89 گیندوں کے بعد باؤنڈری: پاکستان انڈر 19 ٹیم کی زمبابوے کے خلاف کامیابی پر تنقید کیوں ہو رہی ہے؟

،تصویر کا ذریعہPCB
انڈر 19 ورلڈ کپ میں پاکستان نے زمبابوے کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے کر سُپر سکس مرحلے کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے، لیکن پاکستان کی اس جیت سے زیادہ ہدف تک پہنچنے کے لیے اُس کی حکمت عملی پر سوال اُٹھائے جا رہے ہیں۔
پاکستان انڈر 19 ٹیم نے 129 رنز کا آسان ہدف دو وکٹوں کے نقصان پر 26٫2 اوورز میں پورا کیا۔ سمیر منہاس 75 گیندوں پر 74 رنز بنا کر مین آف دی میچ قرار پائے۔
ایک وقت میں پاکستان انڈر 19 نے 16 اوورز میں دو وکٹوں کے نقصان پر 93 رنز بنا لیے تھے اور یوں لگ رہا تھا کہ جلد ہی پاکستان کی ٹیم یہ ہدف حاصل کر لے گی۔
لیکن اس کے بعد پاکستانی بلے بازوں نے انتہائی سست رفتاری سے رنز بنانے کا سلسلہ شروع کیا۔ کسی اوور میں دو تو کسی میں محض ایک رنز بنتا رہا۔
پاکستان انڈر 19 ٹیم نے اگلے 35 رنز کے حصول کے لیے 10 اوورز استعمال کیے اور 27 ویں اوور میں مطلوبہ ہدف حاصل کیا۔
25 اوورز کا کھیل مکمل ہونے پر پاکستانی بلے بازوں نے تیز رفتاری سے بلے بازی شروع کر دی اور 27 ویں اوور کی پہلی دو گیندوں پر سمیر منہاس نے دو چھکے لگا کر ٹیم کو کامیابی دلا دی۔
یاد رہے کہ اگر پاکستان کی انڈر 19 ٹیم 25ویں اوور سے پہلے یہ ہدف حاصل کر لیتی تو پاکستان اور سکاٹ لینڈ کی ٹیمیں سپر سکس مرحلے کے لیے کوالیفائی کر لیتیں۔ اِس صورت میں پاکستان اور سکاٹ لینڈ کی ٹیمیں رن ریٹ میں ایک دوسرے کے ہم پلہ ہوتیں۔
لیکن اب زمبابوے کے کوالیفائی کرنے کی صورت میں سپر سکس مرحلے میں پاکستان کا رن ریٹ زمبابوے سے زیادہ ہو گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بعض کرکٹ ماہرین سپر سکس مرحلے میں رن ریٹ کو ذہن میں رکھتے ہوئے پاکستان انڈر 19 ٹیم کی اس حکمت عملی کو جائز قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کھیل کی روح کے خلاف ہے۔
زمبابوے میں جاری انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان گروپ سی میں شامل ہے۔ پاکستان ٹیم کو پہلے میچ میں انگلینڈ نے شکست دی تھی۔ لیکن بعدازاں پاکستان نے زمبابوے اور سکاٹ لینڈ کو شکست دے کر سپر سکس میں جگہ بنا لی ہے۔

،تصویر کا ذریعہPCB
پاکستان کی حکمتِ عملی پر سابق کرکٹرز کے تبصرے
پاکستان ٹیم انتظامیہ کی جانب سے ہدف کے تعاقب میں سست بیٹنگ کی حکمت عملی سے متعلق کوئی بیان سامنے نہیں آیا، لیکن سابق کرکٹرز اس پر تبصرے کر رہے ہیں۔
زمبابوے کرکٹ ٹیم کے سابق اوپنر اینڈی فلاور پاکستان کی سست بیٹنگ کے مرحلے کے دوران کمنٹری کر رہے تھے۔
اس موقع پر اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ٹیم نے آخری 10 اوورز میں بہت ہوشیاری سے بلے بازی کی، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر سکاٹ لینڈ کے بجائے زمبابوے کی ٹیم اگلے مرحلے تک پہنچتی ہے تو پاکستان کا نیٹ رن ریٹ بہتر ہو گا۔
اینڈی فلاور نے پاکستان انڈر 19 کی حکمتِ عملی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس حربے کا استعمال اُن کے خیال میں جائز تھا۔
اُن کا کہنا تھا کہ پہلے اُنھیں یہ یقینی بنانا تھا کہ میچ اُن کی گرفت میں ہے اور اس کے بعد اُنھوں نے اپنی اننگز کو آہستہ تاکہ زمبابوے اگلے مرحلے تک کوالیفائی کر لے۔ ’کچھ لوگ اس پر سوال اُٹھائیں گے، لیکن مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔‘
نیٹ رن ریٹ سے چھیڑ چھاڑ پر آئی سی سی کا قانون
جان بوجھ کر نیٹ ریٹ کو استعمال کرنے سے متعلق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا قانون 2٫11 ہے۔
یہ شق ٹورنامنٹ کی سٹینڈنگ کو متاثر کرنے کے لیے جان بوجھ کر میچ کے نتائج پر اثرانداز ہونے کرنے کے لیے کی گئی کارروائیوں کو روکتی ہے۔ جیسے کے جان بوجھ کر میچ ہارنا یا آئی سی سی ایونٹ میں نیٹ رن ریٹ میں ردوبدل کرنا شامل ہے۔
اگر جان بوجھ کر نیٹ ریٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ثابت ہو جائے تو آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کے تحت لیول کی خلاف ورزی ہے اور ٹیم کے کپتان کو اس کا ذمے دار ٹھہرایا جاتا ہے اور اس پر کچھ میچوں کی پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔
تاہم اینڈی فلاور کے بقول ’سکاٹ لینڈ کی ٹیم کے لیے یہ صورتحال بہت مشکل ہو گی، لیکن یہ پاکستان کی جانب سے اپنایا جانے والا ایک مناسب حربہ تھا اور وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اس سے کھیل کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہPCB
سوشل میڈیا پر ردِعمل
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پاکستان انڈر 19 ٹیم کی اس حکمت عملی پر سوشل میڈیا پر بھی بات ہو رہی ہے۔
وپن تیواری نامی صارف نے لکھا کہ پاکستان نے زمبابوے کے خلاف ہدف کے تعاقب میں سست بیٹنگ کی۔ اس نے زمبابوے کو نیٹ رن ریٹ پر سکاٹ لینڈ سے آگے رہنے کو یقینی بنایا، جس سے زمبابوے کو اگلے راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کرنے میں مدد ملی۔
اُن کے بقول جب زمبابوے نے کوالیفائی کر لیا تو پھر 89 گیندوں پر پہلی باؤنڈری لگی، یہ کہاں کی اخلاقیات ہے؟
چارلس ڈیوی نامی صارف نے لکھا کہ سکاٹ لینڈ ٹورنامنٹ کی واحد ایسوسی ایٹ ٹیم ہوتی اگر وہ سپر سکس کے لیے کوالیفائی کر لیتی۔ پاکستان نے اپنے فائدے کے لیے نیٹ رن ریٹ کا استعمال کر کے ایک چھوٹی ٹیم کا راستہ روکا، اس سے کرکٹ کی کوئی ترقی نہیں ہو گی۔
اُن کا کہنا تھا کہ آئی سی سی کی جانب سے اکثر پاکستان کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا جاتا ہے، لیکن انڈر 19 کی سطح پر اُنھوں نے جو کچھ کیا، اس سے اُن میں اور باقیوں میں کوئی فرق نہیں رہتا۔
سپورٹس جرنلسٹ دانیال رسول نے آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ کے فارمیٹ پر سوال اُٹھاتے ہوئے لکھا کہ پاکستان کو ہدف کے تعاقب میں تیز رفتاری سے بیٹنگ کے بجائے سست بیٹنگ کا انعام کیوں ملا؟
کور ڈرائیور کے نام سے ایک صارف نے لکھا کہ اس طرح کی صورتحال سے بچنے کے لیے آخری راونڈ میچز ایک ساتھ کھیلنے چاہییں، تاکہ کسی کے لیے ایسا کرنا ممکن ہی نہ رہے۔
حمیس خان نامی صارف نے لکھا کہ اس حکمت عملی میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اس سے پاکستان کا اگلے مرحلے کے لیے نیٹ رن بہتر ہو گا۔











