حلب پر بمباری، ہزاروں ترکی کی سرحد پر جمع

شام کے سب سے بڑے شہر حلب میں حکومتی فورسز کے تازہ حملوں کے بعد جان بچا کر نقل مکانی کرنے والے کم سے کم 15000 افراد ترکی کی سرحد پر پہنچ گئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ اور ترک حکام کے مطابق ان افراد کو سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ لیکن ترکی نے کہا ہے کہ وہ ان افراد کی رہائش اور خوراک کے لیے انتظامات کر رہا ہے۔

دوسری جانب نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ روس کے فضائی حملے شام میں جاری جنگ کے سیاسی حل کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

جین سٹولن برگ کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں زیادہ تر شام کی حزب اختلاف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ اس کی لڑائی دہشت گردی کے خلاف ہے۔

اقوامِ متحدہ کی اہلکار لنڈا ٹام نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’امدادی تنظیمیں بھی ان افراد کی ضروریات کے حوالے سے اقدامات کر رہی ہیں لیکن فوجی تنازع جاری ہونے کی وجہ ضرورت مند آبادیوں تک پہنچنا مشکل ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ 10000 کے قریب افراد شام کے شمال مغربی سرحدی علاقے اعزاز میں جمع ہیں۔

رواں ہفتے ہونے والے امن مذاکرات اس وقت معطل ہو گئے جب روسی کی حمایت یافتہ شام کی حکومتی فورسز کی جانب سے حلب میں باغیوں کے خلاف تازہ حملے کیے گئے۔

شام کے سب سے بڑے شہر سے اطلاعات کے مطابق ہزاروں افراد نقل مکانی کر رہے ہیں۔

ماسکو کا کہنا ہے کہ اس کی لڑائی دہشت گردی کے خلاف ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنماسکو کا کہنا ہے کہ اس کی لڑائی دہشت گردی کے خلاف ہے

سٹولن برگ کا کہنا تھا ’ روس کی جانب سے کیے جانے والے فضائی حملوں کی وجہ سے امن اور تنازع کے سیاسی حل کی کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ حملے بالخصوص نیٹو رکن ملک ترکی کے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں جس کے تعلقات پہلے ہی روس کے ساتھ طیارہ گرائے جانے کے واقعے کے بعد سے کشیدہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’روس کے بڑھتے ہوئے حملے خطرے اور کشیدگی کے ساتھ ساتھ نیٹو کے چیلنجز میں اضافہ کر رہے ہیں۔‘

جمعرات کو ترکی نے خبردار کیا تھا کہ کم سے کم 70 ہزار افراد حلب سے اس کی سرحد کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔

اس اثنا میں شامی حکومت نے مزید کامیابیوں کا دعوی کیا ہے۔