بھارتی فلم قافلہ کی پاکستان میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستانی فلمساز امتوج مان کی فلم 'قافلہ' دس اگست کو پاکستان میں نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔ اس سے قبل بالی ووڈ کی فلمیں ’تاج محل‘، ’مغلِ اعظم‘ اور ’آوارہ پن‘ بھی پاکستان میں ریلیز ہو چکی ہیں لیکن قافلہ ایسی پہلی فلم ہو گی جس کی دونوں ممالک میں نمائش ایک ساتھ ہو رہی ہے۔ فلمساز امتوج مان نے بی بی سی سے اپنی خوشی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کی فلم تاریخ کا حصہ بننے جا رہی ہے‘۔ پاکستان میں فلم کی سینسر شپ مکمل ہو چکی ہے اور ستائیس جولائی سے اس فلم کی تشہیر تھیٹرز میں جاری ہے۔ مان کی یہ فلم دس اگست کو ہندوستان، پاکستان اور انگلینڈ سمیت کئی ممالک میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔ فلمساز امتوج مان کے مطابق اس فلم کی نمائش روکنے کے لیے پاکستان کی ہائی کورٹ میں اپیل بھی کی گئی تھی جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔
فلم میں پاکستان کی اداکارہ ثناء نواز اور ٹی وی اداکارہ مونا لیزا بطور ہیروئین کام کر رہی ہیں۔ بالی ووڈ کے اداکار سنی دیول اس فلم کے ہیرو ہیں۔ انسانی سمگلنگ جیسے موضوع پر مبنی اس فلم میں دلچسپ بات یہ ہے کہ سنی دیول نے ایک پاکستانی شخص کا کردار نبھایا ہے جنہوں نے اب تک بالی ووڈ فلموں میں پاکستان کے خلاف کافی نعرے لگائے اور منفی کردار نبھائے ہیں۔ سنی دیول کے کردار کے بارے میں مان کہتے ہیں کہ ’سنی کو جو رول دیا گیا وہ انہوں نے کیا۔ فنکار کبھی بھی نفرت نہیں کرتا۔ سنی ایک اچھے انسان اور قابل اداکار ہیں اور اس فلم میں ان کا کردار ناظرین کو چونکانے کے لیے کافی ہو گا‘۔ پاکستان میں اب بالی وڈ فلمیں تھیٹرز میں نمائش کے لیے پیش ہونے لگی ہیں۔ پاکستانی عوام میں بالی وڈ فلمیں ویسے بھی بہت مقبول ہیں لیکن سرکاری طور پر ان کی نمائش سنیما گھروں میں نہیں ہوتی ہے اس لیے لوگ گھروں میں بالی ووڈ کی فلمیں دیکھتے ہیں۔
پاکستانی قوانین اس معاملے میں سخت ہیں اور اسی لیے بالی ووڈ فلمیں وہاں ریلیز نہیں ہوتی تھیں لیکن اب فلمسازوں نے ایک راستہ ڈھونڈھ لیا ہے اور وہ پاکستان کے اداکار، گلوکار اور وہاں فلموں کے دیگر شعبوں کے افراد کو اپنی فلموں میں شامل کر رہے ہیں تاکہ مشترکہ تجارت کے ساتھ فلموں کی نمائش میں رکاوٹ نہ ہو۔ اس طرز پر بالی ووڈ میں کئی فلمیں بن رہی ہیں اور ان میں ایک فلم ’تیرے لیے‘ ہے جسے فلمساز شہزاد رفیق بنا رہے ہیں۔ اس فلم کے ہیرو پاکستانی ہیں لیکن اس کے گیت نغمہ نگار گلزار نے لکھے ہیں اور کہانی اور مکالمے جاوید صدیقی کے ہیں۔ | اسی بارے میں ' آوارہ پن' پاکستان کے لیے تیار23 June, 2007 | فن فنکار مغل اعظم کا لاہور میں پریمئر شو23 April, 2006 | فن فنکار اور اب ’مغل اعظم‘ اور ’تاج محل‘08 February, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||