BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 January, 2008, 12:17 GMT 17:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلمی مورّخ کی یاد میں

سید نور
سید نور کا کہنا تھا کہ یٰسین گوریجہ کی ڈائریکٹری میں آخری اندراج صرف 2003 کی فلموں تک ہے
پاکستان کے واحد فلمی مورخ یٰسین گوریجہ کو ہم سے رخصت ہوئے پورے دو برس ہوگئے ہیں۔ 26 دسمبر 2005 کو دِن کے بارہ بج کر 45 منٹ پر انہوں نے اس جہانِ فانی کو خیر باد کہا اور 26 دسمبر 2007 کو عین بارہ بج کر 45 منٹ پر اُن کے دوست احباب اور مداح لاہور کے میٹروپول سنیما میں اکٹھے ہوئے تاکہ مرحوم کی مخلصانہ خدمات کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے۔

اس تقریب کے روح و رواں فلم جرنلسٹ طفیل اختر تھے جن کی ذاتی کاوش نے سید نور، بہار بیگم، کلیم عثمانی اور خواجہ پرویز جیسے مصروف فنکاروں کو ایک چھت تلے جمع کر لیا تھا۔ اداکاری، ہدایت کاری، گیت نگاری اور سکرپٹ رائٹنگ سے تعلق رکھنے والے کئی خواتین و حضرات نے مرحوم کی شخصیت کے مختلف پہلؤں پر روشنی ڈالی لیکن تقریب کی اہم ترین بات یہ تھی کہ اس موقعے پر طفیل اختر کی مرتب کردہ کتاب صورتِ یٰسین کی رونمائی بھی ہوئی۔

یہ کتاب مرحوم کے بارے میں مختلف ادیبوں اور صحافیوں کے تاثرات کا ایک مجموعہ ہی نہیں بلکہ اُن کی ایک مستند سوانح عمری بھی ہے جس میں طفیل اختر نے پوری تحقیق کے ساتھ تاریخ وار تمام اہم واقعات کو ریکارڈ کردیا ہے۔

یٰسین گوریجہ نے فلمی صنعت کے ہر شعبے میں نئے آنے والوں کی حوصلہ افزائی اور عملی مدد کی: بہار بیگم

اس کتاب کے ذریعہ خود یٰسین گوریجہ کی ذاتی ڈائری کے کچھ صفحات بھی قارئین تک پہنچے ہیں۔ اس ڈائری میں غالباً مرحوم نے اپنی خود نوشت کے لیے مواد جمع کرنا شروع کر دیا تھا لیکن عمر نے وفا نہ کی اور یہ خود نوشت ادھوری رہ گئی۔ تاہم اس ادھوری تحریر میں بھی کئی مکمل افسانے پوشیدہ ہیں۔

1926 میں جنم لینے والے یٰسین گوریجہ نے ہندو مسلم مخلوط معاشرے میں آنکھ کھولی۔ اپنی نوجوانی ہی میں اس نے مسلم علیحدگی پسندی کی تحریک کو پروان چڑھتے بھی دیکھا اور پھر 21 برس کی عمر میں اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اس وطن کی جانب ہجرت بھی کی۔

ڈائری میں ایک جگہ لکھتے ہیں:
’ آج کے دور میں جبکہ ہندوؤں کو دشمن قرار دیا جا رہا ہے اور یہ محض اس لیے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشمیر کا مسئلہ ہے ورنہ میں نے جو بیس سال ہندوؤں میں گزارے۔ آریہ ہائی سکول سے میٹرک کیا۔ سکول میں دس سال تک تعلیم حاصل کی۔ زیادہ تر دوست ہندو اور سکھ لڑکے ہی تھے، لیکن کسی قسم کا بغض یا نفرت کا جذبہ نہ تھا۔ اوم پرکاش میرا کلاس فیلو تھا۔ خالص پنڈت اور برہمن گھرانہ۔ لیکن میں ہر وقت ان کے گھر کھیلتا کودتا رہتا۔ بالکل بھائیوں جیسا پیار۔ لچھمن داس، گوبندرام، جیوتی پرکاش، رام پرکاش، جگدیش چندر، گوردیال سنگھ اب کتنے نام دہرائے جائیں۔ ان کے گھروں میں آنا جانا۔ ان کے ماں باپ بھی ہمیں اولاد کی طرح سمجھتے‘۔ٰ

فلمی صنعت کی تاریخ نویسی کا بیڑا اب طفیل اختر نے اٹھایا ہے

1941 میں شروع ہونے والی یہ ڈائری 1948 میں پہنچ کے رُک جاتی ہے، لیکن 1947 کے واقعات کا ذکر ایک ایسے شخص کی زبان سے سننے کو ملتا ہے جو وسیع المشرب اور صلح کُل طبعیت کا آدمی ہے اور برائی کو محض برائی کرنے والے شخص کے حوالےسے دیکھتا ہے، اس کی پوری کمیونٹی پر اندھا دھند الزام عائد نہیں کر دیتا۔

یٰسین گوریجہ کی یہ گمنام اور نامکمل ڈائری شاید تاریخ کی گرد میں کہیں اُڑ جاتی لیکن اُن کے جانشین طفیل اختر نے دفتر کی ردّی میں سے اس ہیرے کو چھان کر الگ کر لیا اور اب صورتِ یٰسین نامی اپنی کتاب میں ایک باب کے طور پر اسے شامل کر لیا ہے۔

26 دسمبر 2007 کو مرحوم کی یاد میں منعقدہ تقریب کے دوران کم و بیش سبھی مقرّرین نے یٰسین گوریجہ کی فِلم ڈائریکٹری کو ایک عظیم کارنامہ قرار دیا۔

یہ ڈائریکٹری انہوں نے 1966 میں مرتب کرنی شروع کی تھی اور اس میں سال بھر کی فلموں کا مفصل احوال اور فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والے ہر اہم شخص کے بارے میں مکمل معلومات ہوتی تھیں۔ ابتدائی ایڈیشنوں میں 1948 کے بعد کی تمام پاکستانی فلموں کا مختصر احوال درج کیا گیا اور بعد میں معلومات کا یہ دائرہ ماضی کی طرف 1931 تک پھیل گیا یعنی اولین متکّلم فلم سے لیکر لمحہ حاضر تک کی تمام پاکستانی فلموں کا بنیادی ڈیٹا اس میں شامل کرلیا گیا۔

جن لوگوں کے دم سے فلمی صحافت کی لاج قائم ہے ان میں سرِ فہرست گوریجہ صاحب کا نام ہے: نغمہ نگار خواجہ پرویز

یادگاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، صدرِ محفل سید نور نے توجہ دلائی کہ ڈائریکٹری میں آخری اندراج صرف 2003 کی فلموں تک ہے۔

مہمانِ خصوصی بہار بیگم اور ماہنامہ تخلیق کے ایڈیٹر اظہر جاوید نے اس امر پر زور دیا کہ ڈائریکٹری کا نیا ایڈیشن فوراً مرتب ہونا چاہیئے اور اس میں فلمی مصنفوں اور نغمہ نگاروں کا ذکر بھی ہونا چاہیئے کیونکہ فی الحال فلم کی تفصیلات میں محض ڈائریکٹر، پروڈیوسرز، میوزک ڈائریکٹر اور اداکاروں کے نام درج ہیں۔

تقریب کے منتظم اور یٰسین گوریجہ مرحوم کے جانشین طفیل اختر نے وعدہ کیا کہ 2008 میں شائع ہونے والے ایڈیشن میں گذشتہ پانچ برس کی فلموں کا مواد بھی شامل کیا جائے گا اور اسے ہر لحاظ سے پاکستان کی فلم انڈسٹری پر ایک جامع دستاویز کی شکل دے دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا اس سے بہتر کوئی عملی مظاہرہ نہیں ہو سکتا۔

منوج باچپائی پنجر کے ایک منظر میںگرم ہوا سے پنجر تک
پردۂ سیمیں تک پہنچنے والی تقسیم کی کہانیاں
گرم ہوا سے غدر تک
بالی وڈ فلمیں بنتے بگڑتے تعلقات کی عکاس
کل ہو نہ ہومہنگی فلمیں:
لاگت بیرون ملک سے پوری ہو؟
ساسہند: بٹوارے کی فلمیں
کتنی بنی، کیسی بنی اور کیوں نہ بنیں؟
ایرانی فلمیںمعاشرے کے رنگ
ایرانی فلمیں معیاری ہدایتکاری کی علامت
اسی بارے میں
منٹو کو گئے آدھی صدی بیت گئی
23 February, 2005 | فن فنکار
کہانی ساری فلمی ہے
24 August, 2004 | قلم اور کالم
فلمسازی کی تدریس کا اہتمام
21 March, 2005 | قلم اور کالم
فراموش کردہ مسلمان خاتون جاسوس
26 July, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد