شکریہ امریکہ: شوکت عزیز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیراعظم شوکت عزیز نے پاکستان کو ملنے والی امریکی دفاعی امداد کو خطے میں امن کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئےاس پر امریکہ کا شکریہ ادا کیا ہے۔ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر انچیف جنرل جان ابی زید سے بدھ کے روز ملاقات میں وزیراعظم نے کہا کہ امریکی دفاعی امداد سے پاکستان کا روایتی دفاعی نظام مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ حال ہی میں امریکی کانگریس نے پاکستان کو ایک ارب تیس کروڑ ڈالر کی دفاعی امداد دینے کی منظوری دی ہے۔ جبکہ ماہِ رواں میں دونوں ممالک کے دفاع کے شعبے میں تعاون کے مشاورتی گروپ کا اجلاس بھی متوقع ہے جس میں پاکستان ایف سولہ لڑاکا طیارے حاصل کرنے کا معاملہ اٹھائے گا۔ حکام کے مطابق امریکی جنرل نے وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم شوکت عزیز سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دوطرفہ دفاعی تعاون، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور افغانستان کی صورتحال سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکی کمانڈر ایسے وقت میں پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں جب صدر جنرل پرویز مشرف جنوبی امریکہ کے دورے پر ہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف چار دسمبر کو واشنگٹن میں امریکی صدر بش سے ملاقات بھی کرنے والے ہیں۔ گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے ساتھ پاکستان ’فرنٹ لائین سٹیٹ‘ کے طور پر شریک ہے اور یہی وجہ ہے کہ مختلف سطح کے امریکی وفود اور نمائندے کثرت سے پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکی کمانڈر کی آمد سے قبل جہاں القائدہ کے اہم رہنما ایمن الزواہری کا امریکہ کو دھمکیوں کے متعلق تازہ ویڈیو ٹیپ سامنے آیا ہے وہاں القائدہ کے خلاف پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جاری فوجی کارروائی ختم کرنے کے متعلق خبریں بھی شائع ہوئی ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان کے فوجی ترجمان نے ایسی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوجی کارروائی جاری رہے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||