ہمت ہارنا نہیں سیکھا: یونس خان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یونس خان کی بیٹنگ میں انضمام الحق یا یوسف یوحنا جیسی روایتی خوبصورتی نہ سہی مگر وہ رنز بنانے کے فن سے بخوبی آشنا ہیں۔ انتہائی جارحانہ انداز میں بعض اوقات غیر روایتی اسٹروکس کھیلتے ہوئے وہ حریف بولنگ کو تتربتر کردیتے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ناکامی میں انہوں نے ہمت ہارنا نہیں سیکھا۔ موہالی ٹیسٹ کو نکال کر ان کے کریئر پر نگاہ ڈالیں تو وہ ایک چاق و چوبند فیلڈر کے طور پر کیچ لینے اور گیند پر لپکنے میں پیچھے نہیں رہتے۔ تجربات پر مائل پاکستانی کوچ باب وولمر انہیں وکٹ کیپر کے طور پر بھی آزما چکے ہیں۔ بھارت کے دورے سے قبل جب انہیں نائب کپتان بنایا گیا تھا تو کچھ حلقوں نے یہ کہہ کر اس فیصلے کی مخالفت کی کہ ٹیم میں یونس خان کی جگہ نہیں بنتی حالانکہ سری لنکا کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں سنچری اور پھر آسٹریلیا کے دورے میں42 ،87،46 اور44 رنز کی اننگز انہیں ناکام بیٹسمین ثابت نہیں کرتی تھیں۔ موہالی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں بری طرح ناکامی کے بعد ناقدین نے دوبارہ قلم تیز کردیئے تھے جس کا جواب یونس خان نے کولکتہ ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں سنچری سے دیا۔ بدقسمتی سے دوسری اننگز میں صفر پر آؤٹ ہونے سے اس کے لئے بنگلور میں اپنے آپ کو منوانا بہت ضروری ہوگیا تھا۔ چناسوامی اسٹیڈیم میں وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی اننگز کھیلنے میں کامیاب ہوگئے۔ یونس خان کا کہنا ہے کہ وہ کبھی بھی ہمت نہیں ہارے۔ اس کی تربیت انہیں اپنے والد سے ملی ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کو مثبت سوچ کے ساتھ گزارنا سیکھا ہے۔ انہیں کبھی منفی تنقید سے پریشانی نہیں ہوئی بلکہ اس کے نتیجے میں وہ اپنی کارکردگی سے اس کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
عمران خان ان کے آئیڈیل کھلاڑی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان حال ہی میں یونس خان کے لئے کہہ چکے ہیں کہ ان میں مستقبل میں کپتان بننے کی صلاحیت موجود ہے کیونکہ وہ فائٹر کھلاڑی ہیں۔ وہ اپنی کرکٹ سے لطف اٹھا رہے ہیں جو صرف ان کے لئے اور ان کے ملک کے لئے ہے۔ یونس خان اپنے اولین ٹیسٹ میں سنچری بنانے کے بعد سے وہ کئی اہم مواقعوں پر کئی خوبصورت اور یاد رکھے جانے والی اننگز کھیل چکے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ پاکستانی ٹیم میں مستقل جگہ بنانے کی تگ ودو میں مصروف نظر آتے ہیں۔ 2001 میں انگلینڈ کے خلاف لارڈز اور اولڈ ٹریفرڈ ٹیسٹ میں نصف سنچریوں کے باوجود انہیں بنگلہ دیش کے خلاف ملتان ٹیسٹ میں ڈراپ کر کے فیصل اقبال کو ٹیم میں شامل کرلیا گیا۔ اس کے بعد بھی ان آؤٹ کا سلسلہ یونس خان کے ساتھ جاری رہا ہے۔ گزشتہ سال زمبابوے کے خلاف پشاور ون ڈے میں بحیثیت اوپنر اور وکٹ کیپر کی حییثت سے کھیلتے ہوئے انہوں نے مین آف دی میچ ایوارڈ حاصل کیا۔ سری لنکا کے خلاف کراچی ٹیسٹ کی سنچری نے یونس خان کے اعتماد کو پھر سے بحال کیا اور پھر آسٹریلیا کے دورے میں وہ کوئی سنچری کے بغیر چند اچھی اننگز کھیلنے میں کامیاب رہے جن میں میلبرن میں87 رنز کی اننگز نمایاں تھی۔ والد کے انتقال کے سبب وہ سہ فریقی ون ڈے سیریز نہ کھیل سکے اور انہیں وطن واپس آنا پڑا۔ بھارت کے خلاف دو سنچریوں نے یونس خان کو ذہنی طور مزید مضبوط کر دیا ہے اور وہ کارکردگی کے اس سلسلے کو جاری رکھنے کے لئے بے چین نظر آتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||