیں کہ کرکٹ کیا ہوتی ہے؟‘ ایک ایسے ملک میں جہاں صرف چند لوگوں نے ہی کرکٹ کا کھیل دیکھا ہوگا وہاں اس طرح کا ردِ عمل کوئی غیر عمومی بات نہیں ہے۔ چین میں زیادہ تر وہی لوگ کرکٹ کھیلتے ہیں جو بیرونی ممالک سے آئے ہیں اور گزشتہ چار برس کے دوران یہی لوگ شنگھائی میں انٹرنیشنل سِکسز ٹورنامنٹس بھی منعقد کروا چکے ہیں۔
بہرحال جیا جیسے مقامی افراد کی بہت ہی قلیل تعداد اب اس کھیل کی طرف راغب ہو رہی ہے لیکن اس کھیل کو ہردلعزیز بنانےمیں خاصی مشکلات کا سامنا ہو گا۔ شنگھائی فٹبال کلب میں کرکٹ متعارف کرانے میں مددگار سکاٹ براؤن کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک ثقافتی معاملہ ہے کیونکہ کرکٹ نہ صرف غیر ملکی بلکہ ایک عجیب و غریب کھیل ہے۔ اس کھیل میں ٹھوس گیند استعمال کی جاتی ہے جس سے لوگ خائف ہوتے ہیں۔‘ شنگھائی فٹبال کلب لوگوں کو نرم گیند کی مدد سے اِنڈور کرکٹ کھیلاتی ہے۔ یہ طریقہ خصوصاً جیا جیسی خواتین میں بہت مقبول ہو رہا ہے کیونکہ یوں خواتین کھیل میں ٹیم ورک اور اس کے سماجی پہلو سے محظوظ ہوتی ہیں۔ طے شدہ منصوبے کے تحت اِنڈور کرکٹ کھیلنے والوں کو آخرِکار کھلے میدانوں میں کھیلایا جائے گا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ چین میں کرکٹ کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ دستاویزی ثبوت کے حوالے سے شنگھائی میں سب سے پہلا کرکٹ میچ اٹھارہ سو اٹھاون میں کھیلا گیا۔ اس کے علاوہ چین کے جنوبی شہر چانگ کنگ میں انیسویں صدی عیسوی میں کھیلے گئے میچوں کی تصاویر اب بھی موجود ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||