حلب میں شدید لڑائی، ہزاروں پناہ گزینوں کی نقل مکانی

ترک وزیراعظم احمد داؤدوغلو کا کہنا ہے شامی پنا گزینوں کی تعداد 70 ہزار کے قریب ہوسکتی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنترک وزیراعظم احمد داؤدوغلو کا کہنا ہے شامی پنا گزینوں کی تعداد 70 ہزار کے قریب ہوسکتی ہے

ترکی کے حکام اور شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق شام کے شہر حلب میں جاری شدید لڑائی کے باعث ہزاروں کی تعداد میں شامی پناہ گزیں ترکی کی سرحد کی جانب بڑھے ہیں۔

ترک وزیراعظم احمد داؤدوغلو کا کہنا ہے ان کی تعداد 70 ہزار کے قریب ہوسکتی ہے جبکہ دیگر ذرائع نے یہ تعداد 40 ہزار بتائی ہے۔

حلب شام کا سب سے بڑا شہر ہے اور روس کی جانب سے شدید فضائی کارروائیوں کی مدد سے شام کی حکومتی افواج شہر کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں۔

دوسری جانب روس نے ترکی پر شام میں حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

شام سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سیریئن اوبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ حلب میں باغیوں کے زیر انتظام علاقوں میں روسی بمباری سے کم از کم 21 شہری ہلاک ہوگئے ہیں تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

امدادی ادارے مرسی کورپس کے ڈیویڈ ایونس کا کہنا ہے کہ حلب کو امداد پہنچانے والی مرکزی رسد کو کاٹ دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ حلب کا محاصرہ شروع ہونے والا ہے۔‘

 روس نے ترکی پر شام میں حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن روس نے ترکی پر شام میں حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے

لندن میں ڈونر کانفرنس کے دوران ترک وزیراعظم احمد داؤدوغلو کا کہنا تھا کہ ’حلب میں فضائی بمباری اور حملوں کی وجہ سے اب دس ہزار نئے مہاجرین کیلیس (ترکی کا سرحدی قصبہ) کے دروازے پر کھڑے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حلب کے شمال میں کیمپوں میں ’60 سے 70 ہزار افراد ترکی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔‘

سیریئن اوبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے یہ تعداد 40 ہزار کے قریب بتائی ہے۔

لندن میں ہونے والی ڈونر کانفرنس میں شام میں جنگ سے متاثرہ لوگوں کے لیے<link type="page"><caption> دس ارب ڈالر سے زائد امداد کی فراہمی کا وعدہ کیا گیا ہے۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/02/160204_donor_pledged_aid_syria_hk.shtml" platform="highweb"/></link>

ترک وزیراعظم نے شام میں روسی مداخلت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو اور صدر بشار الاسد کی شامی حکومت جنگی جرائم کے مرتکب ہیں۔

روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یکم فروری سے اس سے ’حلب، الاذقیہ، حماہ اور دیر الزور میں 875 دہشت گرد ٹھکانوں کا نشانہ بنایا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنروسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یکم فروری سے اس سے ’حلب، الاذقیہ، حماہ اور دیر الزور میں 875 دہشت گرد ٹھکانوں کا نشانہ بنایا ہے۔‘

ماسکو اور دمشق ان الزامات کی بارہا مرتبہ تردید کر چکے ہیں۔

روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یکم فروری سے اس سے ’حلب، لاذقیہ، حماہ اور دیر الزور میں دہشت گردوں کے 875 ٹھکانوں کا نشانہ بنایا ہے۔‘

اطلاعات کے مطابق ان حملوں کے باعث ترکی کی سرحد سے حلب تک رسد کا اہم راستہ بند کرنے میں شامی فوج کو مدد ملی۔

شامی حکومت کا کہنا ہے کہ اب زھرا اور نبل نامی قصبوں کا محاصرہ توڑ دیا گیا ہے۔

ترک وزیراعظم نے ایک بار پھر شام میں روسی مداخلت کی مذمت کی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنترک وزیراعظم نے ایک بار پھر شام میں روسی مداخلت کی مذمت کی ہے

روسی وزارت دفاع کے ترجمان اگور کونشینکوف نے ایک الگ بیان میں کہا ہے کہ ماسکو کے پاس ترکی کی جانب سے شام پر حملہ کرنے کا شک کرنے کی توجیحات موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ روس اس حوالے سے ’ویڈیو ثبوت‘ بھی فراہم کر چکا ہے جس میں مبینہ طور پر ترکی کی جانب سے شام میں گولہ باری کی جارہی ہے۔

ترکی کی جانب سے ان دعوؤں کے بارے میں تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔