BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 December, 2007, 01:04 GMT 06:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گم گشتہ پاکستانی فلم کی بازیافت

سہ برِاعظمی میلہ
فرانس کے ایک عالمی فلمی میلے میں ناظرین نے ایک ایسی پاکستانی فلم کا نظارہ کیا ہے جو نصف صدی پہلے گُم ہوگئی تھی۔

1958 میں ریلیز ہونے والی ’جاگو ہوا سویرا‘ نامی اس فلم کے مصنف معروف شاعر فیض احمد فیض جبکہ ہدایتکار اے جے کاردار تھے۔

یہ فلم پاکستان کی فلمی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل تھی اور اسے دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ جس وقت مغربی بنگال میں ستیہ جیت رے آپو کی کہانی فلما رہے تھے عین اس وقت مشرقی بنگال میں بھی پاکستانی فلم کا ایک تاریخ ساز شاہکار فلمایا جا رہا تھا۔

مصنف اور ہدایتکار کی طرح’جاگو ہوا سویرا‘ کے موسیقار اور فوٹوگرافر بھی اپنے اپنے فن میں منفرد حیثیت رکھتے تھے۔ تمرِ بارن چٹو پادھیائے وہی موسیقار ہیں جنہوں نے سنہ 1935 میں سہگل کی فلم ’دیو داس‘ کا میوزک دیا تھا اور جرمنی میں پیدا ہونے والے والٹر لیزی وہی کیمرہ مین ہیں جنہیں بعد میں زوبرا دی گریس (1964) کی فوٹوگرافی پر ’آسکر‘ انعام سے نوازا گیااور 1983 میں ’ہیٹ اینڈ ڈسٹ‘ کی عکاسی پر برطانیہ کا ’بافٹا‘ انعام دیا گیا۔

فرانس کے شہر نانت میں منعقدہ جس میلے میں اس ہفتے ’جاگو ہوا سویرا‘ کی نمائش ہوئی ہے وہ سہ برِاعظمی میلہ کہلاتا ہے اور اس میں ہر برس ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کی فلمیں پیش کی جاتی ہیں۔

میلے کے ناظم جلدو فِلیپ، اداکارہ ریما اور جمال شاہ

اس مرتبہ اس میلے کے منتظمِ اعلٰی جلدو فِلیپ نے پاکستان پر توجہ مرکوز کی اور اہلِ یورپ کو پاکستانی فلموں سے متعارف کرانے کا بِیڑہ اٹھا کر وہ کراچی اور لاہور کے سفر پر روانہ ہوئے۔

میلے کے موقع پر اپنی داستانِ سفر بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ’نمائندہ پاکستانی فلموں کی تلاش کے ابتدائی مراحل انتہائی حوصلہ شکن تھے کیونکہ پاکستان میں فلمی صنعت سے منسلک لوگ مایوسی اور بے یقینی کا شکار تھے‘۔

تاہم آہستہ آہستہ مسٹر فِلیپ کی جدوجہد رنگ لانے لگی اور تقسیم کار ستیش آنند کی مدد سے کچھ کمرشل فلموں تک اُن کی رسائی ہوگئی۔ غیر کمرشل فلموں کا حصول البتہ اتنا آسان نہ تھا۔ 1958 میں بننے والی پاکستانی فلم ’جاگو ہوا سویرا‘ کے بارے میں انھوں نے بہت کچھ پڑھ، سُن رکھا تھا لیکن جب اس کے پرنٹ کی تلاش شروع ہوئی تو پاکستان بھر میں کہیں اس کا سراغ نہ ملا۔ ڈھاکہ میں حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہیں بھی کچھ علم نہ تھا۔

 جو فلمی صنعت ایوب خان کے دورِ جبر اور ضیاء الحق کی آرٹ کُش پالیسیوں کے جہّنم سے صحیح سلامت نکل آئی وہ یقیناً اتنی سخت جان ہے کہ آج کے ناموافق حالات میں بھی ہمت نہیں ہارے گی اور سیاسی، سماجی، ثقافتی اور کاروباری حلقوں میں اپنا جائز مقام حاصل کر کے رہےگی۔
آئی اے رحمان

احتیاطاً بھارت کے فلم خزانے میں بھی جھانک کر دیکھا گیا مگر اس فلم کی کوئی جھلک نظر نہ آئی، چونکہ فلم کو 1958 میں ماسکو فلمی میلے میں انعام مِل چُکا تھا اس لیے وہاں بھی رابطے کیے گئے مگر معلوم ہوا کہ سویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد علمی، ادبی، ثقافتی اور فلمی بساط بھی کم از کم عارضی طور پر لپیٹی جاچکی ہے۔

ہر طرف سے مایوس ہونے کے بعد فِلیپ کو خیال آیا کہ کیوں نہ لندن کے فلمی ذخیرے کھنگالے جائیں اور یہ فیصلہ انتہائی سود مند ثابت ہوا کیونکہ بالآخر ’جاگو ہوا سویرا‘ کا وہ پرنٹ جو ماسکو میں دکھایا گیا تھا لندن کے ایک فلمی تہہ خانے سے برامد ہوا۔

’جاگو ہوا سویرا‘ مشرقی بنگال کے انتہائی غریب مچھیروں کی روز مرہ زندگی کا نقشہ پیش کرتی ہے۔ اس کے اداکاروں میں کوئی معروف نام نہیں تھا۔ تریپتی مِترا، زورین، انیس، قاضی خالد اور مینا لطیف سب غیر اداکار لوگ تھے۔ زورین پیشے کے لحاظ سے مصور تھا اور فلمی پوسٹر بھی بناتا تھا۔ بعد میں مغربی پاکستان آکر اس نے چند اور فلموں میں بھی کام کیا تھا۔

مندوب شیریں پاشا نے فرانس کے فلمی میلے میں پاکستان کا موقف پیش کیا

پچاس برس کے بعد اس گم گشتہ فلمی شاہکار کی بازیافت بذاتِ خود ایک خوش کُن خبر تھی لیکن فرانس کے سہ برِاعظمی میلے میں اس کی نمائش ایک ایسا واقعہ ہے جس پر پاکستانی فلم سے وابستہ ہر شخص ناز کر سکتا ہے کیونکہ اس نمائش کے دوران یورپ کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے فلمی شائقین نے انتہائی رغبت بلکہ قدرے مرعوبیت سے اسے دیکھا اور دِل کھول کے سراہا۔

پاکستان سے اس میلے میں شرکت کے لیے جو افراد باضابطہ طور پر فرانس گئے اُن میں نیشنل کالج آف آرٹس کے شعبہ فلم و ٹیلی ویژن کی سربراہ شیریں پاشا، فلم ڈسٹری بیوٹر ستیش آنند، پی این۔ سی۔ اے کی جانب سے جمال شاہ اور معروف اداکارہ ریما بھی شامل تھیں۔

شیریں پاشا کی نیم دستاویزی فلم ’ہیما‘ بھی میلے میں دکھائی گئی اور صبیحہ سومار کی ’خاموش پانی‘ بھی، اِن کے علاوہ جمیل دہلوی کی ’ٹاورز آف سائِنلس‘ بھی میلے میں شامل تھی جو کہ پارسی رسومِ مرگ کے حوالے سے زندگی اور موت کے ازلی تماشے پر ایک طنز ہے۔

جاوید جبار کی ’مسافر‘ (بیانڈ دی لاسٹ ماؤنٹین) 1975 میں بنی تھی اور نئی نسل کے فلم بین اس سے آشنا نہیں ہیں۔ یہ وطن لوٹنے والے ایک ایسے نوجوان کی کہانی تھی جس کے باپ کو مشکوک حالات میں موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا تھا۔ جب یہ نوجوان باپ کے قاتلوں کی کھوج میں نکلتا ہے تو اس پر ملک کی سیاسی اور سماجی زندگی کے کئی گمبھیر راز فاش ہوتے ہیں۔

میلے میں پاکستان کی جو کامیاب کمرشل فلمیں شامِل کی گئیں ان میں انور کمال پاشا کی ’گُمنام‘، مسعود پرویز کی ’کوئل‘، سنگیتا کی ’مٹھی بھر چاول‘ اور شعیب منصور کی ’خدا کے لیے‘ شامل ہیں۔

معروف دانشور، نقّاد اور فلمی مورّخ آئی اے رحمان نے فرانس کے اس فلمی میلے کے نام اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ’قیام پاکستان کے وقت ہمارے پاس محض چند جلے ہوئے سٹوڈیو، تباہ شدہ سنیما ہال اور فلم سازی کا ٹوٹا پھوٹا سامان تھا لیکن ہماری فلم انڈسٹری ققنس کی راکھ سے نِکل کر منظرِ عام آگئی اور نا گفتہ بہ حالات میں بھی روحی، وعدہ، جاگو ہوا سویرا۔ کوئل، نیند ، گمنام، قاتل، انارکلی، چوڑیاں اور خدا کے لیےجیسی فلمیں پیش کیں‘۔

انہوں نے کہا کہ’جو فلمی صنعت ایوب خان کے دورِ جبر اور ضیاء الحق کی آرٹ کُش پالیسیوں کے جہّنم سے صحیح سلامت نکل آئی وہ یقیناً اتنی سخت جان ہے کہ آج کے ناموافق حالات میں بھی ہمت نہیں ہارے گی اور سیاسی، سماجی، ثقافتی اور کاروباری حلقوں میں اپنا جائز مقام حاصل کر کے رہےگی‘۔

اسی بارے میں
تتلی روتی ہے
25 September, 2007 | فن فنکار
ٹورانٹو فلم فیسٹیول شروع
09 September, 2007 | فن فنکار
پاکستانی سنیما کے ساٹھ برس
18 August, 2007 | فن فنکار
لاہور کی ہیرا منڈی پر فلمیں
04 August, 2007 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد