’حلب پر حملہ تین لاکھ افراد کو محصور کردے گا‘

آٹھ روز قبل شامی فوج اور اس کی حامی ملیشیا نے باغیوں کے زیرِ قبضہ حلب پر حملہ کیا اسے روسی فضائی حملوں کی تعاون حاصل ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنآٹھ روز قبل شامی فوج اور اس کی حامی ملیشیا نے باغیوں کے زیرِ قبضہ حلب پر حملہ کیا اسے روسی فضائی حملوں کی تعاون حاصل ہے

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اگر شام کی حکومت نے باغیوں کے زیرِ قبضہ شمالی شہر حلب کا محاصرہ کیا تو تین لاکھ افراد کے لیے خوراک کی ترسیل رک جائے گی۔

گذشتہ ہفتے باغیوں پر کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے ترکی سے آنے والی اس سڑک کو بند کر دیا تھا جس کا استعمال ورلڈ فوڈ پروگرام کے تحت کیا جا رہا تھا۔

اقوام متحدہ نے ترکی سے بھی کہا ہے کہ وہ ان تقریبا 30،000 لوگوں کو اپنی ریاست میں داخل ہونے دے جو لڑائی کی وجہ سے بھاگ کر ترکی کی سرحد پر آکر پھنسے ہوئے ہیں۔

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ سرحد پر حالات انتہائی خراب ہیں جہاں شدید سردی میں بھی لوگوں کو کھلے آسمان تلے سونا پڑ رہا ہے۔

میڈیسن ساں فرنٹیئر کے مطھابق ایک فضائی حملے میں شمالی شہر دیرہ میں ایک ہسپتال نشانہ بنا ہے جس میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ چھ لوگ زحمی ہیں۔یہ حملہ پانچ فروری کی رات اردن کی سرحد سے بارہ کلومیٹر اندر کیا گیا۔

شام میں مارچ 2011 میں حکومت مخالف مظاہرے شروع ہوئے تھے۔ اس وقت حلب میں حالات ٹھیک تھے لیکن فروری 2012 کے بعد یہاں سرکاری فورسز کے ساتھ ان کی مسلسل جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔ جولائی 2012 میں یہاں جنگ کافی بڑھ گئی تھی اور باغیوں نے اپنی پوزیشن کو بہت حد تک مضبوط کر لیا۔

تقریبا 30،000 لوگوں کو اپنی ریاست میں داخل ہونے دے جو لڑائی کی وجہ سے بھاگ کر ترکی کی سرحد پر آکر پھنسے ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنتقریبا 30،000 لوگوں کو اپنی ریاست میں داخل ہونے دے جو لڑائی کی وجہ سے بھاگ کر ترکی کی سرحد پر آکر پھنسے ہوئے ہیں

اس کے بعد سرکاری فورسز نے باغیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جس میں ہزاروں کی تعداد میں عام لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

آٹھ روز قبل شامی فوج اور اس کی حامی ملیشیا نے باغیوں کے زیرِ قبضہ حلب پر حملہ کیا اسے روسی فضائی حملوں کی تعاون حاصل ہے۔ اس حملے کے بعد حکومت کے حامی دو قصبوں کا طویل محاصرہ ٹوٹ گیا اور باغیوں کے لیے ترسیل کے اہم راستے کو کاٹ دیا گیا۔

اس کے بعد یہ فورسز ترک سرحد کی جانب پشی قدمی کرنے لگیں۔

اسی اثناہ میں امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ جان کیری نے خبردار کیا ہے کہ روس کی فضائی بمباری شام کی حزبِ اختلاف کو نشانہ بنا رہی ہے اور یہ اقدام شام میں جاری خانہ جنگی کوکوشش کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ ’حلب میں روس کی کارروائیاں مذاکرات تک آنے اور سنجیدہ بات چیت کو مشکل بنا رہی ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم روس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کے لیے ہماری کوششوں میں شامل ہو۔‘

جان کیری جمعرات کو اپنی روسی ہم منصب سے ملاقات کریں گے تاکہ ان مذاراکت کی راہ ہموار کی جا سکے۔