آٹھواں وساکھ فلمی میلہ ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں انتخابی ہنگاموں کے باعث جو بہت سی ثقافتی تقریبات معرضِ التواء میں پڑ گئی تھیں ان میں دستاویزی فلموں کا میلہ ’وساکھ‘ بھی شامل تھا لیکن اب ان فلموں کی نمائش پورے اہتمام سے عمل میں آئی ہے اور ناظرین کی معمول سے زیادہ تعداد نے اس بار جنوبی ایشیا میں تیار ہونے والی یہ ڈاکومنٹری فلمیں دیکھی ہیں۔ میلے کی ہائی لائٹ غالباً بنگلہ دیش کی فلم’ آہن خور‘ تھی جس میں اُن قحط زدہ کسانوں کی داستانِ الم بیان کی گئی تھی جو شمالی بنگلہ دیش میں اپنا آبائی علاقہ چھوڑ کر جنوب کے دور دراز علاقے میں پہنچتے ہیں اور بھوک مٹانے کےلیے چٹاگانگ کی بندرگاہ پر اینڈنے والے دیوہیکل مگر ازکار رفتہ بحری جہازوں کو توڑنے کی صنعت سے وابستہ ہو جاتے ہیں۔ جہاز شکنی کے اس کام میں اصل مال تو ٹھیکے دار کماتا ہے لیکن مزدور قرضے کے بوجھ تلے دبتا چلا جاتا ہے۔ اس فلم کی ہدایات شاہین دِل ریاض نے دی تھیں۔
ٹیلی ویژن کےلیے تیار کردہ دستاویزی پروگرام اکولا باکسرز کو بھی ناظرین نے بہت پسند کیا۔ بمبئی کے نواحی علاقے اکولا کی وجہء شہرت لیڈی باکسروں کی ایک ٹیم ہے جِسے ستیش بھٹ نامی ایک کوچ نے شبانہ روز محنت سے تیار کیا ہے اور اس ٹیم میں شامِل ہر باکسر خاتون لیلٰی علی بن چُکی ہے۔ اس پروگرام کو تیار کرنے کا سہرا بھی ایک نوجوان خاتون رادھیکا بورڈیا کے سر ہے جو کہ نئی دہلی ٹی وی میں بطور فیچر ایڈیٹر کام کرتی ہیں۔ وہ اس موقع پر لاہور میں موجود تھیں اور ناظرین کے سوالات کے جواب دے رہی تھیں۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پاک بھارت مشترکہ فلم سازی کا تو بہت چرچا سنا ہے لیکن اِس سے بھی زیادہ ضرورت مشترکہ ٹی وی پروگرام تیار کرنے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمالی ہند کے لوگ ابھی تک پرانے پاکستانی ڈراموں کو یاد کرتے ہیں اور اگر موجودہ زمانے میں دونوں ممالک کے باصلاحیت ادیب، فنکار اور ہدایتکار مِل کر ٹی وی ڈرامے بنائیں تو وہ دونوں ممالک میں بہت مقبول ہو سکتے ہیں۔ ہُما صفدر کی تیار کردہ ایک ڈاکومنٹری میں 1857 کی جنگِ آزادی کا ایک گم گشتہ ورق پیش کیا گیا یعنی پنجاب کی مزاحمتی تحریک جس میں احمد خان کھرل اور ان کے ساتھیوں کی شجاعت اور جان نثاری کی داستان سینہ بہ سینہ چلنے والے لوک گیتوں ڈھولوں اور رزمیہ نظموں کے ذریعے مرتب کی گئی تھی۔ پاکستان میں ابتدائی تعلیم کی دِگر گوں حالت پر ایک انتہائی چشم کشا ڈاکومنٹری نیوز لائن پروڈکشنز کی تیار کردہ تھی جس میں پرائمری سکولوں کی ناگفتہ بہ حالت، استادوں کی نالائقی، محکمہ تعلیم کے افسروں کی رشوت خوری اور حکام بالا کی بے حسی کا نوحہ اس دردناک انداز میں پڑھا گیا ہے کہ کٹھور سے کٹھور ناظرین کی آنکھیں بھی نمناک ہوگئیں۔
لندن کے بنگالی محلّے میں رہنے والے ایک انگریز سائمن چیمبرز نے اپنے ہمسائے میں آباد ایک بنگلہ دیشی خاندان کےشب و روز کو اِس خوبصورتی اور دیانت داری سے فلمایا تھا کہ اس فیملی کی ساری خوشیاں، سارے غم، ساری اُمیدیں اور سارے خوف ایک گھنٹے کی دستاویزی فلم میں سمٹ آئے تھے۔ زندگی کی بیم و رجا کے وسیع سمندر کو ایک کوزے میں سمیٹنے کا کام مظہر زیدی کی فلم ’نر نرمان‘ میں بھی نطر آرہا تھا جوکہ فیصل آباد کے ہم جنس پرست شاعر افتخار افتی کے شب و روز کی کہانی تھی۔ یہ فلم قبل ازیں کئی بین الاقوامی فلمی میلوں میں دکھائی جا چُکی ہے اور دنیا کے ہر خطّے میں داد بٹور چکی ہے، تاہم لاہور میں اِس بار نرمان کو بہت سے نئے ناظرین سے بھی واسطہ پڑا۔ وساکھ میلے کی ایک خاص بات کمیونٹی ورکرز اور فِلم سٹوڈنٹس کی بنائی ہوئی فلمیں تھیں۔ اول الذکر زُمرے میں آئی آر سی کے کارکنوں کی تیار کردہ پانچ دستاویزی فلمیں اور دوسرے زمرے میں نیشنل کالج آف آرٹس کے شعبہء فلم و ٹیلی ویژن کے طلباء کی بنائی ہوئی دو فلمیں شامل تھیں۔ سالِ دوم کے طالبِ علم عمّار عزیز کی فلم پکھی واس خانہ بدوش فنکاروں کی زندگی کا عکس پیش کرتی ہے اور سال دوم ہی کے عمر درّانی نے گلیوں میں کاٹھ کباڑ جمع کرنے والے ایک بچّے کی زندگی کے جوار بھاٹے کو کیمرے میں قید کیا۔ اس تقریب کے منتظمِ اعلٰی فرجاد نبی کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا کی دستاویزی فلموں پر مبنی یہ میلہ اپنی طرز کا واحد میلہ ہے اور اس کی تاسیس کا سہرا کنک ڈِکشٹ کے سر ہے جنھوں نے ہر دوسال کے بعد کھٹمنڈو میں منعقد ہونے والے جنوبی ایشیا کے فلمی میلے میں سے چیدہ چیدہ فلموں کو خطّے کے تمام بڑے بڑے شہروں تک لےجانے کےلیے ایک سفری میلے کی تحریک چلائی تھی۔ لاہور میں یہ میلہ آج سے دس برس پہلے ایک مختلف نام سے شروع ہوا تھا لیکن اب اسے مستقل طور پر وساکھ فلمی میلہ کا نام دے دیا گیا ہے |
اسی بارے میں ’ہالی وُڈ اور بالی وُڈ کا حسین ملاپ‘07 September, 2006 | فن فنکار روم فلم فسٹیول کا افتتاح کیڈمین کریں گی26 August, 2006 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||