انڈیا:اڑتالیس فیصد ملک چھوڑنا چاہتے ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کارگل کے نئے حقائق کارگل کی لڑائی کو ہندوستان میں عموماً ملٹری انٹیلیجنس اور خفیہ اداروں کی ایک بڑی ناکامی تصور کیا جاتا ہے ۔اس سلسلے میں تحقیقاتی کمیشن وغیرہ بھی بنائےگئے تھے لیکن کمیشن نے فوجی غفلت کے لیئے کسی فرد واحد کو ذمہ دار قرار دینے کے بجائے ایک عمومی رپورٹ دی تھی اور اس میں بنیادی طور پر مستقبل کے لیئے احتیاطی اقدامات پر زیادہ توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب کـچھ نئی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔اس وقت کے فضائیہ کے سربراہ اے وائی ٹپنس نے ایک انٹرویو میں کارگل کی صورتحال پر قابو پانے کےلیے بری فوج کے طریقہ کار پر نکتہ چینی کی ہے ۔ انہوں نے کہا ہے بری فوج اور فضائیہ میں رابطے کی شدید کمی تھی۔ سابق ایئر چیف مارشل ٹپنس نے کہا کہ فوج نے پاکستانی حملے اور پیش رفت کے بارے میں وزارت دفاع کو بہت تاخیر سے خبر دی۔ انہوں نے اس انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ صورتحال انتہائی نازک تھی۔ فوج کو پاکستانی حملے کو پسپا کرنے کے لیئے فضائیہ کی مدد چاہیئے تھی لیکن فضائیہ کی کارروائی کے لیئے وزارت دفاع کی منظوری چاہیئے۔ یہ ممکن نہ ہوا کیونکہ فوج اس وقت وزارت کو صورتحال کی سنگینی کے بارے میں بتانا نہیں چاہتی تھی۔ فصائیہ کے سابق سربراہ کے مطابق پوری صورتحال کے بارے میں فوج کی تینوں شاخوں کو کوئی مشترکہ بریفنگ بھی نہیں دی گئی تھی۔انہوں نے بتایا ہے کہ ایک مشترکہ میٹنگ سے اس وقت کے فوج کے سربراہ جنرل وی پی ملک غصے میں اٹھ کر چلے گئے تھے۔ صدر مشرف کی کتاب ہندی میں صدر پرویز مشرف کی کتاب ’ان دا لائن آف فائر‘ ہندوستان میں ’اگنی پتھ‘ کے نام سے ہندی میں شائع ہو گئی ہے۔ ہندی میں اس کتاب کی خصوصیت یہ کہ اس میں کارگل کے باب میں پہلی بار اس لڑائی میں ہلاک ہونے والے پاکستانی فوجیوں کی تعداد بتائی گئی ہے ۔ صدر مشرف کارگل کی لڑ ائی کے وقت پاکستانی فو ج کے سربراہ تھے ۔ انہوں نے لکھا ہے کہ اس لڑائی میں مجموعی طور پر 357 فوجی ہلاک اور 665 زخمی ہوئے تھے ۔ انہوں نے لکھا ہے کہ جنگ بندی سے پہلے ہمارے 157 فوجی شہید اور 250 زخمی ہوئے۔ فوج کی واپسی کے دوران ہمارے 250 فوجی شہید 415 زخمی ہوئے ۔‘ ہندوستان میں ملٹری انٹیلیجنس کے اندازوں کے مطابق یہ تعداد تقریباً گیارہ سو تھی۔ ہندوستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل وی پی ملک نے کارگل پر اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ 270 پاکستانی فوجیوں کو ہندوستانی علاقے میں دفن کیا گیا ہے ۔ ہندوستان کے ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد سرکاری طور پر 522 بتائی جاتی ہے ۔ سچائی شاید صرف اس وقت کے دونوں جانب کے جنرلوں کو ہی پتہ ہے۔ ہندوستانی فضائیہ کی پریشانی حال میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان ایف 16 جنگی طیاروں کی فراہمی کے معاہدے کے بعد ہندوستانی فضائیہ پریشانی میں پڑ گئی ہے۔ فضائیہ کے سربراہ کی طرف سے وزیر دفاع کو لکھا گیا ایک خط گزشتہ دنوں سامنے آیا ہے جس میں ایئر چیف مارشل نے کہا ہے کہ اگر فضائیہ کے لیئےمطلوبہ جدید ترین جنگی طیارے اور لائٹ کمبیٹ ایئر کرافٹ وغیرہ فوری طور پر نہیں حاصل کیے گئے تو پاکستانی فضائیہ پر ہندوستانی برتری ختم ہوجائے گی۔ فضائیہ کے سربراہ کے خط میں کہا گیا ہے کہ نئےطیارے اور دوسرے ساز و سامان نہ حاصل کیے جانےاور ہر مہینے مگ تربیتی طیاروں کے تباہ ہونے کے سبب فضائیہ کے سکوارڈنوں کی تعداد 40 سے گھٹ کر 34 ہو گئی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہی صورتحال قائم رہی تو اگلے سال تک صرف 30 سکواڈرن ہی بچیں گے۔ ایک سکواڈرن میں عموماً 22 جنگی طیارے ہوتے ہیں ۔ فضائیہ دفاعی تحقیق کے ادارے ڈی آرڈی او سے بھی ناخوش ہے جو ایک بھی پروجیکٹ وقت پر پورا نہیں کر سکا ہے۔ فضائیہ نے بعض میزائلوں اور دیگر ساز و سامان کے لیئے اب اسرائیل سے رابطہ قائم کیا ہے ۔ ہندوستان اسوقت ایشیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت ہے لیکن غربت اب بھی اس کے ایک ترقی یافتہ ملک بننے کی راہ میں حائل ہے۔اس کے لیئے ہندوستان کی معیشت کو دس فی صد کی رفتار سے آگے بڑھنا ہوگا۔اس وقت یہ شرح آٹھ فی صد ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ دس فی صد کے نشانے کو حاصل کیا جا سکتا ہے اگر مینیو فیکچرنگ اور زرعی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے۔انہوں نے ہفتے کے روز کہا کہ سڑک، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کو بہتر بنانے اور بجلی کی پیداوار بڑھانے پر تقریباً 320 بلین ڈالر خرچ کیے جانے ہیں۔ بنیادی ڈھانچوں کی ترقی کا یہ عمل ملک کی معیشت کے لیے بقول ان کے انقلاب ثابت ہوگا۔اس وقت ملک میں شمال سے جنوب تک اور مشرق سے مغرب تک نئی شاہراہیں تعمیر کی جا رہی ہیں اور پندرہ بین الاقوامی ہوائی اڈوں سمیت پچیس سے زیادہ ہوائی اڈوں کو بین الاقوامی میعار کا بنایا جا رہا ہے ۔ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور نت نئی شکل میں بموں کے استعمال سے سفر بالخصوص فضائی سفر میں طرح طرح کی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ کچھ عرصے سے مذہبی مقامات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ہندوستان کے اہم مندروں میں حفاطتی انتظامات سخت کر دیئے ہیں۔ خفیہ اداروں کی اطلاعات کے بعد بنارس کے سب سے اہم مندر گیان واپی کاشی وشوناتھ مندرمیں نہ صرف سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے بلکہ وہاں مندر کے احاطے میں پن یا قلم لے کر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ان مندروں میں عقیدت مندوں کو عبادت کے لیے جانے سے پہلے میٹل ڈیٹیکٹراور جامہ تلاشی کے عمل سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ ہندوستان کی مقبولیت گزشتہ دنوں ملک کے سرکردہ اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ نےملک کے کئی مقامات پر ایک سروے کیا۔اس سروے کے مطابق اگر انتحاب کا موقع دیا جائے تو باون فیصد شہری ملک میں ہی رہنا جاہیں گے جبکہ 48 فی صد غیر ممالک جانا چاہیں گے لیکن دلی واحد شہر تھا جہاں کےنوے فی صد شہری یہیں رہنا چاہتے ہیں۔ سروے کے مطابق ممبئی کے وہ شہری جو دوبارہ ہندوستانی کےطور پر ہی جنم لینا چاہتے ہیں ان میں سے چالیس فی صد شہری ملک کی تیز رفتار اقتصادی ترقی کی وجہ سے دوبارہ یہاں جنم لینا چاہیں گے۔ جو لوگ دوسرے جنم میں غیر ممالک میں پیدا ہونا پسند کریں گے ان میں صرف عیسائی ایسے تھے جو صد فی صد دوسرے جنم میں بھی عیسائی رہنا پسند کریں گے جبکہ دوسرے جنم میں بھی اپنے موجودہ مذہب پر قائم رہنے کے معاملے میں ہندوؤں میں یہ فیصد 78 سکھوں میں 86 اور مسلمانوں میں 60 تھا ۔ |
اسی بارے میں مصوری، شاہی شادی اور صدر بش کے کھانے 19 February, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: ایک لاکھ روپے کی کتاب۔۔۔۔05 March, 2006 | انڈیا دلی میں ڈاکٹروں کی ہڑتال 25 May, 2006 | انڈیا منموہن سنگھ کی مقبولیت 28 May, 2006 | انڈیا پتھر کے لنگور، مون سون، لڑکی ہونے کا فائدہ!03 June, 2006 | انڈیا ناخواندہ بچے، ہری بھری دلّی اور وی آئی پی سکیورٹی11 June, 2006 | انڈیا وزیراعظم کے بھائی کو کیوں پکڑا گیا؟27 August, 2006 | انڈیا علماء کی چاندی اور بالی وڈ کی کامیابی 03 September, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||