امیتابھ بچن کاشت کار کب سے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست اتر پردیش کے ضلع بارہ بنکی میں اداکار امیتابھ بچن کی متنازعہ اراضی کا مقدمہ اپنے آخری مرحلے میں ہے اور امکان ہے کہ اس کا فیصلہ دو ایک روز میں ہو جائےگا۔ امیتابھ کا دعوٰی ہے کہ دولت پورگاؤں میں ایک بڑا قطعہ اراضی ان کی ملکیت ہے جسے انہوں نے زراعت کے لیے خریدا تھا۔ اس اراضی کی ملکیت کی بنیاد پر امیتابھ ایک کسان ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ اس معاملے کی سماعت فیض آباد کے ایڈیشنل کمشنر کے پاس مکمل ہو چکی ہے اور فیصلہ 31 مئی تک کے لیے محفوظ رکھا گیا ہے۔ تنازعہ کی شروعات پونہ کے پاس امیتابھ کی طرف سے ایک اراضی خریدنے کی کوشش سے شروع ہوئی تھی۔ اس علاقے میں وہی شخص زمین خرید سکتا تھا جو پیشے سے کسان ہو اور اس کے لیے امیتابھ نے جو کاغذات جمع کروائے تھے اس میں دکھایا گیا تھا کہ بارہ بنکی میں امیتابھ سنہ انیس سو تراسی سے ایک قطع اراضی کے مالک ہیں جو کھیتی کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ تاہم بعدازاں تفتیش سے پتہ چلا کہ بارہ بنکی کے دولت پور گاؤں کی زمین امیتابھ کے نام کرنے کے معاملے میں جعلسازی سے کام لیا گیا جس کے بعد زمین کا پٹہ کالعدم قرار دے دیا گیا تھا اور ایک متعلقہ افسر کو برخواست کر دیا گیا تھا۔ یہ الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں کہ ریاست میں ملائم سنگھ کی حکومت نے امیتابھ کو فائدہ پہنچانے کے کی غرض سے یہ زمین ان کے نام کر دی تھی۔ پٹہ منسوخ ہونے پر امیتابھ بچن کی طرف سے فیض آباد میں ایک اپیل دائر کی گئی تھی کہ اس مذکورہ زمین پر ان کی ملکیت دوبارہ بحال کی جائے۔ اب ریاست میں حکومت کی تبدیلی کے بعد اس معاملے کی تیزی سے سماعت ہوئی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ملائم سنگھ اور امیتابھ بچن کے درمیان دوستانہ تعلقات تھے اس لیے پہلے کوئی سخت کارروائی نہیں ہو سکی لیکن اب یا تو تفتیش کی بنیاد پر امیتابھ سے زمین واپس لے لی جائےگی یا پھر بعض افسروں پر دھوکہ دہی کا مقدمہ چلےگا۔ فی الوقت بھارت کے ذرائع ابلاغ میں یہ معاملہ سبھی کی توجہ کا مرکز ہے اور سوال یہ اٹھایا جارہا ہے کہ اداکار امیتابھ بچن کاشت کار کب سے ہیں۔ | اسی بارے میں امیتابھ بچن نے معافی مانگ لی22 April, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||