یعقوب میمن کو سزائے موت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انیس سو ترانوے بم دھماکوں کے کلیدی مفرور ملزم ٹائیگر میمن کے بھائی یعقوب میمن کو خصوصی ٹاڈا عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے خاندان کے دیگر تین مجرموں کو عمر قید اور ایک لاکھ روپیہ جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ان میں ایک خاتون بھی شامل ہیں۔ جمعہ کو عدالت نے جب یعقوب میمن کو سزا سنائی تو ایک بار پھر یعقوب نے عدالت میں ہنگامہ کیا۔ یعقوب نے پھانسی کی سزا کا حکم سنتے ہی کہا کہ ’او مائی لارڈ، انہیں معاف کردو کیونکہ یہ نہیں جانتے کہ یہ کیا کر رہے ہیں۔ مجھے یہ کورٹ نہیں چاہیے، مجھے اس پر بھروسہ نہیں ہے۔‘ پولیس کی بڑی تعداد نے، جو عدالت میں پہلے سے یعقوب کو گھیرے ہوئے تھی، یعقوب کو اپنی گرفت میں لے لیا اور جب انہیں سیڑھیوں سے اتارا جانے لگا تو یعقوب نے اپنا سر ٹکرانا شروع کیا۔ عدالت میں موجود ان کے دونوں بھائیوں نے انہیں قابو میں کرنے کی کوشش کی۔ یعقوب میمن چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں۔گزشتہ تیرہ برس جیل میں رہنے کے دوران وہ ’ڈیپریشن‘ کا شکار ہو چکے ہیں اور اس سے قبل بھی انہوں نے کئی مرتبہ عدالتی کارروائی کے دوران رخنہ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔گزشتہ برس جب عدالت نے انہیں مجرم قرار دیا تھا اس وقت بھی انہوں نے عدالت کے فیصلہ کو غلط قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے اور یہ کہ ان کے بھائی ٹائیگر نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ ’تو گاندھی مت بن ورنہ پچھتائے گا۔‘ یعقب میمن پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنا فلیٹ اور گیراج دہشت گرد کارروائی کے استعمال کے لیے دیا تھا اور اس کے علاوہ انہوں نے ممبئی سے فرار ہونے والوں اور دبئی سے پاکستان جا کر تربیت حاصل کرنے والے ملزمین کے لیے طیارہ کا ٹکٹ بک کیا تھا اور انہیں مالی امداد دی تھی۔
یعقوب میمن کی سزا پر سرکاری وکیل اجول نکم نے کہا کہ ’یعقوب کو موت کی سزا ایک مثال ہے اور سماج کے لیے ایک پیغام جاتا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’ٹائیگر میمن جہاں کہیں بھی چھپا ہے اسے اب یہ بات سمجھ میں آگئی ہوگی کہ دہشت گرد کرروائی کی یہی سزا ہے۔‘ ٹاڈا عدالت کے جج پرمود دتاتریہ کوڈے نے جلد عدالتی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے پہلے روبینہ میمن کو طلب کیا۔ روبینہ پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنی ماروتی کار آر ڈی ایکس بھرنے اور دہشت گرد کارروائی کرنے کے لیے دی تھی۔ یہ وہی کار تھی جسے پولیس نے بارہ مارچ کو بم دھماکوں کے بعد سڑک پر لاوارث حالت میں پایا تھا۔ اس میں آر ڈی ایکس کے علاوہ دستی بم بھی تھے۔ اسی کار سے کاغذات برآمد ہوئے اور اسی کی بنیاد پر پولیس روبینہ میمن تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی تھی اور بم دھماکہ کا پردہ فاش ہوا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’انہیں پتہ ہے کہ مسلمان گھرانوں میں عورتوں کا زیادہ اہم رول نہیں رہتا اور وہ اپنی رائے نہیں رکھ سکتی ہیں اس لیے یہ عدالت روبینہ کو عمر قید کی سزا سناتی ہے۔ عدالت اس سے قبل روبینہ کے شوہر سلیمان کو ناکافی ثبوت کی وجہ سے بری کر چکی تھی۔‘ عدالت نے ٹائیگر میمن کے دو بھائیوں عیسیٰ اور یوسف میمن کو عمر قید کی سزا اور ایک ایک لاکھ روپیہ جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس سے معصوم لوگوں کی جانیں جائیں گی دہشت گردانہ کارروائی کے استعمال کے لیے اپنا فلیٹ اور گیراج دیا تھا اور پھر دھماکوں سے قبل ممبئی چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔ سی بی آئی کے مطابق سن ترانوے بم دھماکوں کی سازش کے اہم ملزم ٹائیگر میمن تھے۔ ماہم میں واقع الحسینی بلڈنگ میں ان کے فلیٹ اور گیراج میں گیارہ مارچ کی رات گاڑیوں میں آر ڈی ایکس بھرے گئے اور سب کام مکمل کرنے کے بعد پورا خاندان دبئی کے لیے روانہ ہو گیا۔ ٹائیگر میمن کی فیملی کو چھوڑ کر ان کے تین بھائی، ان کی بیویاں اور ان کے والدین نے انیس سو چورانوے کو خود سپردگی کر دی۔اس دوران ٹائیگر کے والد عبدالرزاق میمن کا انتقال ہو چکا ہے۔ان کی والدہ حنیفہ اور یعقوب میمن کی بیوی راحینہ کو عدالت نے بری کر دیا۔ آج دی گئی سزا کے ساتھ ہی اس مقدمے میں پھانسی پانے والے مجرموں کی تعداد بارہ ہو چکی ہے اور اب تک بیس مجرموں کو عدالت نے عمر قید کی سزا دی ہے۔ فلم سٹار سنجے دت کی قسمت کا فیصلہ اب اکتیس جولائی کو ہوگا۔ دت کو عدالت نے آج حاضر رہنے کا حکم دیا تھا۔ دت پر اب صرف غیر ممنوعہ علاقہ میں اسلحہ رکھنے کے مجرم ہیں۔ |
اسی بارے میں ممبئی دھماکے، چار سپاہیوں کو سزا21 May, 2007 | انڈیا 93 دھماکے: اسلحہ اتارنے والوں کوسزا 24 May, 2007 | انڈیا سنجے دت: سزا پر فیصلہ مؤخر25 May, 2007 | انڈیا 93 دھماکے: کسٹم افسران کو سزا 29 May, 2007 | انڈیا 1993 دھماکے: ’میڈیاسےدور رہیں‘14 June, 2007 | انڈیا ٹاڈا قانون کے تحت فیصلے چیلنج 19 June, 2007 | انڈیا 1993 دھماکے: عرضی مسترد12 July, 2007 | انڈیا ممبئی دھماکے، مزید تین کو سزائے موت19 July, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||