کھلاڑیوں کو ’زیادہ پیسہ کمانے‘ کا موقع دینے والا پی ایس ایل کا نیا آکشن ماڈل کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) انتظامیہ نے رواں برس پی ایس ایل کے سیزن 11 کے نیلامی کے ماڈل میں کئی نئی تبدیلیاں متعارف کروائی ہیں اور انڈین پریمیئر لیگ کی طرز پر پہلی مرتبہ کھلاڑیوں کی نیلامی کا طریقہ کار متعارف کرایا ہے۔
پاکستان سپر لیگ کے اب تک کھیلے جانے والے 10 سیزنز میں کھلاڑیوں کا انتخاب پلیئرز ڈرافٹ کے طریقہ کار کے تحت کیا جاتا تھا، لیکن اب کھلاڑیوں کے لیے بیس پرائس مقرر کر کے آئی پی ایل کی طرز پر اُن کی نیلامی کی جائے گی۔
پیر کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان سپر لیگ نے اپنے 11ویں ایڈیشن سے قبل تاریخی پیشرفت کا اعلان کیا ہے، جس سے لیگ کی مسلسل ترقی، مسابقت اور جدت کے عزم کو تقویت ملتی ہے۔‘
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ روایتی پلیئرز ڈرافٹ سسٹم کی جگہ پلیئرز آکشن ماڈل متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد مسابقتی توازن، شفافیت کو بڑھانا اور کھلاڑیوں کو کمائی کے زیادہ مواقع فراہم کرنا ہے۔
پی ایس ایل کے نئے سیزن کا آغاز رواں برس 26 مارچ سے ہو رہا ہے اور حال ہی میں دو نئی ٹیموں کے اضافے کے بعد اب مجموعی طور پر آٹھ ٹیمیں ٹائٹل کے حصول کے لیے مدمقابل ہوں گی۔
پاکستان سپر لیگ نے رواں ماہ آٹھ جنوری کو ہونے والی بولی میں سیالکوٹ اور حیدر آباد کی ٹیمیں مجموعی طور پر تین ارب 60 کروڑ روپے میں فروخت کیں۔

،تصویر کا ذریعہPSL
پی ایس ایل کے نئے ماڈل میں نیا کیا ہے؟
پی ایس ایل کے نئے آکشن ماڈل میں فرنچائزز کی جانب سے کھلاڑیوں، مینٹورز اور برینڈ ایمبیسیڈرز سے متعلق متعدد تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔
- نئے ماڈل کے تحت ہر فرنچائز زیادہ سے زیادہ چار کھلاڑیوں کو برقرار رکھ سکتی ہے، پرانے ماڈل میں آٹھ کھلاڑیوں کو رکھنے کی اجازت تھی۔ ان چار کھلاڑیوں کو پلاٹینیم، ڈائمنڈ، گولڈ اور سلور کیٹیگری میں رکھا جائے گا۔
- مینٹورز، برینڈ ایمبیسیڈرز اور رائٹ ٹو میچ قوانین کو ختم کردیا گیا۔ اس شق کے تحت کسی بھی کیٹیگری میں شامل ایک کھلاڑی کو برینڈ ایمبیسیڈرز یا مینٹور بنا کر اسے اضافی رقم دی جاتی تھی۔
- نئی شامل کی گئی ٹیموں کو کھلاڑیوں کی نیلامی سے پہلے دستیاب پلیئر پول میں سے چار کھلاڑیوں کو منتخب کرنے اور برقرار رکھنے کی اجازت ہو گی۔
- ہر فرنچائز کو کسی بھی ایسے غیر ملکی کھلاڑی کو براہ راست سائن کرنے کی اجازت ہو گی، جو پی ایس ایل 10 کا حصہ نہیں تھا۔ اس کے ذریعے ٹیموں کو نئے غیر ملکی کھلاڑیوں کو شامل کرنے کے علاوہ اپنے سکواڈز کو مضبوط کرنے کا موقع ملے گا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق غیر ملکی کھلاڑیوں کی براہ راست سائن کرنے کے لیے رقم کا تعین پاکستان کرکٹ بورڈ کرے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیگ کو مزید مسابقتی بنانے کے لیے ایک فرنچائز کے لیے کھلاڑیوں کی تنخواہوں کا مجموعی بجٹ 11 لاکھ ڈالرز سے بڑھا کر 16 لاکھ ڈالرز کر دیا گیا ہے۔
پی ایس ایل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس سے نئے غیر ملکی کھلاڑیوں کو راغب کرنے کا موقع ملے گا۔
واضح رہے کہ ناقدین کا یہ شکوہ رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں پاکستان سپر لیگ میں بڑے ٹی ٹوئنٹی کھلاڑی نہیں آئے اور وہ پی ایس ایل کے بجائے آئی پی ایل کا حصہ بننے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کا دعویٰ ہے کہ اس نئے ماڈل سے بڑے غیر ملکی کھلاڑی پی ایس ایل کا حصہ بن سکیں گے۔
پی ایس ایل انتظامیہ کے مطابق پی ایس ایل 11 میں فیصل آباد کو لیگ میچز کے ایک نئے وینیو کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق نیلامی کے عمل، شیڈول اور دیگر آپریشنل معاملات سے متعلق تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’دیر آید درست آید‘
پی ایس ایل کے نئے آکشن ماڈل پر سوشل میڈیا پر بھی ردِعمل آ رہا ہے۔ کچھ صارفین اس کا خیر مقدم کر رہے ہیں تو وہیں بعض اسے اب بھی ناکافی قرار دے رہے ہیں۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف کہتے ہیں کہ پی ایس ایل کو نیلامی میں لانا ایک مثبت پیشرفت ہے۔ سب سے اہم وہ شق ہے جس میں برینڈ ایمبیسیڈرز اور رائٹ ٹو میچ (آر ٹی ایم) سے متعلق ضوابط کو ختم کر دیا گیا ہے۔
اُن کے بقول ماضی میں، کچھ ٹیموں نے اپنے پلاٹینیم کھلاڑیوں کو گولڈ میں رکھا تھا، اور کچھ پلاٹینیم کھلاڑیوں کو سرپرست یا برینڈ ایمبیسیڈرز کے طور پر نامزد کیا گیا تھا، جس سے ٹیم کی ساخت متاثر ہوئی اور دوسری ٹیموں کو نقصان پہنچا۔ شاید یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا گذشتہ پانچ سالوں میں بہت اچھا فیصلہ ہے۔
’رائٹ ٹو میچ‘ کے ضابطے کے تحت کوئی بھی فرنچائز کسی کھلاڑی کو ریلیز کرتی ہے تو وہ اُس کی کامیاب بولی کے برابر رقم کی بولی لگا کر اسے واپس حاصل کر سکتی ہے۔ لیکن اب اس شق کو ختم کر دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہRashid Latif
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پاکستان سپر لیگ کے حوالے سے کوئی اہم اعلان ہو اور ملتان سلطانز کے سابق مالک علی ترین خاموش رہیں، یہ تو ممکن ہی نہیں ہے۔ اس معاملے پر بھی لب کشائی کرتے ہوئے علی ترین نے ایکس پر لکھا کہ ’پلیئرز آکشن یہ واقعی پی ایس ایل کے نئے دور کا آغاز ہے۔‘
جنید احمد نامی صارف نے لکھا کہ ’پی ایس ایل کا ماڈل اچھا قدم ہے۔۔لیکن پوری فرنچائز میں کھلاڑیوں کا بجٹ 16 لاکھ ڈالرز یعنی 45 کروڑ پاکستانی روپے ہے، جو اب بھی بہت کم ہے۔۔آئی پی ایل میں ایک کھلاڑی 25 کروڑ انڈین روپے کماتا ہے، جو پی ایس ایل کے پورے بجٹ سے زیادہ ہے۔‘
سلیم عباس جنجوعہ نامی صارف لکھتے ہیں کہ آخرکار پاکستان سپر لیگ دوسری لیگز سے مقابلے کی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ نیلامی، پی ایس ایل میں بڑے ناموں کو لانے کے لیے کشش کا باعث بنے گی۔
محمد ثنااللہ نامی صارف لکھتے ہیں کہ وہ نیلامی کے حق میں ہیں، لیکن ایک ٹیم کا بجٹ صرف 16 لاکھ ڈالرز ہونے کی وجہ سے یہ زیادہ دلچسپ نہیں ہو گی، اس بجٹ کو کم از کم 30 لاکھ ڈالرز ہونا چاہیے تھا۔
بعض صارفین فیصل آباد میں پی ایس ایل میچز کے انعقاد کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں تو وہیں پشاور کو شامل نہ کرنے پر نالاں ہیں۔













