مغربی بنگال میں سپر سٹور بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال میں مغربی ممالک کی طرز پر بنائے گئے سپر مارکیٹ سٹورز کھولنے والی کمپنی نے حملوں کے بعد اپنے سٹورز بند کر دیے ہیں۔ ریاست میں بائيں بازوں کی جماعتیں اقتدار میں ہیں اور ان کے حامیوں نے گزشتہ پندرہ دنوں ميں ریلائنس ریٹیل (پرچون) کمپنی کے سٹورز پر کئی بار حملے کيے ہیں۔ ریلائنس کے ریٹیل سیکٹر کے ایک نمائندے رگھو پلائی کا کہنا ہے کہ ’سٹورز کمپنی کی جائیداد اور ملازمین کی حفاظت کے لیے وقتی طور پر بند کیے جارہے ہیں‘۔ ریلائنس کمپنی نے پورے مغربی بنگال ميں تقریباً پچاس لاکھ ڈالر کی مالیت والے سو سپرمارکیٹ سٹورز جب کہ تقسیم کے پانچ بڑے اور چودہ ایسے مراکز کھولنے کا منصوبہ بنایا تھا جہاں کسانوں سے سامان خریدا جا سکے۔ حالا نکہ مغربی بنگال میں حکمراں بائيں بازو کی سب سے بڑی جماعت مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی نے ایسے سٹورز کھولنے کی منظوری دے دی تھی لیکن ان کی ایک اتحادی جماعت فارورڈ بلاک حزب اختلاف کے ساتھ مل کر اس منصوبے کی مخالفت کر رہی ہے۔ فارورڈ بلاک نے ریلائنس کمپنی کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ فارورڈ بلاک کے رہنما اشوک گھوش کا کہنا ہے کہ ’یہ مزدورں، کسانوں اور ان چھوٹے تاجروں کی فتح ہے جو زرعی اشیاء کو ریٹیل بازار ميں بیچتے ہیں‘۔ اس منصوبے کی مخالفت کرنے والی حزب اختلاف کی جماعت ترینامول کانگریس کی رہنما ممتا بینرجی کا کہنا تھا ’ریاست کے ایک لاکھ سے زیادہ غریب افراد اپنی زندگی زرعی اشیاء کی ریٹیل بازار میں فروخت سےگزارتے ہیں، ہم ریلائنس جیسی بڑی کمپنیوں کواس شعبے میں آ کر ان کا روزگار نہیں چھیننے دیں گے‘۔
مغربی بنگال کے صنعت کے وزير نروپم سین کا کہنا ہے کہ حکومت اس بحران کا حل تلاش کرنے کی پوری کوشش میں ہے۔ مسٹر سین کا کہنا ہے کہ ’ریلائنس نے اپنا منصوبہ منسوخ نہیں کیا ہے۔ ہمیں اس پریشانی کا حل کرنا ہو گا اور اس کے لیے حکومت پوری کوشش کر رہی ہے‘۔ گزشتہ ہفتے ریاست اتر پردیش کی حکومت نے بھی ریاست میں امن و امان قائم رکھنے کا حوالہ دیتے ہوئے ریلائنس کے تیس سٹورز بند کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ اتر پردیش میں بھی ان سٹورز کے کھلنے پر زبردست احتجاج ہوا تھا اور بعض سٹورز ميں مقامی تاجروں نے لوٹ مار بھی کی تھی۔ ریلائنس کمپنی ممبئی کے صنعت کار مکیش امبانی کی کپمنی ہے۔ کمپنی نے اتر پردیش کے ریٹیل بازار میں بھی تقریباً اسّی ارب روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کر رکھا ہے۔ |
اسی بارے میں بھارت: غیرملکی ریٹیلرزکو اجازت 25 January, 2006 | انڈیا معاشی اور سیاسی تعاون کے سمجھوتے13 September, 2006 | انڈیا انڈین معیشت کو ایڈز سے خطرہ20 July, 2006 | انڈیا انڈین بجٹ پرملا جلا ردعمل28 February, 2006 | انڈیا بھارت: ترقی کی شرح میں اضافہ30 September, 2005 | انڈیا معاشی نمو سات فیصد سے زیادہ30 September, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||