انتخابات: التواء کا امکان نہیں، شوکت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز نے مجوزہ بلدیاتی انتخابات ملتوی ہونے کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شفاف اور غیرجانبدار انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام ذرائع استعمال کیے جائینگے۔ کراچی میں گورنر ہاؤس میں پریس بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ حکومت ایسا ماحول بنائی گئی کہ انتخابات خوش اسلوبی سے ہوجائیں۔ کوئی فکر کی بات نہیں تمام جماعتوں کو انتخابات لینے کی آزادی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صوبائی حکومت کو اجازت دی ہے کہ اتخابات میں امن و امن برقرارا رکھنے کے لیے جو بھی وسائل چاہے فراہم کیے جائینگے مگر امن امان ہر صورت میں یقینی بنایا جائے۔ شوکت عزیز نے کہا کہ انتخابات ملتوی ہونے باتیں قیاس آرائیاں ہیں۔ وزیراعظم نے اعلان کیا کہ اندروں ملک یا بیرونِ ملک سے کوئی انتخابات کی آبزرویشن کے لیے آنا چاہے گا تو اس کا خیرمقدم کیا جائیگا۔ ہم دنیا کوبتانا چاہتے ہیں کہ انتخابات شفاف غیر جانبدارارنہ اور امن و امان میں ہوئِے ہیں۔ حکومت جو کرسکتی تھی اس نے کیا۔ سندھ میں تبدیلی کے امکانات کو بھی انہوں نے رد کیا اور کہا کہ سندھ حکومت درست کام کررہی ہے کوئی نگراں وزیر اعلیٰ مقرر نہیں کیا جارہا۔ پیر پگارہ سے ملاقات کے بارے میں شوکت عزیز نے کہا کہ وہ ہمارے اتحادی اور بزرگ ہیں ان سے سیاسی صورتحال، بلدیاتی انتخابات اور حکومت کی کارکردگی پر بات چیت ہوئی ہے۔ کراچی میں امن امان کی صورتحال پر انہوں نے اطمیناں کا اظہار کیا اور کہا کہ کراچی میں امن امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے اس میں مزید بہتری لائی جا رہی ہے۔ موبائیل چھیننے کے واقعات کے بارے میں شوکت عزیز نے بتایا کہ میں نے صوبائی حکومت کو کہا ہے کہ اس ضمن میں ٹاسک فورس بنائی جائے جو اس کی اسٹڈی کرے کہ یہ کیسے چھینے جاتے ہیں ۔ کون چھینتا ہے اور کہاں بیچے جاتے ہیں تاکہ مکمل تدارک کیا جاسکے ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||