بصارت کے بنا بھی تعلیم ممکن ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پچیس برس کی عمر والے عاقل سجاد بینائی سے تو محروم ہیں لیکن اپنی اس معذوری کے باوجود بھی وہ بہت سے نوجوانوں کے لیے ایک مثال ہیں۔ امریکہ کی ہاورڈ یونیورسٹی سے فزکس کے مضمون میں پی ایچ ڈی کرنے والے اس نوجوان نے اپنے پسند کے مضمون میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ بصارت سے محروم یہ نوجوان ان دنوں چھٹیوں پر اسلام آباد میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب ان کی عمر دس سال تھی تو ان کی ایک آنکھ کی بینائی ’سٹکلرز سینڈروم، نامی بیماری سے چلی گئی۔ اس وقت انہوں نے بہت سے ڈاکٹروں سے رابطہ کیا اور بہت سے ٹیسٹ بھی کرائے اور انہیں پتہ چلا کہ ان کی دوسری آنکھ سے بھی بینائی جانے والی ہے۔ لیکن ان کے مطابق ڈاکٹروں نے ان کی دوسری آنکھ کا آپریشن کیا جس سے وہ چھ برس تک دیکھنے کے قابل ہوگئے۔ جب ان کی عمر سولہ سال ہوئی اور ایف ایس سی میں پڑھ رہے تھے اس وقت مکمل بینائی کھو بیٹھے۔ جس سے ان کے مطابق انہیں بہت بڑا دھچکا لگا۔ انہیں ایک اور دھچکا اس وقت لگا جب فیڈرل بورڈ نے بینائی سے محروم طالبعلموں پر سائنس کے مضامین میں تعلیم حاصل کرنے پر پابندی عائد کردی۔ ان کے مطابق اس دوہرے صدمے میں والدہ نے خاصا ساتھ دیا اور حوصلہ افزائی کرتی رہیں اور وہ ’ایف اے، کرنے میں کامیاب ہوئے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایف اے کے امتحان میں بورڈ میں وہ دوسرے نمبر پر آئے لیکن ان کے بقول انہیں اس کی زیادہ خوشی نہیں ہوئی کیونکہ وہ فزکس میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ایف اے کے بعد انہوں نے اسلام آباد سے ہی ’بی بی اے، کی ڈگری حاصل کی اور اس تمام عرصے کے دوران انٹرنیٹ اور میڈیا کی مدد سے اس تلاش میں رہے کہ وہ فزکس میں اعلیٰ تعلیم کس طرح حاصل کر سکتے ہیں۔ آخر کار ان کی جستجو رنگ لائی اور انہیں پتہ چلا کہ اوریگن سٹیٹ یونیورسٹی امریکہ میں ایک ایسا نظام تیار کیا جا چکا ہے جس کے تحت بینائی سے محروم طالبعلم بھی فزکس میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ جان کر انہیں بے حد خوشی ہوئی۔ ان کے مطابق جس پروفیسر نے یہ سسٹم تیار کیا تھا وہ بھی بینائی سے محروم تھے۔ عاقل سجاد اعلیٰ تعلیم کے لے امریکہ چلے گئے اور اوریگن یونیورسٹی سے گریجویشن کے بعد ہاورڈ میں پی ایچ ڈی کے لیے داخلہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ فزکس میں پی ایچ ڈی کے لیے داخلہ ملنے سے انہیں اپنی منزل کی طرف ایک راستہ مل گیا۔ ان کی اعلیٰ تعلیم کے تمام اخراجات ہاورڈ یونیورسٹی برداشت کر رہی ہے۔ ان کے مطابق وہ اپنی کلاس میں بینائی سے محروم واحد طالبلعم ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکہ کی اس یونیورسٹی کا ماحول بڑا مددگار ہے اور انہیں اپنی اس بڑی محرومی کا کوئی زیادہ احساس نہیں ہوتا۔ عاقل سجاد کہتے ہیں کہ ان کی کوشش ہوگی کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد پاکستان آئیں لیکن انہیں بعض خدشات بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تاحال پاکستان میں خصوصی افراد کے لیے حالات کچھ زیادہ سازگار نہیں ہیں۔ اس نوجوان کو تعلیم کے علاوہ سیاست اور کرکٹ میں بھی کافی دلچسپی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ روزانہ دو تین پاکستانی اخبار انٹرنیٹ کی مدد سے ضرور پڑھتے ہیں۔ کرکٹ کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ امریکہ میں یہ کھیل زیادہ مقبول نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ کرکٹ کو مس کرتے ہیں۔ عاقل سجاد نے بتایا کہ نابیناپن ختم کرنے کے لیے دنیا میں تحقیق ہو رہی ہے اور حال ہی میں ایک امریکی ڈاکٹر نے انہیں بتایا تھا کہ شاید آئندہ پانچ سے دس برسوں تک کوئی ایسی چپ ایجاد ہو جائے جس کی مدد سے بصارت سے عاری افراد دیکھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بینائی سے محروم لوگ اگر کوشش اور ہمت کریں تو سب کچھ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ محرومی انسان کے اندر نہیں بلکہ ان کے رویوں اور سوچ میں ہوتی ہے۔ دوران گفتگو انہوں نے پاکستان میں خصوصی یعنی معذور لوگوں کے لیے سہولتیں نہ ہونے کا ذکر کیا اور کہا کہ اس ضمن میں حکومت کو بہت کچھ کرنا اب بھی باقی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ خصوصی افراد کے لیے مطلوبہ سہولیات کی فراہمی میں وسائل رکاوٹ نہیں ہیں بلکہ حکومتی ترجیح اور توجہ کی کمی ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ پاکستان میں کوئی دفتر ہو یا رہائشی عمارت،گاڑیوں کی پارکنگ ہو یا کوئی اور مقام، وہاں خصوصی افراد کے لیے مخصوص جگہ مقرر کی جائے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے ان لوگوں کی جہاں حوصلہ افزائی ہوگی وہاں ان کے لیے معاشرے میں احترام بھی پیدا ہوگا اور خصوصی افراد معاشرے یا حکومت پر کبھی بوجھ نہیں بنیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||