| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹیم سلیکشن ، حقائق کیا ہیں ؟
رمضان المبارک کا چاند، قومی بجٹ اور پاکستان کرکٹ ٹیم کا سلیکشن جیسے معاملات ہمیشہ سے ہی عام آدمی کے لئے چونکاتے رہے ہیں لیکن نیوزی لینڈ کے خلاف پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی سیریز کے لئے پاکستان کرکٹ بورڈ نے جس ٹیم کا اعلان کیا ہے وہ حیران کن ہی نہیں بلکہ تشویش ناک بھی ہے۔ پاکستان میں کرکٹ کے غیرجانبدار حلقوں کا خیال ہے کہ کرکٹ بورڈ کے موجودہ آفیشلز کو اپنی پسند کے فیصلے کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہوچکا ہے اور میرٹ کو ثانوی حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے ساتھ ساتھ بھارت میں ہونے والی سہ فریقی سیریز کے لئے بھی پاکستان اے ٹیم کا اعلان کیا گیا ہے اور دونوں ٹیموں میں کھلاڑیوں کی تقسیم بہت ہی خوبصورتی سے کرتے ہوئے متعدد باصلاحیت اور حقدار کرکٹرز کو پاکستان ٹیم میں کھیلنے کا حق دینے کے بجائے بھارت کے دورے پر جانے والی اے ٹیم کی شمولیت کی صورت میں ’لولی پوپ‘ کے ذریعے بہلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان میں سے کچھ چہرے ایسے ہیں جو بھارت کے دورے پر بھیجنے کے بجائے نیوزی لینڈ کے لئے سیریز کے لئے پاکستان میں ہی روک لئے گئے ہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے انتخاب پر کئی روز سے چیف سلیکٹر عامرسہیل کپتان انضمام الحق اور کوچ جاوید میانداد کے درمیان جو تنازعہ جاری تھا ٹیم کے اعلان کے بعد مبصرین کا یہ خیال ہے کہ ان کے درمیان کرائی گئی جنگ بندی وقتی معلوم ہوتی ہے کیونکہ کپتان انضمام الحق جن دو کھلاڑیوں یونس خان اور ثقلین مشتاق کو ٹیم میں شامل کرنے کے لئے بضد تھے وہ دونوں ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ چیف سلیکٹر عامرسہیل جنہیں اسوقت پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی غیرمعمولی حمایت حاصل ہے اس پورے کھیل میں کامیاب بن کر سامنے آئے ہیں۔ جہان تک کوچ جاوید میانداد کا تعلق ہے تو وہ اس پورے تماشے میں اس لئے اپنی اہمیت کھوبیٹھے ہیں کہ ایک طرف تو انہوں نے یہ بات واضح طور پر کہی کہ ٹیم سلیکشن سے ان کا کوئی تعلق نہیں اور ان کی تمام تر توجہ کوچنگ پر مرکوز ہے۔ لیکن دوسری جانب وہ اس بات کا گلہ کرتے نظر آئے کہ ٹیم سلیکشن میں ان کی رائے نہیں لی جاتی بہرحال عامرسہیل ایک بار پھر ٹیم میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے صاحبزادے جنید ضیاء کو واپس لے آئے ہیں جو بنگلہ دیش کے خلاف چار ون ڈے میچوں میں بری طرح ناکام رہے ہیں اور 42 رنز کی اوسط سے صرف 3 وکٹیں حاصل کرپائے تھے۔ ٹیم میں ان کی واپسی کا عامرسہیل نے یہ جواز پیش کیا ہے کہ سری لنکا میں ہونے والی ایمرجنگ ٹرافی میں انہوں نے عمدہ بولنگ کی اور اسوقت ملک میں جاری انٹرڈپارٹمنٹل کرکٹ ٹورنامنٹ میں وہ 5 میچوں میں 35 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں اور ٹیم منیجمنٹ نے بھی ان کی ٹیم میں شمولیت کی درخواست کی تھی۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ جنید ضیاء سری لنکا میں ہونے والی ایمرجنگ ٹرافی کے سب سے کامیاب بولر بن کرسامنے آئے تھے اور انٹرڈپارٹمنٹل ٹورنامنٹ میں بھی وہ وکٹیں حاصل کررہے ہیں۔ لیکن نان فرسٹ کلاس کرکٹ میچوں میں عمدہ بولنگ پر وہ ان بولرز پر کسی طور ترجیح دیئے جانے کے مستحق نہیں تھے جو اسی ٹورنامنٹ میں ان جیسی ہی بولنگ کررہے ہیں اور جنیدضیاء کو ایک اور موقع دیئے جانے سے پہلے ’فرسٹ چانس‘ دیئے جانے کے مستحق تھے مثلا عبدالرؤف کو یقینی طور پر نیوزی لینڈ کے خلاف موقع ملنا چاہیئے تھا جنہوں نےاسی انٹرڈپارٹمنٹل کرکٹ ٹورنامنٹ میں جس کی کارکردگی کو بنیاد بناتے ہوئے جنید ضیا کو پاکستان ٹیم میں شامل کیا گیا ہے 4 میچوں میں 34 وکٹیں حاصل کی ہیں اور اس سے قبل بھی جنوبی افریقہ کے اکیڈمی ٹور پر اچھی بولنگ کی تھی لیکن انہیں پاکستان اے کرکٹ ٹیم کے قابل سمجھاگیا ہے۔ سب سے زیادہ زیادتی ٹیسٹ فاسٹ بولر عمر گل کے ساتھ ہوئی ہے جنہوں نے بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں شعیب اختر اور محمد سمیع کی کمی کو محسوس نہ ہونے دیا اور شبیراحمد کے ساتھ فاسٹ بولنگ کے شعبے کو سنبھالتے ہوئے 15 وکٹیں حاصل کیں لیکن انہیں اس مرتبہ بھی جبکہ شعیب اختر پہلے دو میچوں میں آئی سی سی کی پابندی کے سبب موجود نہیں ہونگے اور محمد سمیع کی فٹنس بھی مشکوک ہے نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں شامل کرنے کے بجائے بھارت کے محاذ پر بھیجا جارہا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے صاحبزادے کا پاکستان ٹیم میں سلیکشن اس لئے بھی حیران کن ہے کہ وہ قومی کیمپ میں بھی شامل نہیں تھے۔ سلیکشن کمیٹی نے ٹیموں کے انتخاب میں میرٹ کو کتنی اہمیت دی ہے اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انٹرڈپارٹمنٹل کرکٹ میں 5 میچوں میں 36 وکٹیں حاصل کرنے والے وسیم خان اے ٹیم میں بھی جگہ نہیں بناسکے ہیں۔ اسی طرح 28 وکٹیں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ بیٹنگ میں بھی عمدہ پرفارمنس دینے والے آل راؤنڈر رانا نوید الحسن بھی سلیکٹرز کے معیار پر پورا نہیں اترسکے ہیں اور نہ ہی یاسرعرفات کی شاندار کارکردگی سلیکٹرز کو نظر آئی ہے۔ چیف سلیکٹر عامرسہیل اوپنر سلیم الہی کو ٹیم میں واپس لائے ہیں یہ وہی سلیم الہی ہیں جب عامرسہیل کپتان تھے تو ڈریسنگ روم میں ان کے غیض وغضب کا نشانہ بنے تھے اور روتے ہوئے ٹیم چھوڑگئے تھے۔ ورلڈ کپ سے قبل زمبابوے اور جنوبی افریقہ کے دورے میں سلیم الہی کے بلے سے رنز کا سیلاب نظر آیا ورلڈ کپ میں بھی وہ ناکام نہیں رہے لیکن اس کے باوجود وہ ٹیم میں نہ رہے حالانکہ راشد لطیف نے سلیکٹرز کو انہیں ٹیم میں شامل کرنے کے لئے کہا تھا لیکن اسوقت ان کی نہیں مانی گئی اور اب یکایک وہ مسترد سے قابل قبول ہوگئے۔ مڈل آرڈر بیٹسمین مصباح الحق جو بنگلہ دیش اور جنوبی افریقہ کے خلاف کسی ون ڈے میں نہیں کھیلے ون ڈے اسکواڈ میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے کی خراب کارکردگی پر محمد حفیظ ٹیسٹ ٹیم سے بھی باہر کردیئے گئے حالانکہ بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں انہوں نے ایک سنچری اور ایک نصف سنچری اسکور کی تھی۔ اگر وہ تیکنیکی طور پر ناکام رہے تو اس میں کوچ کو بھی بری الذمہ نہیں قرار دیا جاسکتا۔ محمد حفیظ کو انٹرڈپارٹمنٹل کرکٹ مقابلوں میں 400 سے زائد رنز کی شاندار پرفارمنس پر اے ٹیم میں جگہ مل گئی ہے ان کے لئے اعتماد بحال کرنے کا یہ اچھا موقع ہے۔ مگر بہتر ہوتا کہ یونس خان کو بھی اعتماد بحال کرنے کا موقع فراہم کردیا جاتا۔ لیکن کرکٹ کے حلقوں کا خیال ہے کہ وہ راشد لطیف سے قربت کی سزا کے طور پر ٹیم سے باہر کئے گئے ہیں۔ اے ٹیم کا سب سے حیران کن پہلو قیادت کی ذمہ داری شاہد آفریدی کو سپرد کیا جانا ہے جو اس سال ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کے بجائے جنوبی افریقہ میں کرکٹ کھیلنے میں مصروف ہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ’بڑے‘ شاہد آفریدی پر بھی اچانک مہربان ہوگئے ہیں کیونکہ کبھی کرکٹ بورڈ ٹیم سلیکشن کے لئے کرکٹرز کی قومی مقابلوں میں شرکت کو لازمی قرار دے دیتا ہے اور کبھی اپنے ہی قواعد وضوابط کو تبدیل کرکے من پسند کرکٹرز کے لئے راستے بنادیتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||