BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 November, 2008, 14:41 GMT 19:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بی آر چوپڑہ ۔ فرزندِ لاہور

بھارتی فلمساز بی آر چوپڑہ
بی آر چوپڑہ آخری دم تک لاہور کی یادوں کو دِل سے محو نہ کر سکے
چورانوے برس کی عمر میں وفات پانے والے ہندوستان کے بزرگ فلم ساز و ہدایتکار اور ایک وسیع فلمی ایمپائر کے مالک بی آر چوپڑہ نے اپنی عملی زندگی کا آغاز لاہور میں ایک فلمی صحافی کے طور پر کیا تھا۔ لدھیانہ میں پہلی جنگِ عظیم کے آغاز پر پیدا ہونے والے بلدیو راج چوپڑا کا بچپن اور جوانی لاہور میں گذری۔ یہیں پہ گورنمنٹ کالج لاہور سے انہوں نے انگریزی ادب میں ایم اے کیا اور انگریزی ماہنامے ’سِنے ہیرلڈ‘ میں فلموں پر تبصرے لکھنے شروع کئے۔

ادب میں ایم اے کرنے کی بدولت اُن میں کہانی کے تجزیئے اور کرداروں کی تراش خراش کو سمجھنے کی بہت اچھی صلاحیت پیدا ہو چُکی تھی، چنانچہ اپنے تبصروں میں وہ کہانی کار اور ہدایتکار کے خوب لتّے لیا کرتے تھے اور اُن کا بے رحم قلم زیرِ تبصرہ فلم کی کسی خامی کو معاف نہیں کرتا تھا۔

واضح رہے کہ یہ لاہور کی فلمی صنعت کا سنہری دور تھا جب یہاں کے چھ فلم سٹوڈیوز میں دِن رات شوٹنگ ہوتی تھی اور لاہور کے بیس سنیما گھروں میں ہالی وڈ، کلکتہ اور بمبئی کی فلموں کے پہلو بہ پہلو لاہور میں تیار شدہ فلموں کی نمائش بھی ہوتی تھی۔

شاید آج یہ بات حیران کُن محسوس ہو کہ لاہور سے اُن دِنوں انگریزی اور اردو زبان میں بیس سے زیادہ فلمی رسائل و جرائد شائع ہوتے تھے جن میں سکرین ورلڈ، موشن پکچرز، سنیما، مووی فلیش، فلم پکٹوریل، مووی کریٹک، سٹار، چترا، پارس، خیّام، اِیوننگ نیوز اور سِنے ہیرلڈ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔

لاہور چھوڑنا پڑا
 لاہور میں فلمی صنعت سے وابستہ بیشتر افراد غیر مسلم تھے، چنانچہ تقسیمِ ہند کے ہنگاموں نے جب قتل و غارت اور فرقہ وارانہ جنون کی شکل اختیار کی تو بہت سے اُن ہندو فنکاروں اور ہنر مندوں کو بھی طوعاً و کرہاً لاہور کو خیر بار کہنا پڑا جن کی رگ و پے میں یہ شہر خون بن کے رواں تھا اور جو اس سے جدائی کا تصور بھی نہ کر سکتے تھے

لاہور میں فلمی صنعت سے وابستہ بیشتر افراد غیر مسلم تھے، چنانچہ تقسیمِ ہند کے ہنگاموں نے جب قتل و غارت اور فرقہ وارانہ جنون کی شکل اختیار کی تو بہت سے اُن ہندو فنکاروں اور ہنر مندوں کو بھی طوعاً و کرہاً لاہور کو خیر بار کہنا پڑا جن کی رگ و پے میں یہ شہر خون بن کے رواں تھا اور جو اس سے جدائی کا تصور بھی نہ کر سکتے تھے۔

بی آر چوپڑہ کا خط
بارہ برس قبل لاہور کے ایک صحافی کو لکھا ہوا خط جس میں بزرگ فلم ساز نے پاک و ہند کےلئے ایک اچھے مستقبل کی دُعا کی ہے

موسیقار او پی نیر (اوم پرکاش نیر) اور امرناتھ، گیت نگار مدھوک اور راما نند ساگر ۔ سبھی جان بچا کر لاہور سے نکل بھاگے۔ نوجوان بلدیو راج چوپڑہ کو بھی آخر یہ کڑوی گولی نگلنی پڑی اور دہلی میں کچھ عرصہ پڑاؤ کے بعد وہ عازمِ بمبئی ہوگئے۔ دیکھا جائے تو یہ عارضی بِپتا اُن کے مستقبل کے لیے نیک شگون ثابت ہوئی کیونکہ خوش قسمتی کی دیوی ایک عظیم فلمی سلطنت کا تاج لیے بمبئی میں اُن کا انتظار کر رہی تھی۔

ہندوستان کے معروف ترین اور یقیناً معزّز ترین فلم ساز و ہدایتکار کی حیثیت پا لینے کے بعد بھی بی آر چوپڑہ کے دِل سے لاہور کی یادیں محو نہ ہو سکیں۔ آج سے بارہ برس قبل جب لاہور کے سینئر فلمی صحافی پرویز راہی نے پنجاب کی فلمی تاریخ مرتب کرنے کے لئے کچھ مواد حاصل کرنے کی خاطر بی آر چوپڑہ کو خط لکھا تو بزرگ فلم ساز کی لاہوری یادوں کا پیڑ جیسے دیکھتے دیکھتے ہی ہرا ہوگیا اور انھوں نے جواب میں لکھا: ’لاہور سے آنے والا خط بہار کی خوشبو سے مہک رہا ہے۔ میرے بچپن اور جوانی کی یادیں ایک انگڑائی لیکر بیدار ہو گئی ہیں اور میں سوچ رہا ہوں کہ کاش یہ دو بچھڑے ہوئے بھائی اچھے دوستوں کی طرح ہی زندگی گزار لیں۔‘

بی آر چوپڑہ کے خط میں سن تیس اور چالیس کے عشرے میں لاہور کی دنیاے فلم کا عکس بھی نظر آتا ہے اور خود چوپڑہ صاحب کی ابتدائی زندگی کا احوال بھی تفصیل سے ملتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’ہم لوگ پہلے گوالمنڈی میں رہا کرتے تھے لیکن 1930 میں میرے والد کو جو کہ سرکاری ملازم تھے چوبرجی کے علاقے میں ایک بنگلہ الاٹ ہوگیا۔۔۔ جب میں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا تو انھی دنوں والد صاحب کا تبادلہ امرتسر ہوگیا۔ میں کچھ عرصہ لاہور ہی میں مقیم رہا کیونکہ میں آئی سی ایس کے امتحان کی تیاری کر رہا تھا۔ بعد میں جب مجھے فلموں میں دلچسپی پیدا ہوئی تو میں نے ماہنامہ سِنے ہیرلڈ کے لیے مضامین اور فلمی تبصرے لکھنے شروع کر دیئے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ میرا قیام تو والدین کے ساتھ امرتسر ہی میں تھا لیکن فلمی رسالے میں حاضری دینے کے لئے مجھے ہر روز لاہور آنا پڑتا تھا۔ رسالے کا دفتر مکلیوڈ روڈ پر تھا، چنانچہ کچھ عرصے بعد میں نے بھی اسکے قریب ہی یعنی نسبت روڈ پر رہائش اختیار کر لی۔۔۔ فلمی رسالے میں نوکری کا سلسلہ 1947 تک چلتا رہا جب اچانک فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑا اور مجھے انتہائی مایوسی اور دِل شکستگی کے عالم میں اپنا پیارا شہر لاہور چھوڑنا پڑا۔‘

9 مارچ 1996 کو لکھے ہوئے اپنے خط میں بی آر چوپڑہ نے اس امر پہ انتہائی مسرت کا اظہار کیا کہ لاہور میں پنجاب کی فلمی تاریخ رقم کی جا رہی ہے۔ اس زمانے کی یادوں میں کھو کر وہ لکھتے ہیں ’ کیسے سنہرے دِن تھے جب ہم لوگ بھائیوں کی طرح اکٹھے کام کرتے تھے۔ میری خواہش ہے کہ میں ایک دِن لاہور واپس آؤں اور وہ پرانی یادیں تازہ کروں جب پنجولی اور شوری جیسے فلم سازوں کی سرکردگی میں لاہور کی فلمی صنعت ہندوستان بھر کے پروڈیوسروں کے لیے ایک مشعلِ راہ بنی ہوئی تھی۔۔۔‘

افسوس کہ لاہور کے سپُوت بلدیوراج چوپڑہ کی یہ دِلی تمنّا پوری نہ ہوسکی اور وہ پانچ نومبر کی صبح ہمیشہ کے لیے ہم سے رخصت ہوگئے، لیکن اُن کی اس خواہش کو زندہ رکھنے والے لوگ سرحد کی دونوں جانب موجود ہیں اور اُن کی کوششیں آج نہیں تو کل ضرور رنگ لائیں گی۔

بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے
فروغِ گلشن و صوتِ ہزار کا موسم

اسی بارے میں
بی آر چوپڑہ انتقال کر گئے
05 November, 2008 | فن فنکار
تقسیمِ ہند: ناول اور فلمیں
28 August, 2007 | فن فنکار
بھگت سنگھ: صد سالہ تقریبات
27 September, 2007 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد