’بھگوان‘ چونسٹھ برس کے ہوگئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی وڈ کے شہنشاہ امیتابھ بچن گیارہ اکتوبر کو چونسٹھ سال کے ہو گئے۔ انہیں مبارکباد کہنے کے لئے ہزاروں کی تعداد میں لوگ جوہو میں ان کے بنگلہ پرتیکشا کے سامنے صبح سے ہی کھڑے تھے۔ انڈیا میں ایسے ہزارہا لوگ ہیں جو امیتابھ کو ایک اداکار نہیں بلکہ بھگوان کا درجہ دیتے ہیں۔ کوئی بنارس سے سائیکل پر سفر طے کر کے آتا ہے تو کوئی ان کی صحت کے لئے مندروں میں اپنا سر ٹیکتے ہیں۔ اڑیسہ کے شہر پوری میں سدرشن پٹنائیک نے 64 ریت کی بوریوں سے امیت کا مجسمہ سمندر کے ساحل پر بنایا۔ امیتابھ اپنے بنگلہ سے باہر آئے تو مجمع بے قابو ہو گیا اور ان کے محافظوں کو انہیں قابو میں کرنے میں دقت پیش آئی۔ امیت جی نے اپنے پرستاروں کا شکریہ ادا کیا۔ پونہ سے ایک پرستار ان کا اسکیچ بنا کر لائے تھے جسےامیت جی نے خود اپنے پاس بلایا اور اسے آٹو گراف دیا۔ امیتابھ بچن ہمیشہ ہی سادگی سے اپنی یوم پیدائش مناتے ہیں لیکن اس مرتبہ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ ان کی والدہ تیجی بچن بیمار ہیں اس لیے وہ گھر میں ان کے ساتھ رہیں گے۔ امیتابھ چاہے جتنی سادگی سے اپنی سالگرہ منائیں ان کے پرستار نت نئے انداز سے ان کا یہ خصوصی دن مناتے ہیں۔ ممبئی اور اس کے اطراف سے ہی نہیں پورے ملک سے لوگ ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے اس دن جمع ہوتے ہیں اور امیتابھ ان کی یہ مراد پوری ضرور کرتے ہیں۔ وہ اپنے بنگلہ سے باہر آتے ہیں، لوگوں سے ملتے ہیں، انہیں اپنا آٹو گراف دیتے ہیں، اور ان کے ساتھ تصویر کھنچواتے ہیں۔ اس کے باوجود سب کی مرادیں پوری نہیں ہو پاتیں کیونکہ وہاں ایک دو نہیں ہزاروں کی تعداد میں لوگ ہوتے ہیں جو امیت جی کی ایک جھلک دیکھ کر یوں ہی بے قابو ہو جاتے ہیں۔
امیتابھ بچن انڈین فلم انڈسٹری میں ایسے واحد اداکار ہیں جو اتنی عمرگزر جانے کے بعد آج بھی جوان اداکاروں سے مقابلہ میں سب سے آگے ہیں۔ نئی نسل کے اداکار اکثر ان کے سامنے کام کرنے سے گھبراتے ہیں۔ امیتابھ نے فلم انڈسٹری میں دو دور دیکھے۔ پہلا دور شروع میں ناکام رہا۔ کئی فلاپ فلمیں دینے کے بعد ’زنجیر‘ سے انہوں نے کامیابی حاصل کی اور پھر کامیابی ان کے قدم چومنے لگی۔ یہ دور بہت کامیاب رہا، اس دور میں انہیں ’اینگری ینگ مین ‘ کا خطاب ملا۔’ ڈان‘ اور ’اگنی پتھ‘ میں اگر انہوں نے ایک ڈان کا رول کیا تو ’مقدر کا سکندر‘ ’امر اکبر انتھونی‘ ’سہاگ‘ اور ’سلسلہ‘ جیسی کئی فلموں میں انہوں نے رومانوی کردار نبھائے۔ ریکھا کے ساتھ ان کی رومانی جوڑی سب سے کامیاب فلمی جوڑی بھی رہی۔ ان کی دوستی کے بہت چرچے بھی رہے۔ گزشتہ روز یعنی دس اکتوبر کو ریکھا کا جنم دن تھا جو اب اکیاون برس کی ہو چکی ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ امیتابھ کے سکرین ٹیسٹ میں ان کی آواز کو یہ کہہ کر ٹھکرا دیا گیا تھا کہ یہ ہیرو کے لائق نہیں ہے لیکن آج یہی آواز ان کی کامیابی کی ضمانت بنی اور ان کی اصل پہچان اور اب لاکھوں کروڑوں کے دلوں کی دھڑکن۔
امیتابھ کو ان کے شیدائی اور فلم انڈسٹری انہیں اس دور کا سب سے بڑا ہیرو مانتے ہیں۔ انہیں بے شمار ایوارڈ ملے۔ آج امیت جی اس مقام پر ہیں کہ ان کی شخصیت کی مناسبت سے کردار بنائے جاتے ہیں۔ فلم ’بلیک‘ نے انہیں اور ان کی اداکاری کو پھر سے ایک اعلی مقام تک پہنچا دیا۔ اس عمر میں بھی وہ اتنے چاق و چوبند ہیں اور وہ صرف اس لئے کہ وہ اپنی زندگی کو نظم و نسق کے ساتھ چلاتے ہیں۔ روز صبح وہ چھ بجے اٹھ کر چہل قدمی کے لئے جانا نہیں بھولتے۔ والدہ سے ملنے ان کے بنگلہ پر بھی جاتے ہیں اور پھر آٹھ بجے وہ سیٹ پر پہنچ جاتے ہیں۔
حال ہی میں ان کی فلم’ کبھی الوداع نہ کہنا‘ کی نمائش ہوئی جس میں وہ ایک زندگی سے بھر پور عاشق مزاج انسان ہیں۔ ان کی بیوی جیا نے حالانکہ انہیں اس عمر میں یہ رول کرنے سے منع کیا تھا لیکن امیت جی ہر کردار کو کرنا پسند کرتے ہیں۔ ان کی آنے والی فلم ’نشبدھ‘ ہے جس میں وہ ایک انیس سالہ لڑکی سے پیار کرتے ہیں۔ اس فلم میں ان کے مقابل زیا خان ہیں۔ اس وقت ان کی فلم ’بابل‘ ’چینی کم‘ ’نشبدھ‘ رام گوپال ورما کی ’شعلے‘ ’ گاڈ تُسی گریٹ ہو‘ ’شوٹ آؤٹ ایٹ لوکھنڈ والا‘ اور ’ایکلویہ‘ تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ |
اسی بارے میں راموکی شعلے میں امیتابھ بنے گبر08 October, 2006 | فن فنکار امیتابھ کا کمال، کامیابی کے 40 سال02 December, 2005 | فن فنکار امیتابھ آپریشن کے بعدگھر واپس17 December, 2005 | فن فنکار امیتابھ بچن کی ’ سرکار‘ 27 June, 2005 | فن فنکار ’اچھے مارکیٹنگ سسٹم کی ضرورت‘14 April, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||