امیتابھ بچن نے معافی مانگ لی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی وڈ میں صدی کے شہنشاہ اداکار کہلانے والے امیتابھ بچن نے بھی اپنی بیوی جیا بچن کی جانب سے ہندی میں تقریر کرنے کے معاملہ میں مہاراشٹر اور اس کے مراٹھی عوام سے معافی مانگ لی۔ ممبئی میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جیا نے جان بوجھ کر کچھ نہیں کہا۔ جو کچھ کہا وہ ایک ہلکے پھلکے ماحول میں کہا گیا تھا لیکن اگر اس سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو انہیں اس کا افسوس ہے اور وہ اپنی بیوی کی جانب سے معافی کے طلب گار ہیں۔ بچن نے کہا کہ اب یہ معاملہ نظم و نسق کا بن چکا ہے۔ ’حکومت اس معاملہ کی تفتیش کر رہی ہے۔ ریاستی وزیر داخلہ آر آر پاٹل کی نگرانی میں اس پورے معاملہ کی جانچ کی جا رہی ہے اور اگر وہ خطا وار پائے جاتے ہیں اور قانون کے مجرم قرار دیے جاتے ہیں تو وہ سزا کے لیے بھی تیار ہیں۔‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ راج ٹھاکرے ان کے بھائی ہیں اور وہ ان کی عزت کرتے ہیں اور راج نے بھی ان کی بہت عزت کی ہے۔ امیتابھ بچن نے بدھ کو اپنے بلاگ میں بھی لکھا تھا کہ وہ یا ان کے خاندان کا کوئی بھی فرد مہاراشٹر یا مراٹھیوں کی بے عزتی کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ وہ آج جو کچھ بھی ہیں اسی شہر اور اسی ریاست کی وجہ سے ہیں۔انہوں نے لکھا کہ وہ اس وقت لندن میں تھے جب انہیں اس ہنگامہ کی اطلاع ملی اور وہ اس کے بعد کئی راتیں سو نہیں سکے۔
بدھ کو ممبئی شہر کے ایک ملٹی پلیکس میں امیتابھ بچن کی انگریزی میں بنی فلم ’دی لاسٹ لیئر‘ کا پریمیئر ہونے والا تھا لیکن اس سے قبل صبح ہی علاقائی سیاسی جماعت مہاراشٹر نو نرمان سینا کے ورکروں نے وہاں توڑ پھوڑ شروع کر دی۔ اس کی وجہ سے فلم کا پریمیئر منسوخ کر دیا گیا اور اس کی جگہ پریس کانفرنس طلب کی گئی جس میں امیتابھ بچن نے معافی مانگی۔ نو نرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے نے امیتابھ کی بیوی جیا بچن کی جانب سے ہندی میں بولنے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے دراصل مراٹھی زبان اور مہاراشٹر کے لوگوں کی بے عزتی کی ہے۔ٹھاکرے نے دھمکی دی ہے کہ جب تک جیا بچن سب کے سامنے معافی نہیں مانگتیں، ان کے خاندان کی کوئی بھی فلم نمائش کے لیے پیش نہیں کی جائے گی۔ اس وقت سے شہر میں توڑ پھوڑ جاری ہے۔ اس دوران ریاستی وزیر داخلہ پاٹل نے اس ٹیپ کی جانچ شروع کر دی ہے جس میں جیا بچن کو وہ بیان دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس پر اتنا ہنگامہ شروع ہوا۔ پولیس نے ایم این ایس کے سینکڑوں ورکروں کو گرفتار کر لیا ہے اور راج ٹھاکرے کی بیان بازی پر سات اکتوبر تک پابندی بھی عائد کر دی ہے۔ راج ٹھاکرے نے امیتابھ بچن کے خاندان کے ساتھ پہلی مرتبہ ایسا نہیں کیا۔ اس سے پہلے بھی وہ انہیں نشانہ بنا چکے ہیں۔ وہ انہیں ممبئی چھوڑ کر الہ آباد جانے تک کا مشورہ دے چکے ہیں اور ان کے خلاف جگہ جگہ مضحکہ خیز پوسٹرز بھی لگائے تھے۔ ایم این ایس اور شیو سینا نے کچھ عرصہ سے شہر میں مراٹھی زبان اور مراٹھیوں کے حق کا معاملہ شروع کر دیا ہے اس کے تحت وہ جگہ جگہ ہنگامہ آرائی کر رہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ملک کی شمالی ریاستوں اتر پردیش اور بہار سے ممبئی اور مہاراشٹر کام کی تلاش میں آنے والوں کو بھی مار کر بھگایا گیا تھا۔ | اسی بارے میں اراضی کے لیے امیتابھ کی اپیل05 June, 2007 | انڈیا امیتابھ کو مقدمے کا سامنا ہو سکتا ہے04 June, 2007 | انڈیا امیتابھ کے نام زمین کا پٹہ کالعدم01 June, 2007 | انڈیا امیتابھ بچن کاشت کار کب سے؟ 30 May, 2007 | انڈیا امیتابھ بچن نے معافی مانگ لی22 April, 2007 | انڈیا ’بھگوان‘ چونسٹھ برس کے ہوگئے11 October, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||