BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 December, 2005, 23:06 GMT 04:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اہلکاروں میں جھگڑا، سرحدی چوکی بند

پاک افغان سرحد
چمن اور سپین بولدک کے مابین روزانہ پندرہ سو سے دو ہزار افراد سرحد عبور کرتے ہیں۔
پاک افغان سرحد پر دونوں ممالک کے اہلکاروں کے مابین کشیدگی کے بعد ہر قسم کی ٹریفک اور آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کے سرحدی شہر چمن اور افغانستان کے سرحدی شہر سپین بولدک کے درمیان دوستی گیٹ پر دونوں ممالک کے نیم فوجی دستوں کے اہلکار گزشتہ روز الجھ پڑے جس پر افغان فوجی پاکستانی اہلکار صوبیدار گل دراز کو اسلحے کی نوک پر ساتھ لے گئے۔

فرنٹیئر کور کے ترجمان کرنل حسن نے کہا ہے کہ افغان فوجی سفری کاغذات کے بغیر پاکستان کی حدود میں داخل ہونا چاہتا تھا جسے پاکستانی اہلکاروں نے روکا تو وہ الجھ پڑا۔اس دوران گرما گرمی ہوئی تو پاکستانی اہلکار دھکا لگنے سے افغانستان کی حدود میں داخل ہو گیا جس پر افغان اہلکار انھیں ساتھ لے گئے۔ اس واقعے کے بعد سرحد پر کشیدگی بڑھ گئی۔

کرنل حسن نے کہا ہے پاکستانی اہلکار کو ایک گھنٹے بعد چھوڑ دیا گیا تھا لیکن چمن میں انتظامیہ نے اس رویہ پر سخت احتجاج کیا ہ اور سرحد آج دوسرے روز بھی بند رہی۔

چمن اور سپین بولدک کے مابین روزانہ پندرہ سو سے دو ہزار افراد سرحد عبور کرتے ہیں۔ ان لوگوں کا روزگار دونوں ممالک کے ان سرحدی علاقوں سے وابستہ ہے اور زیادہ تر تاجر ہیں۔

سرحد سے غیر قانونی اشیاء کی سمگلنگ معمول سے ہوتی ہے جن میں گاڑیاں الیکٹرانکس کا سامان کپڑا کھلونے اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔ اس کے علاوہ افغانستان سے پرانا لوہا یا سکریپ بھی پاکستان لایا جاتا ہے جبکہ پاکستان سے روز مرہ استعمال کی کھانے پینے کی اشیاء افغانستان لے جائی جاتی ہیں۔

کرنل حسن نے کہا ہے کہ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے مابین حالات بہتر ہیں لیکن افغان حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے طرف حالات بہتر کریں اور سرحد پر قائم دفتر میں مزید عملہ تعینات کریں۔

انھوں نے کہا ہے کہ جب تک عملہ نہیں بڑھایا جاتا سرحد نہیں کھولی جائے گی۔ انھوں نے کہا ہے کہ افغان حکام نے یقین دلایا ہے کہ سنیچر کی صبح تک عملہ تعینات کر دیا جائے گا اور نظام بہتر ہوگا تاکہ آئندہ اس طرح کا کوئی واقعہ پیش نہ آئے۔

66وانا کے لشکر
ڈھول کی تھاپ پر رقص اور القاعدہ کی تلاش
66صحافت کی چاندی
وانا کے صحافی دنیا کو پل پل کی خبریں دےرہے ہیں
66قبائلی ملک گرفتار
قبائلی ملکوں کےافغان حکومت سےروابط کیوں؟
66قبائلی صحافت
صحافت سے پہلے صحافی کا معیار بلند کرنا ہو گا
اسی بارے میں
فوج کی قبائلیوں سے ڈیل
12 January, 2005 | پاکستان
وانا: دو ’حکومت نواز‘ ہلاک
29 January, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد