باربرا کی دوستی، قطرینہ کا میک اوور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
باربرا کی دوستی رتیک روشن فلم ' کائٹ ' کے سیٹ پر زخمی ہو گئے۔ایک سین فلمانے کے دوران وہ گر پڑے اور کانچ کے ٹکڑے ان کے ہاتھوں میں دھنس گئے۔ خون نکلنے لگا۔پورا یونٹ گھبرا گیا۔رتیک کو فورا ہسپتال لے گئے۔ہسپتال لے جانے اور ٹانکے لگانے تک اگر کوئی ان کے پاس کھڑا تھا تو وہ تھیں، ان کی بیوی سوزن۔۔۔۔نہیں بھئی وہ تو پیرس میں تھیں۔اور ان کی جگہ لے لی تھی سپین کی مشہور اداکارہ باربرا موری نے۔ ویسے بتا دیں کہ فلم ' کائٹ ' راکیش روشن کی ہوم پروڈکشن میں بننے والی فلم ہے اور باربرا اس میں ایک اہم رول کر رہی ہیں۔خیر جب سے باربرا ممبئی آئی ہیں ان کی رتیک کے ساتھ دوستی کے چرچے عام ہیں۔رتیک ان کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ فلم میں محبت کے مناظر کرنے کے لیے رتیک نے پاپا روشن کو سیٹ سے باہر بھیج دیا تھا۔وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔آپ کو کیا لگتا ہے؟ منوج بنے پرینکا چوپڑہ دہلی میں فلم ’جوگاڑ ‘ کی شوٹنگ ہو رہی تھی۔ہدایت کار کو فلم کا ایک منظر فلمانا تھا جس میں دہلی کی بھیڑ چاہئے تھی۔اب اگر کوئی بالی وڈ ہیروئین شوٹنگ کر رہی ہو تو بھیڑ کو قابو کرنا مشکل ہوتا ہے لیکن اگر وہاں آپ منوج باجپائی کو دیکھیں گے تو شاید دس لوگ بھی اکٹھے نہ ہوں۔ ہدایت کار سندیپ کو ایک لاجواب آئیڈیا سوجھا۔انہوں نے یہ خبر پھیلا دی کہ فلم کی شوٹنگ پرینکا چوپڑہ کے ساتھ ہو گی۔بس یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی اور منٹوں میں سیکڑوں لوگ جمع ہو گئے۔فلم کی شوٹنگ مکمل ہو گئی تب جا کر منوج نے لوگوں سے کہا کہ میں ہی پرینکا ہوں۔۔۔۔۔۔
فرحان کا لک سالگرہ پارٹی کا شور پریتی زنٹا کے گھر رات دو بجے کھار پولیس سٹیشن سے آئے سپاہیوں نے دستک دی۔پریتی کے گھر شاہ رخ خان، فرح خان سمیت کئی اداکار موجود تھے۔پریتی اپنی چونتیسویں سالگرہ منا رہی تھی۔پارٹی شباب پر تھی کہ پولیس نے دستک دے دی۔انہوں نے پریتی کو بتایا کہ ان کی بلڈنگ کے اطراف بسے جھوپڑا بستی کے لوگوں نے شکایت کی ہے کہ ان کے گھر میں پارٹی کی وجہ سے ان کی نیند حرام ہو گئی ہے۔پارٹی میں موجود ستارے یہ سن کر ششدر رہ گئے۔بے بی اس میں حیرت کی کیا بات ہے۔جب آپ محفلوں میں کھلے عام غریبوں کے مفاد کی باتیں کرتی ہو تو پھر ان غریبوں کا واقعی میں خیال بھی تو رکھنا چاہئے نا۔ قطرینہ کا میک اوور پرکشش ماڈرن قطرینہ اب اپنی آنے والی فلم راج نیتی میں ایک عام ہندستانی لڑکی کا رول کریں گی۔ہدایت کار پرکاش جھا کی فلم میں کام کرنے کے لیے انہیں ہندستانی لڑکی کے اطوار کی تربیت دی جارہی ہے۔لوگوں کا تو کہنا ہے کہ وہ اپنا لب و لہجہ بھی درست کر رہی ہیں۔۔۔۔لب و لہجہ ۔۔۔۔ہو ہی نہیں سکتا بھئی جب وہ اچھی طرح سے ہندی ہی نہیں بول سکتی ہیں اور ان کے مکالمے آج بھی ڈب کیے جاتے ہیں تو پھر۔۔۔۔۔ویسے ہم سب مانتے ہیں کہ قطرینہ بہت محنتی ہیں لیکن ہندی وہ آج بھی برطانوی انداز میں بولتی ہیں ویسے ایک مزے کی بات بتائیں آپ کو انہیں ہندی سکھاتے سکھاتے سلمان اپنی ہندی بھول گئے اور انہی کے انداز میں انگریزی بولنے لگ گئے۔ سٹائل آئیکون بالی وڈ میں اگر کسی ہیرو کو سٹائل آئیکون مانا جاتا ہے تو وہ ہے سلمان خان لیکن اب رفتہ رفتہ عامر خان کا سٹائل لوگوں میں مقبول ہوتا جا رہا ہے۔ان کی فلم گھجنی میں ان کا ہیئر سٹائل بے انتہا مقبول ہوا لیکن مفلر پہننے کی نقل تو اب اکشے کمار اور شاہ رخ خان بھی کر رہے ہیں۔عامر نے فلم فنا میں مفلر پہنا اس کے بعد اکشے ان کے نقش قدم پر چلے اور اب شاہ رخ اُدھر کئی پارٹیوں میں گلے میں مفلر لپیٹے نظر آتے ہیں۔
دسمبر میں عامر حالانکہ عامر خان نے دو سال قبل وعدہ کیا تھا کہ وہ سال میں دو فلمیں ضرور کریں گے لیکن نہیں انہوں نے اپنی روایت قائم رکھی ہے یعنی سال میں ایک ہی فلم اور اب تو دوسری روایت بھی قائم کر دی فلم کی نمائش دسمبر میں۔۔۔ان کی فلم تارے زمیں پر سن دو ہزار سات میں دسمبر میں ریلیز ہوئی اس کے بعد گھجنی بھی سن دو ہزار آٹھ کے دسمبر مہینے میں اور اب ان کی فلم ' تھری ایڈیٹس ' بھی دسمبر میں ہی پیش ہو گی۔ ویسے فلمی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ دسمبر عامر کے لیے لکی ہے اور اس مہینے میں ریلیز ہونے کی وجہ سے شاید فلمیں باکس آفس پر دھوم مچاتی ہیں۔کیا واقعی یہی وجہ ہے؟ اب آپ توہم پرستی کا کیا علاج کر سکتے ہیں۔۔۔۔ گالیاں کھا کے۔۔۔۔۔ فلم چاندنی چوک ٹو چائنا کے کہانی کار سری راگھون آج کل بہت پریشان ہیں ان کا کہنا ہے کہ آج کل وہ کھانا نہیں کھاتے کیونکہ ان کا پیٹ گالیاں کھا کر ہی بھر جاتا ہے۔راگھون کا کہنا ہے کہ ان کی کہانی تو ٹھیک تھی لیکن ہدایت کار نکھل ایڈوانی نے اسے مزاحیہ بنانے کے چکر میں پوری طرح بدل ڈالا جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ویسے راگھون جی آپ کوگالیاں ملی ہیں لیکن اکشے کو تو فلمی کمپنیوں نے ان کی فیس نصف سے بھی زیادہ کم کرنے کا ' حکم ' صادر کو دیا ہے۔ہوتا ہے بھئی اسے ہی تو قسمت کا کھیل کہتے ہیں۔ انیل اور کونکنا کے پرستار انیل کپور اور کونکنا سین آج کل خود کو ’ساتویں آسمان‘ پر محسوس کر رہے ہیں۔انیل کپور اس لیے نہیں کہ ان کی فلم سلم ڈاگ ملینئیر کو آسکر ایوارڈ میں نامزدگی ملی بلکہ اس لیے کہ اس فلم میں ان کی کام کی تعریف شہنشاہ جذبات اداکار دلیپ کمار نے کی۔ادھر کونکنا سین خوشی سے پھولے نہیں سما رہی ہیں کیونکہ فلم لک بائی چانس میں ان کے کام کی تعریف رشی کپور نے کی ہے۔کونکنا کے نزدیک یہ ان کی زندگی کا اب تک کا سب سے بڑا ایوارڈ ہے۔ |
اسی بارے میں کرینہ کا بوسہ اور سری دیوی کا انکار29 July, 2008 | فن فنکار بم دھماکوں اور تشدد پر فلمیں05 September, 2008 | فن فنکار امیتابھ بچن نے معافی مانگ لی11 September, 2008 | فن فنکار وادی میں شوٹنگ اور ملکہ بیمار29 September, 2008 | فن فنکار کونکنا کیوں ہم حنس پرست بننا چاہتی ہیں؟25 November, 2008 | فن فنکار پاکستانی فنکاروں کو دھمکی 05 December, 2008 | فن فنکار ڈیڑھ ہزار عامر اور دو لاکھ کے باؤنسر!15 December, 2008 | فن فنکار شاہ رخ ایک پاور فل شخصیت22 December, 2008 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||