لاس اینجلس میں برٹنی کا بخار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگلے ہفتے پاپ گلوکارہ برٹنی سپیئر کی لاس اینجلس کی عدالتوں میں دو شنوائیاں ہیں۔ ان مقدمات میں سے ایک ان کے سابق شوہر اور دوسرا ان کے سابق مینجر کے خلاف ہے۔ لیکن یہاں سب سے بڑا سوال ہے کہ کیا متنازعہ برٹنی کسی بھی شنوائی میں پیش ہوں گی؟ ایک بات تو صاف ظاہر ہے کے لاس اینجلس کے’پپراژي‘ فوٹوگرافوں کے لیے ایک ہنگامی ہفتہ شروع ہونے والا ہے۔ کیونکہ اس دوران وہ ایسا کوئی بھی لمحہ اپنے ہاتھوں سے جانے نہیں دیں گے اور ہر قیمت پر دنیا کی سب سے دلچسپ سلیبریٹی کی ایک تصویر حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس شہر کے لوگوں کو برٹنی میں کافی حد تک دلچسپی ہے، اس پر لوگوں کی مختلف رائے ہیں۔ ایک شہری روب کوہن برٹنی کے بارے میں کہتے ہیں’وہ اپنے آپ میں ایک چوبیس گھنٹے کا ریالٹی شو ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا ’وہ آپ کو وہ سب کچھ دیتی ہیں جو آپ چاہتے ہیں‘۔ کوہن کے ساتھی کرسٹین راتھ کہتی ہیں’ آپ ان کو نظر انداز نہیں کر سکتے ۔ وہ ہر جگہ ہیں‘۔ پپراژي کی ان میں اس لیے بھی خاص دلچسپی ہے کیونکہ برٹنی ان کے لیے ٹیب لائڈز کا مکمل مسالا ہیں۔ بعض ایجنسیوں نے برٹنی کی تلاش میں کئی فوٹو گرافروں کو صرف ان کے پیچھے لگا دیا ہے۔
ایک ویڈیو فوٹوگرافر ایلکس پاسوس برٹنی کے گھر کا ہر روز دورہ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’وہ امریکہ میں سونے کی طرح ہیں۔ لوگوں میں جنون ہے۔ وہ ان کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ وہ کہاں ہیں؟ کہاں جاتی ہیں ؟ کیا خریدتی ہیں؟ سب کچھ‘۔ جب سے برٹنی سپیئر نے اپنی زندگی کا پہلا ہٹ نغمہ ’ہٹ می بیبی ون مور ٹائم‘ دیا ہے اس کے بعد سے ہرشخص کی نظر ان پر ہے۔ بیورے ہلز میں رہنے والے ماہر نفسیات میگی کیرل کا کہنا ہے’مجھے لگتا ہے کہ جیسے ہم دوسری مشہور شخصیات میں دلچسپی رکھتے ہيں ویسے ہی ہم برٹنی میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔‘ لیکن کیا برٹنی کی موجودہ زندگی سے کوئی متاثر ہو سکتا ہے؟ کئی ماہرین اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں وہ ذہنی طور پر بیمار ہیں۔ محترمہ کیرل کہتی ہیں’جہاں تک برٹنی کا تعلق ہے ہم ان کے دیوانے ہیں کیونکہ ان کو دیکھ کر یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ شاید اتنی مشکلات سے گزرنے کے بعد سب ٹھیک ہو جائے ۔ جیسا سب کی ذاتی زندگی میں بھی ہوتا ہے‘۔ حالیہ ہفتوں میں ایک تصویر حاصل کر کے ٹیبلائڈ میں شائع کرنے کے لیے پپراژی جس حد تک گئے ہیں وہ بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ بعض فوٹوگرافروں سے یہ کہہ کر نوکری چھوڑ دی کہ برٹنی کا پیچھا کرنے کی دوڑ اب کافی خطرناک ہوگئی ہے۔ مسٹر پاسوس کا کہنا ہے ’ ہر کوئی ان کے بارے میں جاننا چاہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب بات ہاتھ سے نکل گئی ہے اور خطرناک ہو گئی ہے‘۔ |
اسی بارے میں برٹنی کو ہسپتال پہنچا دیا گیا31 January, 2008 | فن فنکار برٹنی بچوں کی تحویل سے محروم05 January, 2008 | فن فنکار ’برٹنی کو بچوں سے ملنے کی اجازت‘04 October, 2007 | فن فنکار برٹنی کو بیٹوں سے ملنے کی اجازت22 October, 2007 | فن فنکار برٹنی پرایکسیڈنٹ کا مقدمہ23 September, 2007 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||