علی سلمان بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور |  |
 |  جمعرات کو ان دو افراد کے قتل سے ہوا جو مینار پاکستان کی گراؤنڈ میں سوئے تھے |
لاہور میں الگ الگ واقعات میں پانچ روز کے دوران پانچ افراد کو ایک ہی انداز میں سر کو بھاری پتھر سے کچل کر ہلاک کر دیا گیا ہے پولیس نے ان ہلاکتوں کو سیریل کلنگ یا سلسلہ وار قتل قرار دے رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی ایک گروہ ملوث ہو سکتا ہے۔ پیر کی صبح ایک شخص کی لاش لوئرمال پر کربلا گامے شاہ کے نزدیک ایک فٹ پاتھ پر پڑی ملی جبکہ اس سے چند فرلانگ کے فاصلے پر ریٹی گن چوک میں ایک شخص شدید زخمی حالت میں ملا، دونوں کے سرکچلے ہوئے تھے اور دونوں کے نزدیک خون آلود اینٹیں پڑی تھیں۔ پولیس کے مطابق حلیے سے دونوں غریب اور بظاہر فٹ پاتھ پر سونے والے لوگ معلوم ہوتے ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ انہیں رات کو سونے کے دوران قتل کیا گیا۔ ملزموں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے اس سے پہلے سنیچر کی صبح یکی دروازے کے نزدیک دو افراد اسی طرح مردہ پائے گئے تھے اور قریب ہی ان کی موت کا سبب بننے والی اینٹیں پڑی تھیں۔ جبکہ ان وارداوتوں کا آغاز جمعرات کو ان دو افراد کے قتل سے ہوا جو مینار پاکستان کی گراؤنڈ میں سوئے تھے اور صبح ان کی خون آلود لاشیں ملی تھیں۔ لاہور کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس انوسٹیگیشن چودھری شفقت احمدنے کہا ہے کہ آج کی واردات کے بعد انہیں یقین ہوگیا ہے کہ یہ سیریل کلنگ ہے اور کسی ایک گروہ کی واردات ہے انہوں نے کہا کہ انہیں اہم شواہد ملے ہیں اور اب وہ زخمی کے ہوش میں آ نے کے انتظار میں ہیں تاکہ کم سے کم وقت میں قاتل تک پہنچا جاسکے۔ لاہور سمیت پنجاب کے چند شہروں میں دو سال پہلے بھی اسی طرح کی سیریل کلنگ کی وارداتیں ہوئی تھیں جن کا نشانہ فٹ پاتھوں یا کھلی جگہوں پر سونے والے غریب لوگ تھے۔ لاہور شیخوپورہ ، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ میں ہونے والی ان وراداتوں میں ایک درجن سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے لیکن پھر یہ وارداتیں رک گئی تھیں۔ حالیہ وارداوتوں کا نشانہ بننے والے افراد بھی چھت کے سائے سے محروم وہ لوگ ہیں جو فٹ پاتھوں اور پارکوں وغیرہ میں سوتے ہیں۔ ڈی آئی جی لاہور طارق سلیم ڈوگر نے کہا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دیدی گئی ہیں۔ |