’گاندھی مائی فادر، ایک متنازعہ فلم‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلم سٹار انیل کپور کی بحیثیت فلمساز پہلی فلم ’گاندھی مائی فادر‘ نمائش سے پہلے ہی تنازعات میں گھِر چکی ہے۔ پٹنہ میں گاندھی سنگھرالیہ کے سیکرٹری رضی احمد نے صدر اے پی جے عبدالکلام، وزیراعظم منموہن سنگھ اور مرکزی وزیر برائے اطلاعات و نشریات پریہ رنجن داس منشی کو خط لکھ کر فلم کی نمائش پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ اپنے خط میں احمد نے کہا ہے کہ’گاندھی کے فلسفہ پر یقین رکھنے والے مانتے ہیں کہ فلم میں قوم کے رہنما گاندھی جی کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔احمد کا کہنا تھا کہ کسی بھی قومی لیڈر کے نام اور ان کے رتبہ کا تجارتی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے‘۔ انیل کپور کی فلم میں مہاتما گاندھی کے بیٹے ہری لال کی زندگی کو موضوع بنایا گیا ہے۔ مہاتما گاندھی کے اپنے بڑے بیٹے ہری لال کے ساتھ تعلقات کبھی خوشگوار نہیں رہے تھے لیکن ان کی زندگی کے اس پہلو کو یا تو ملک کے لوگ اچھی طرح جانتے نہیں ہیں یا پھر وہ اسے جاننا نہیں چاہتے۔ انیل کپور کی یہ فلم تین اگست کو نمائش کے لیے پیش ہوگی۔ فلم کی کہانی اور ہدایت تھیٹر کی نامور شخصیت فیروز عباس خان کی ہے۔ فیروز خان نے اس فلم کی ہدایت دینے سے قبل گاندھی جی کی زندگی پر ایک ڈرامہ کیا تھا جس کا نام’گاندھی بمقابلہ مہاتما‘ تھا۔
انیل کپور اپنی فلم کے بارے میں زیادہ کچھ کہنا پسند نہیں کرتے۔ اس فلم کو سو دن میں مکمل کیا گیا ہے اور اس دوران کپور نے اسے کسی بھی فلمی میلہ میں نمائش کے لیے پیش نہیں کیا۔ دراصل انیل کپور اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ فلم پر لوگوں کی انگلیاں اٹھیں گی۔ فلم میں گاندھی جی کا کردار درشن زری والا نے ادا کیا ہے جبکہ ان کے بیٹے ہری لال کا اہم کردار اکشے کھنہ نے نبھایا ہے۔ فلم میں ہری لال کی بیوی کے طور پر بھومیکا چاؤلہ ہیں اور گاندھی جی بیوی کستوربا کے کردار میں شیفالی شاہ نے کام کیا ہے۔ گاندھی جی پر ویسے انڈیا میں کچھ زیادہ فلمیں نہیں بنی ہیں۔ سب سے پہلی فلم ’گاندھی‘ رچرڈ ایڈنبرگ نے بنائی تھی اس کے بعد شیام بینگل کی ’مہاتما‘ اور انوپم کھیر کی ’میں نے گاندھی کو نہیں مارا‘ بنی۔ تاہم گاندھی کے فلسفے کی صحیح تصویر’ لگے رہو منا بھائی‘ میں پیش کی گئی جسے انڈیا ہی نہیں پوری دنیا میں سراہا گیا لیکن اب تک کسی بھی فلمساز نےگاندھی جی کی حقیقی زندگی کو چھونے کی کوشش نہیں کی تھی اور اب انیل کپور اور فیروز خان کی یہ کوشش کتنی کامیاب ہو گی یا یہ فلم بھی تنازعہ کا شکار ہو گی یہ آنے والے دنوں پر منحصر ہے۔ | اسی بارے میں گاندھی:شخصیت پر ایک نئی نظر21 March, 2006 | فن فنکار ’لگے رہو منا بھائی‘ بھی آسکر میں 29 September, 2006 | فن فنکار منا بھائی امریکہ کے لیے تیار 14 June, 2007 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||