بھگت سنگھ: صد سالہ تقریبات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھگت سنگھ زندہ ہوتے تو آج پورے سو سال کے ہو گئے ہوتےلیکن بھری جوانی میں انگریز حکومت کے خلاف انقلاب زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے انھوں نے دار ورسن کا راستہ اختیار کیا اور 23 برس کی عمر میں اِس دنیا کو خیر باد کہہ دیا۔ برِصغیر کے مختلف شہروں میں بھگت سنگھ کے صد سالہ یومِ پیدائش کی تقریبات منعقد ہو رہی ہیں۔ لاہور کے ناصر باغ میں بھی ایک جسلہ عام کا اہتمام کیا گیا ہے جسکی صدارت عابد حسن منٹو کر رہے ہیں۔ بھگت سنگھ 28 ستمبر 1907 کو ضلع لائل پور کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ اُن کے خاندان میں انگریز حکومت کے خلاف جدو جہد کی روایت کافی عرصے سے چل رہی تھی۔ 1919 میں جب امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں سینکڑوں نہتے ہندوستانیوں کو ایک انگریز افسر کے حکم پر گولیوں سے بھون دیا گیا تو بھگت سنگھ اُس وقت صرف بارہ برس کے تھے لیکن اس واقعے کا اُن کے دِل پر گہرا اثر ہوا اور انگریز حکومت کے خلاف جو نفرت انھیں اپنے بزرگوں سے ورثے میں ملی تھی اُس سے جلتی پر ایسا تیل گرا کہ بھگت سنگھ کا سارا وجود شعلہء جوّالا بن گیا۔ اگلے ہی برس بھگت سنگھ نے گاندھی جی کی تحریک عدم تعاون میں بھرپور حصّہ لینا شروع کیا۔ انھوں نے اپنے کورس کی وہ تمام کتابیں جلا ڈالیں جو انگلستان سے شائع ہو کر آئی تھیں اور انگلستان سے درآمد شدہ کپڑوں کو بھی نذرِ آتش کر دیا۔
بھگت سنگھ کو یقین تھا کہ گاندھی جی کی یہ مہم عنقریب آزادی کی تحریک میں بدل جائے گی لیکن گاندھی جی نے 1922 کے پُر تشدد واقعات کے بعد خود ہی یہ تحریک ختم کر دی جسکا بھگت سنگھ کو سخت افسوس ہوا اور انھوں نے لاہور جاکر پہلے تو نوجوان بھارت سبھا نامی ایک گروپ میں شمولیت اختیار کی اور بعد میں ہندوستان ری پبلکن ایسوسی ایشن میں شامل ہوگئے۔ انھیں اُردو اور پنجابی ادب اور خاص طور پر احتجاجی شاعری میں بہت دلچسپی تھی۔ پنجابی کے کلاسیکی شعرا کے علاوہ انھیں علامہ اقبال کی ولولہ انگیز شاعری سے عشق تھا۔ اس زمانے میں اُن کی ملاقاتیں لاہور میں کام کرنے والے دیگر انقلابی نوجوانوں سے بھی ہوئیں۔ 1928 میں جب معروف ہندوستانی لیڈر لالہ لاجپت رائے سائمن کمیشن کے خلاف ایک پُر امن مظاہرے میں پولیس تشدد کا شکار ہوئے اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے تو بھگت سنگھ کا خون کھول اُٹھا۔ وہ اس واقعے کے چشم دیدگواہ تھے۔ انھوں نے بدلہ لینے کی ٹھانی اور اپنے دیگر انقلابی ساتھیوں سے مل کر پولیس کے سربراہ کو ٹھکانے لگانے کا منصوبہ بنایا۔سربراہ تو بچ گیا لیکن ایک اور انگریز پولیس افسر ان کی گولی کا نشانہ بنا جسکے بعد بھگت سنگھ لاہور سے فرار ہوگئے ۔ انھوں نے گرفتاری سے بچنے کے لئے اپنا حلیہ بدل لیا اور داڑھی مُنڈوا دی۔ بھگت سنگھ جیسے انقلابیوں سے نمٹنے کےلئے حکومت نے ایک آرڈی ننس منظور کرنا چاہا جسکی رو سے پولیس کو بہت زیادہ اختیار مل جاتے۔ لیکن جس روز یہ حکم نامہ اسمبلی میں منظوری کےلیے جا رہا تھا، یعنی 8 اپریل 1929 کو، بھگت سنگھ اور انکے ایک ساتھی نے اسمبلی کی راہداری میں بم پھینک کر دھماکہ کردیا۔ یہ معمولی طاقت کے بم تھے اور اُن سے کوئی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا اور جیسا کہ بعد میں بھگت سنگھ نے اپنے بیان میں بھی کہا کہ اس دھماکے کا واحد مقصد حکومت کی توجہ اسکی بے انصافیوں کی طرف مبذول کرانا تھا۔ ان دھماکوں کے بعد بھگت سنگھ اور ساتھی انقلاب زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے خود ہی پولیس کے سامنے پیش ہوگئے۔ اُن کی گرفتاری کے بعد حکومت کو پتہ چلا کہ انگریز پولیس افسر کے قتل میں بھی بھگت سنگھ ملوث تھے۔ ملزم نے اس قتل کا بھی اعتراف کرلیا اور مقدمے کی کاروائی کے دوران عدالت میں انگریز حکومت کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینے شروع کر دئیے۔ وہ عدالت میں اپنی ہر پیشی کو سرکار مخالف تقاریر کےلیے وقف کرتے تاکہ آزادیء وطن کی منزل قریب تر آسکے۔ انھوں نے جیل میں سیاسی قیدیوں کی ناگفتہ بہ حالت کے خلاف بھوک ہڑتال بھی کی جوکہ 63 دِن جاری رہی اور اب اُن کے انقلابی کاموں کی شہرت پنجاب سے نکل کر سارے ہندوستان میں پھیل گئی۔ بھگت سنگھ کے سیاسی فلسفے کا صحیح اندازہ اُن کی چار سو صفحات کی اس ڈائری سے ہوتا ہے جو انھوں نے جیل میں رقم کی اور جس میں جگہ جگہ کارل مارکس اور فریڈرک انیگلز کے اقوال کا حوالہ ملتا ہے۔ اس ڈائری سے پتہ چلتا ہے کہ بھگت سنگھ نے کس طرح گاندھی واد سے مارکسزم تک کا سفر طے کیا۔ 23 مارچ 1931 کو بھگت سنگھ اور انکے دو ساتھیوں راج گُرو اور سُکھ دیو کو لاہور میں پھانسی دے دی گئی۔ موت سے چند روز قبل بھگت سنگھ کے کچھ دوست جان بخشی کا ایک مسودہ لے کر آئے تھے لیکن بھگت سنگھ نے اس پر دستخط کرنے سے انکار کردیا۔ وہ چاہتے تھے کہ اُن کی قربانی ہندوستان کے نوجوانوں کےلیے ایک درخشاں مثال بنے اور وہ برطانوی تسلط کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں۔
چونکہ یہ نقطہ نظر گاندھی جی کے فلسفہء عدم تشدد کے بالکل برعکس تھا اس لیے بھگت سنگھ کی پھانسی کے بعد یہ افواہیں گرم رہیں کہ گاندھی جی نے بھگت سنگھ کی پھانسی رُکوانے کےلئے کوئی کوشش نہیں کی بلکہ کچھ انقلابیوں نے تو یہاں تک الزام لگایا کہ اس پھانسی پر گاندھی جی بہت مطمئن ہیں۔ بھگت سنگھ کی زندگی میں اور موت کے بعد بھی بہت سے لوگ اُن کے پُر تشدد طریقِ کار کے مذمت کرتے رہے لیکن ایک انقلابی ہیرو کا درجہ پالینے کے بعد اُن کے حق میں نوجوانوں کے جو نعرے بلند ہوئے، دہشت گردی کے تمام الزامات اوراعتراضات ان میں دب کے رہ گئے۔ 1965 میں ایس رام شرما نے ان کی زندگی پر پہلی فلم بنائی جس میں بھگت سنگھ کا کردار منوج کمار نے ادا کیا۔ سن 2002 میں راج کمار سنتوشی نے اجے دیوگن کو بھگت سنگھ کا رول دیا اور اگلے ہی برس گڈو دھنووا نے بابی دیول کو بھگت سنگھ کے روپ میں دکھایا۔ سن 2006 میں فلم رنگ دے بسنتی منظرِ عام پر آئی جس میں بھگت سنگھ کے زمانے کی انقلابی نسل کا موازنہ آج کے نوجوانوں سے کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں ’چوک کا نام بھگت سنگھ رکھیں‘19 April, 2005 | پاکستان بھگت سنگھ پر بنی فلموں کے خلاف مقدمہ16.06.2002 | صفحۂ اول بھگت سنگھ: تاریخی فلموں کی لہر07.06.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||