BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 October, 2007, 01:14 GMT 06:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امید کی تیسری کرن: محبتاں سچیاں

عدنان اور وینا ملک
’پاکستانی فلم انڈسٹری کا مستقبل اُن نوجوان ہاتھوں میں ہے‘
گذشتہ برس پاکستان کی رہی سہی فلم انڈسٹری کا بھرم صرف ایک فلم کے دم سے قائم رہا یعنی سید نور کی ’مجاجن‘۔ اِس برس شعیب منصور کی فلم ’خدا کے لیے‘ نے فلم بینوں کی ڈھارس بندھائی کہ یہاں کی صنعت میں ابھی اتنا دم خم باقی ہے کہ روٹھے ہوئے تماشائیوں کو واپس سنیما گھروں کی طرف کھینچ لائے، اور اب عید کے موقع پر ریلیز ہونے والی پنجابی فلم’محبتاں سچیاں‘ اس سلسلے میں امید کی تیسری کرن بن کر اُبھری ہے۔

جواں سال ہدایتکار رفیق شہزاد نے فلم کی افتتاحی تقریب کے موقع پر بتایا کہ یہ دو نوجوان دِلوں کی دھڑکن کا قصّہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ پاکستان کی ساٹھ سالہ فلمی تاریخ میں صرف ’ارمان‘ اور ’نہیں ابھی نہیں‘ ہی دو ہی ایسی فلمیں ملتی ہیں جن میں نوجوانوں کے نقطۂ نظر سے زندگی اور اس کے گوناگوں مسائل کو دیکھا گیا ہے۔

شہزاد رفیق نے کہا کہ نوجوانوں کی رومانوی کہانی کا مطلب عموماً ماں باپ اور معاشرے سے بغاوت لیا جاتا ہے جبکہ میں نے اس موضوع کو ایک نئے تناظر میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کہانی کافی عرصے سے ٹی وی پروڈیوسر ایوب خاور کے ساتھ ڈِسکس کی جا رہی تھی اور جوں ہی اِس نے مکمل شکل اختیار کی اس کا سکرین پلے تیار کرنے کے لیے اسے تجربہ کار فلمی مصنف پرویز کلیم کے حوالے کر دیا گیا۔

منظرنامہ تیار ہو جانے کے بعد جب مکالمات لکھنے کا مرحلہ آیا تو قلم خود شہزاد رفیق نے سنبھال لیا کیونکہ وہ نہ تو بھاری بھرکم تھیٹریکل مکالمے چاہتے تھے اور نہ ہی شاعری کے استعاروں میں کرداروں کو گفتگو کروانا چاہتے تھے۔جس سادگی اور پُرکاری کا مظاہرہ وہ مکالمات میں دیکھنا چاہتے تھے وہ شاید خود انہی کے قلم سے ہوسکتا تھا۔

ہمارے یہاں ایک نئے سنیما کا خمیر تیار ہو رہا ہے:شہزاد رفیق

یہاں غالباً یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ طالب علمی کے زمانے ہی سے شہزاد رفیق پنجابی ادب سے گہرا شغف رکھتے تھے اور انھوں نے ایم اے کی ڈگری بھی پنجابی ادب کے مضمون میں حاصل کی تھی۔

فلم کی تقریبِ رونمائی میں ’محبتاں سچیاں‘ کی کاسٹ کے علاوہ بھی کئی معروف فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کی۔پاکستان کے معروف ہدایتکار محمد جاوید فاضل نے اس بات کو سراہا کہ شہزاد رفیق اپنی ہر فلم میں نئے چہروں کو متعارف کراتے ہیں۔ جاوید فاضل نے کہا کہ ’مجاجن‘ اور ’خدا کے لیے‘ کے بعد ’محبتاں سچیاں‘ جیسی فلم کی نمائش پاکستان کی فلمی صنعت کے لیے ایک نیک شگون ہے اور اگر اس طرح کی معیاری فلمیں تسلسل سے بنتی رہیں تو ہم نہ صرف بالی وُڈ بلکہ عالمی مارکیٹ میں بھی اپنی فلموں کے لیے ایک جگہ بنا سکیں گے۔

فلم کی آرٹ ڈائریکٹر تنویر رحمان نے خیال ظاہر کیا کہ پاکستانی فلمی صنعت کا مستقبل اب شہزاد رفیق جیسے پڑھے لکھے اور روشن خیال ہدایتکاروں کے ہاتھ میں ہے۔ تقریب میں فلم کا ٹریلر اور گانے بھی دکھائے گئے جو کہ خِطّے کی بہترین لوکیشنوں پر فلمائے گئے ہیں۔

پوسٹ پروڈکشن کے لیے ہدایتکار کو کئی مرتبہ بمبئی جانا پڑا۔ اُن سے پوچھا گیا کہ فلم کے ہر شعبے میں آپ نے پاکستانی فنکاروں اور تکنیک کاروں پر انحصار کیا لیکن ایڈیٹنگ اور پرنٹنگ کےلئے آپکو انڈیا کا رُخ کرنا پڑا، آخر کیوں؟ اُن کا جواب تھا کہ پاکستان میں آج کل بہت کم فلمیں بن رہی ہیں چنانچہ کوئی بھی شخص کروڑوں روپے کی لاگت سے ایک کلر لیبارٹری شروع نہیں کرے گا کیونکہ لیبارٹری کو چالو رکھنے کے لیے بہت سی فلموں کا کام درکار ہوتا ہے۔ صرف ایک آدھ فلم کے لیے کوئی جدید لیبارٹری یا تدوین گاہ تعمیر کرنے کا رسک نہیں لے سکتا۔ تاہم جب بڑی تعداد میں فلمیں پروڈیوس ہوں گی تو جدید تکنیکی سہولتیں بھی مقامی طور پر ہی میسر آنے لگیں گی۔

’محبتاں سچیاں‘ جیسی فلم کی نمائش پاکستان کی فلمی صنعت کے لیے ایک نیک شگون ہے:جاوید فاضل

’رخصتی‘ جیسی معیاری اور ’سلاخیں‘ جیسی کامیاب فلم کے ڈائریکٹر شہزاد رفیق نے اس موقع پر کہا کہ ’پاکستانی فلم انڈسٹری کا مستقبل اُن نوجوان ہاتھوں میں ہے جو اس وقت مختلف کالجوں اور یونیوسٹیوں میں ابلاغِ عامہ، فلم اور ٹیلی ویژن کے شعبوں میں زیرِ تعلیم ہیں۔ یہ لوگ اُس نسل سے تعلق نہیں رکھتے جو سکرین پلے اور ہدایتکاری کے بارے میں سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی خفیہ معلومات پر انحصار کرتی تھی۔ بلکہ ان لوگوں کے سامنے کیبل اور سیٹلائٹ کے سینکڑوں عالمی چینل کھُلی کتابوں کی طرح پڑے ہیں جن سے یہ دِن رات استفادہ کر سکتے ہیں‘۔

شہزاد رفیق نے کہا کہ ’ہمارے یہاں ایک نئے سنیما کا خمیر تیار ہو رہا ہے اور جلد ہی روشن خیال نوجوانوں کی ایک تربیت یافتہ کھیپ اس میدان میں جھنڈے گاڑنے کے لیے منظرِ عام پر آجائے گی‘۔

’محبتاں سچیاں‘ کی کاسٹ میں شامل وینا ملک، عدنان، ببرک شاہ اور ماریہ کے علاوہ اس تقریب کے موقع پر اداکارہ ریشم، زارا شیخ ، ثنا، لیلٰی اور شیبا بٹ بھی موجود تھیں۔ اپنی فلم کے ہیرو عدنان کے بارے میں شہزاد رفیق نے کہا کہ اگر اس نوجوان کو فلم انڈسٹری کی ہوا نہ لگ گئی تو یہ ایک نیا ندیم ثابت ہوگا۔ اس موقعے پر انھوں نے اپنے نوجوان اداکار کے لیے علامہ اقبال کا وہ شعر پڑھا جو انھوں نے اپنے بیٹے جاوید اقبال کے لیے کہا تھا:
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے کہ جوانی تِری رہے بے داغ

عیدالفطر کے موقع پر ریلیز ہونے والی دیگر پنجابی فلموں کے ناموں پر ایک نگاہ ڈالی جائے تو محبتاں سچیاں کی انفرادیت فوراً واضح ہوجاتی ہے۔دیگر فلموں کے نام ہیں’بالا بدمعاش‘، ’غُنڈی رن‘ اور ’اشتہاری راجپوت‘۔ اِن کے علاوہ چار پشتو فلمیں بھی منظرِ عام پر آرہی ہیں۔

عید کے موقع پر ریلیز ہونے والی واحد اُردو فلم سید نور کی جھومر ہے لیکن ایک ہندی فلم’گاڈ فادر‘ کو بھی اِس موقع پر نمائش کی اجازت ملی ہے کیونکہ اس میں تین پاکستانی فنکاروں، میرا، عجب گُل اور شفقت چیمہ نے کام کیا ہے۔

اسی بارے میں
پاکستان کی سب سے متنازعہ فلم
14 September, 2007 | فن فنکار
پاکستانی سنیما کے ساٹھ برس
18 August, 2007 | فن فنکار
’پڑھی لکھی‘ فلمی صنعت
17 December, 2006 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد