گوا انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کا آغاز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے ساحلی شہرگوا میں بالی وڈ اداکار شاہ رخ خان کے ہاتھوں اڑتیسویں انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا کا آغاز جمعہ سے ہو رہا ہے۔ تیئس نومبر سے تین دسمبر تک چلنے والے اس فیسٹیول میں بیس ممالک کی قریبا دو سو فلمیں نمائش کے لیے پیش ہوں گی۔ اس سال فیسٹیول میں سنجیدہ فلموں کا انتخاب کیا گیا ہے۔بالی وڈ کی صرف دو فلموں بھاؤنا تلوار کی فلم’ دھرم‘ اور شیئر بازار پر مبنی فلم ’گھپلہ‘ کو اس فیسٹیول میں جگہ مل سکی ہے۔ اکیس فیچر اور پندرہ غیر فیچر فلموں میں زیادہ تر غیر ہندی زبان کی فلمیں ہیں۔ مہاراشٹر کی علاقائی زبان مراٹھی کی چار فلموں کے ساتھ ساتھ جنوبی ہند کی ملیالی زبان کی پانچ فلمیں، بنگالی زبان کی تین اور کنڑ زبان کی تین فلمیں ناظرین دیکھ سکیں گے۔ گیارہ برسوں کے وقفہ کے بعد منی پور سنیما کی واپسی ہوئی ہے۔فیسٹیول کا آغاز گولڈن پام ایوارڈ یافتہ فلم ’فور منتھ، تھری ویکس اینڈ ٹو ڈیز‘ سے ہو گا۔ فیسٹیول میں پاکستانی فلمساز شعیب منصور کی فلم ’خدا کے لیے ‘ بھی پیش ہو گی جس میں بالی وڈ اداکار نصیرالدین شاہ نے کام کیا ہے۔ نان فیچر فلموں میں ایڈز بیداری مہم کے طور پر بنائی گئی فلموں کی خصوصی سکریننگ ہو گی ان میں میرا نائر کی فلم ’مائیگریشن‘ ، فرحان اختر کی ’پازٹیو‘، سنتوش سیوان کی ’پرارمبھ‘ ( شروعات ) اور وشال بھردواج کی ’بلڈ برادرز ‘شامل ہیں۔ ڈائریکٹریٹ آف فلم فیسٹیول نیلما کپور نے پریس کانفرنس میں واضح لفظوں میں کہا کہ ’علاقائی زبان کی فلموں کو فیسٹیول میں صرف اس لیے جگہ نہیں دی جا رہی ہے کیونکہ ماضی میں فلمساز انہیں فیسٹیول کا حصہ بنانے کا مطالبہ کر رہے تھے بلکہ انہیں اس لیے شامل کیا گیا ہے کیوں کہ علاقائی زبان کی فلموں نے اپنا ایک معیار بنایا ہے‘۔ یہ فلم فیسٹیول گزشتہ کئی برسوں سے مختلف تنازعات کا شکار رہا ہے۔گزشتہ برس کا فیسٹیول مبینہ طور پر بد انتظامی کی نذر ہو گیا تھا۔غیر ممالک سے آئے بیشتر نمائندوں کو منتخب فلمیں دیکھنے نہیں مل سکی تھیں اور انہیں واپس لوٹنا پڑا تھا اس لیے اس برس فیسٹیول میں ٹکٹ سسٹم رائج کیا گیا ہے۔غیر ملکی نمائندوں کو فیسٹیول میں تین فلمیں دیکھنے اور صحافیوں کو صرف پانچ فلمیں دیکھنے کے لیے ہی ٹکٹیں ملیں گی۔ حکومت ہند کی سرپرستی میں منائے جانے والے اس فیسٹیول سے بالی وڈ شخصیات میں کسی طرح کا جوش و خروش نہیں پایا جاتا ہے۔جب فیسٹیول کا آغاز انیس سو پچھہتر میں ہوا تھا اس وقت بالی وڈ نے اس میں بڑھ چڑھ کا حصہ لیا تھا لیکن رفتہ رفتہ ان کی شمولیت کم ہونے لگی۔ فلمساز روی چوپڑہ نے بی بی سی کو اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ’حکومت نے کبھی بھی بالی وڈ کو اس کا اہم حصہ نہیں مانا۔فلموں کو خاص اہمیت نہیں دی گئی۔جس کی وجہ سے ستاروں نے اس میں شرکت اور فلمسازوں نے اس میں اپنی فلمیں دینا بند کردیں‘۔ روی چوپڑہ اس وقت گوا میں ہی موجود ہیں اور اپنی فلم ’بھوت ناتھ ‘ کی آخری دو روزہ شوٹنگ کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وہ اس کے باوجود اس فیسٹیول میں شرکت نہیں کریں گے۔ گزشتہ برس مہمان خصوصی کے لیے پہلے امیتابھ بچن کے نام کا اعلان ہوا لیکن بعد میں کسی وجہ سے ان کانام منسوخ کر کے ان کی جگہ دیوآنند کو مدعو کیا گیا۔ روی چوپڑہ کہتے ہیں کہ یہ بالی وڈ کے ایک بڑے اداکار کی بے عزتی تھی۔’دراصل فیسٹیول میں اکثر سیاسی رنگ چھایا رہتا ہے جب کہ فن اور فنکاروں کو اس سے دور رہنا چاہیئے‘۔
فلمساز اور فلم سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین ونود پانڈے روی چوپڑہ کے خیال سے متفق نہیں ہیں۔انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر فیسٹیول میں علاقائی زبانوں کی فلموں کو اہمیت دی جارہی ہے تو یہ بالکل صحیح ہے۔سنیما کو پسند کرنے والے ناظرین کو اچھی فلمیں دیکھنے ملتی ہی نہیں ہیں۔’ بالی وڈ فلموں میں آپ مغرب کو دیکھ سکتے ہیں ان فلموں نے تیکنیک میں ترقی کر لی ہے اور ہالی وڈ فلموں کو ٹکر دے رہی ہیں لیکن ان کے پاس موضوع کی کمی ہے ان فلموں میں ’انڈیا‘ کی چھاپ نہیں ہوتی ہے‘۔ ونود پانڈے کے مطابق لفظ بالی وڈ کسی بھی طرح انڈین سنیما کی نمائندگی نہیں کرتا ہے۔علاقائی زبان کی فلمیں دراصل صحیح انڈیا اور حقیقی موضوعات کو اجاگر کرنے میں پیش پیش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب ان جیسے کئی فلمساز اور فلمسازوں کی ایسو سی ایشن انڈین سنیما کے چہرے سے لفظ بالی وڈ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ہالی وڈ کا سایہ دور ہو اور ہم اپنے ملک کی تہذیب اور ثقافت کو اجاگر کرنے والا سنیما دیکھ سکیں۔ انہوں نےگوا فلم فیسٹیول کے ذریعہ انڈین سنیما کو ملک کے ناظرین اور غیر ممالک کے نمائندوں کے سامنے پیش کرنے پر حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ | اسی بارے میں ٹورانٹو فلم فیسٹیول شروع09 September, 2007 | فن فنکار سرینگر میں عالمی صوفی فیسٹِول03 July, 2007 | فن فنکار ٹورونٹو: سکھوں کا فلمی میلہ29 September, 2006 | فن فنکار روم فلم فسٹیول کا افتتاح کیڈمین کریں گی26 August, 2006 | فن فنکار کراچی میں پانچواں کارا فلم فیسٹیول29 November, 2005 | فن فنکار اسقاط حمل پر بنائی گئی فلم نمبر ون12 September, 2004 | فن فنکار فلمی میلہ:ہڑتالیوں کے ساتھ معاہدہ11 May, 2004 | فن فنکار کانز میلہ: گڑبڑ نہیں ہو گی11 May, 2004 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||