یورپی فلمی مورّخ لاہور میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس کے فلمی مورخ اور تھری کانٹی نینٹس فلمی میلے کے منتظم فِلیپ ژلادو آج کل پاکستان کے دورے پر ہیں۔ وہ اپنے ساتھ اُس پاکستانی فلم کی کاپیاں بھی لائے ہیں جِسے انھوں نے پچاس برس کی گم شدگی کے بعد لندن کے ایک تہہ خانے سے ڈھونڈ نکالا تھا۔ فیض احمد فیض کی تحریر کردہ، ہدایتکار اے۔ جے کاردار کی فلم ’جاگو ہوا سویرا‘ 1958 میں اپنی اوّلین نمائش کے بعد غائب ہو گئی تھی۔ چند ماہ قبل فرانس میں تیسری دنیا کے فلمی میلے کی تقریبات کے دوران پاکستانی سنیما کو بنیادی اہمیت دی گئی اور چند دیگر پاکستانی فلموں کے علاوہ وہاں ’جاگو ہوا سویرا‘ کی نمائش بھی ہوئی۔ گذشتہ نصف صدی کے دوران یہ پہلا موقع تھا کہ بین الاقوامی ناظرین نے پاکستانی سنیما کے اس اہم سنگِ میل کا مشاہدہ کیا۔
فرانس جانے والے وفد میں پاکستان آرٹس کونسل کے جمال شاہ، نیشنل کالج آف آرٹس کے شعبہء فلم و ٹیلی ویژن کی سربراہ شیریں پاشا اور پاکستانی فلم انڈسٹری کی نمائندگی کے لیے اداکارہ ریما شامل تھیں۔ اِن تینوں کے اصرار پر فلیپ ژلادو نے وعدہ کیا کہ وہ ’عنقریب جاگو ہوا سویرا‘ کی کچھ کاپیاں تیار کر کے پاکستان لائیں گے تاکہ نئی نسل پچاس برس پہلے کے اس شہکار سے مستفید ہو سکے اور فلم تکنیک کے طلباء بھی اپنی فلمی تاریخ کے اس عہد آفریں کارنامے سے روشناس ہو سکیں۔ فلیپ ژلادو کی پاکستان آمد پر یہ تمام توقعات پوری ہوئیں۔ فرانسیسی ماہرِ فلم نے لاہور اور کراچی میں جاگو ہوا سویرا کے کئی شو منعقد کئے۔ طلباء اور صحافیوں کے علاوہ فلموں میں دلچسپی رکھنے والے دیگر افراد نے بھی ذوق و شوق سے اس فلم کو دیکھا۔
لاہور میں اسکا اوّلین شو ساؤتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن (سیفما) کے پروجیکشن ہال میں ہوا۔ یہ نو تعمیر شدہ ہال ہر طرح کی جدید سمعی و بصری سہولتوں سے آراستہ ہے اور ڈی وی ڈی پر چلنے والی فلم دیکھ کر بھی محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم 35 ایم ایم کے پروجیکٹر پر فلم کا اصل پرنٹ دیکھ رہے ہوں۔ سیفما کے ہال میں فلم کے اختتام پر سوال جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا اور ہال میں موجود ماہرینِ فلم نے حاضرین کے سوالات کے جواب دیئے۔ فلم ’جاگو ہوا سویرا‘ چونکہ اُس وقت کے مشرقی پاکستان میں بنائی گئی تھی اس لیے بہت سے سوالات سیاسی رنگ لیے ہوئے تھے، مثلاً یہ کہ فلم کی زبان بنگالی کی بجائے اُردو کیوں ہے؟ یہ سوال آگے چل کر مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور اردو بنگالی کے لسانی تنازعے میں ڈھل گیا جس پر انتہائی گرما گرم بحث شروع ہوگئی۔
جو لوگ جاگو ہوا سویرا کی اس نمائش سے استفادہ نہ کرسکے اُن کی فرمائش پر فلم کا ایک اور شو ہیومن رائٹس کمیشن کے ہال میں منعقد کیا گیا۔ اس بڑے ہال میں زیادہ لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی چنانچہ شائقین کی خاصی بڑی تعداد نے وہاں اِس شہکار کا نظارہ کیا۔ سنیما کا مطالعہ بطور ایک مضمون کرنے والے طلباء کے لیے اسے فلم کے ایک خصوصی شو کا اہتمام نیشنل کالج آف آرٹس میں کیا گیا۔ جس میں فلم کے علاوہ فائن آرٹس، ٹیکسٹائل، ڈیزائن اور آرکیٹیکچر کے طالب علموں نے بھی شرکت کی۔ فرانسیسی ماہرِ فلم فلیپ ژلادو نے فلم ’جاگو ہوا سویرا‘ کی کھوج میں اپنے طویل سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میری تلاش کامیاب ہوئی اور مجھے اپنی مشقّت کا پھل مل گیا کیونکہ پاکستانی، ہندوستانی اور جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے دیگر فلم بینوں نے اس گوہرِ گُم گشتہ کی بازیابی پر جس بے پایاں مسرت کا اظہار کیا ہے وہ میرے لیے زندگی کا سب سے بڑا فلمی اعزاز ہے۔ اپنی لاہور موجودگی کے دوران فلیپ ژلادو نے فرانسیسی مرکزِ ثقافت میں فلم آرٹ پر عمومی لیکچر بھی دیئے اور حاظرین کو مختصر دورانیئے کی کچھ فلمیں بھی دکھائیں۔ | اسی بارے میں گم گشتہ پاکستانی فلم کی بازیافت07 December, 2007 | فن فنکار آٹھواں وساکھ فلمی میلہ ختم28 April, 2008 | فن فنکار ٹورانٹو فلم فیسٹیول شروع09 September, 2007 | فن فنکار ’گاندھی مائی فادر، ایک متنازعہ فلم‘03 July, 2007 | فن فنکار کشمیر میں پہلا عالمی فلمی میلہ27 June, 2007 | فن فنکار رنگ دے بسنتی نےمیلہ لوٹ لیا10 June, 2007 | فن فنکار فلمی مورّخ کی یاد میں 05 January, 2008 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||