گائے کوئی، کھائے کوئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشہور امریکی پوپ سنگر برٹنی سپیئرز کے مداح اس لئے ناخوش ہیں کہ برٹنی نے گزشتہ ہفتے برطانیہ میں اپنے لائیو کنسرٹ کے دوران اطلاعات کے مطابق لِپ سنک سے کام لیا ہے۔ ایک خبر میں تو یہاں تک کہا گیا کہ لندن کے ویمبلی ارینا میں ہونے والے کنسرٹ میں برٹنی نے ایک بول تک نہیں گایا بلکہ پلے بیک پر محض ہونٹ ہی ہلاتی رہیں۔ میڈونا اور جینٹ جیکسن پر بھی ایسے ہی الزامات عائد کئے جاتے رہے ہیں جبکہ بعض تو ٹیلی ویژن پر دکھائی جانے والی ریکارڈنگ کے دوران ایسا کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے بھی جا چکے ہیں۔ ٹی پر پوپ سٹارز کے ایک پروگرام میں کامیاب ہونے والے گروپ ہیئرسے نے سن دو ہزار ایک میں پہلی لائیو پرفارمنس میں یہ کہہ کر لِپ سنک کیا کہ وہ وقت کی کمی کے باعث پوری تیاری نہیں کر پایا تھا۔ لِپ سنک کا سب سے مشہور واقعہ اس وقت پیش آیا جب میوزک انڈسٹری نے جرمنی کے دو رکنی گروپ مِلی ونیلی کو اس بنا پر بند کر دیا کہ وہ گروہ اپنے گانے نہیں گا رہا تھا۔ اس وجہ سے انہیں انیس سو نوے میں اپنا گرامی ایوارڈ بھی واپس کرنا پڑا کیونکہ اس بات کی کلی کھل گئی کہ ’گرل یو نو اٹس ٹرو‘ اور ’بلیم اِٹ آن دی رین‘ جیسے مشہور گانوں میں ایک بول بھی کا گایا نہیں تھا۔ پوپ گروپ انیس سو ساٹھ کے عشرے سے ٹی وی پر دکھائے جانے والے پروگراموں میں لِپ سنک کرتے آئے ہیں۔ سمیش ہٹس نامی جریدے کے فیچر ایڈیٹر جانیتھن براؤن نے اس بات کو بالکل جائز قرار دیا ہے کہ برٹنی نے اپنے گانے کے بجائے اپنے رقص پر توجہ مرکوز رکھی کیونکہ لوگ برٹنی کو رقص کرتے اور ان کی پرفارمنس دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ بعد میں اس کے متعلق بات چیت کر سکیں۔ جانیتھن براؤن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ برٹنی نے اس لئے لِپ سنک نہیں کیا کہ وہ گا نہیں پا رہی تھیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||