’گھر پیسے بھیجنا اور گزارا کرنا مشکل ہو گیا ہے‘: خلیجی ممالک میں پاکستانی مزدور بھی ایران، اسرائیل اور امریکہ کی جنگ سے متاثر

UAE

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنگذشتہ سنیچر کو خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایران نے خلیجی ممالک کو ڈرون اور میزائلوں سے نشانہ بنایا
    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

’چند دن پہلے تک میرا کام بہت اچھا چل رہا تھا لیکن اب کئی دن ایسے گزر جاتے ہیں جب کوئی کام نہیں ملتا۔ گذشتہ پانچ سال کے دوران میں نے خود پر اور اپنے خاندان پر چڑھا ہوا قرضہ اتارا، اب میرا ہدف اپنا مکان بنانا تھا۔ مگر صورتحال ایسی رہی تو دبئی میں بھی روٹی کا حصول مشکل ہوسکتا ہے۔‘

یہ کہنا ہے مردان سے تعلق رکھنے والے 34 سالہ الیکٹریشن عمران خان (ان کی حفاظت کے پیشِ نظر ان کی شناخت چھپائی گئی ہے) کا جو گذشتہ پانچ برس سے دبئی میں کام کر رہے ہیں۔ عمران ان ہزاروں پاکستانی مزدوروں میں شامل ہیں جو خلیجی ممالک میں آزاد یا غیر رسمی ویزوں پر مختلف شعبوں میں عارضی بنیادوں پر کام کرتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے اور تہران کی جوابی کارروائیوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی غیر یقینی کی صورتحال نے عمران خان جیسے ہزاروں تارکینِ وطن کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔

ایک طویل عرصے سے متحدہ عرب امارات کا تاثر ایک ایسے ملک کے طور پر تھا جسے خطے میں پیش والے دوسرے مسائل سے مبرا سمجھا جاتا تھا۔ تاہم گذشتہ سنیچر کے روز ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایران نے خلیجی ممالک بشمول متحدہ عرب امارات کو ڈرون اور میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ جس کے بعد متحدہ عرب امارات کو اپنی فضائی حدود بھی بند کرنی پڑی۔

عمران خان کے مطابق غیر غیر یقینی کی اس صورتحال نے ان کے روزگار کے مواقع پر بھی اثر ڈالا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ پہلے ہفتے میں تقریباً ہر روز کام مل جاتا تھا۔ ’اب کبھی تین دن اور کبھی چار دن بھی انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے جیسے لوگوں کے لیے کام کے رکنے سے بہت مشکل ہو جاتی ہے کیونکہ ہماری آمدنی صرف مزدوری پر ہی منحصر ہوتی ہے۔‘

متحدہ عرب امارات میں تعمیراتی کام سست روی کا شکار

دبئی تعمیراتی

،تصویر کا ذریعہCorbis via Getty Images

،تصویر کا کیپشنشارجہ میں کام کرنے والے خالد محمود کا کہنا ہے کہ شارجہ میں زیادہ تر چھوٹے رہائشی منصوبے چل رہے ہیں

متحدہ عرب امارات کی معیشت میں تعمیراتی شعبہ ایک اہم ستون رہا ہے۔ بلند و بالا عمارتوں اور رہائشی منصوبوں کی تعمیر اور انفراسٹرکچر کے بڑے پروجیکٹس نے لاکھوں غیر ملکی مزدوروں کو روزگار فراہم کیا ہے۔

لیکن آزاد ویزا پر کام کرنے والے مزدوروں کے مطابق چھوٹے اور درمیانے درجے کے منصوبے اب سست روی کا شکار ہیں۔

دبئی میں مزدوری کرنے والے وقاص احمد (ان کی حفاظت کے پیشِ نظر ان کی شناخت چھپائی گئی ہے) کہتے ہیں ’بڑے پروجیکٹ ابھی بھی چل رہے ہیں، لیکن چھوٹے ٹھیکیداروں کے پاس کام کم ہو گیا ہے۔ پہلے ہمیں روزانہ سائٹ پر بلا لیا جاتا تھا، اب نہیں بلایا جارہا ہے۔‘

شارجہ میں کام کرنے والے خالد محمود (فرضی نام) کا کہنا ہے کہ شارجہ میں زیادہ تر چھوٹے رہائشی منصوبے چل رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب مارکیٹ سست ہوتی ہے تو یہی کام سب سے پہلے متاثر ہوتا ہے۔

’پہلے اس طرح ہوتا تھا کہ اگر شارجہ میں کام کم ہوجائے تو ہم دوسری ریاستوں میں کام تلاش کرلیتے تھے۔ مگر اب تو ایسا بھی ممکن نہیں ہے۔‘

عجمان میں بطور راج مستری کام کرنے والے یوسف خان (حفاظت کے پیشِ نظر ان کی شناخت چھپائی گئی ہے) کہتے ہیں کہ پہلے صبح نکلتے تھے تو یقین ہوتا تھا کہ کہیں نہ کہیں کام مل جائے گا۔ اب اکثر ایسا ہوتا ہے کہ شام کو خالی ہاتھ واپس آنا پڑتا ہے۔

مزدوروں کے مطابق مستقل ملازمین کے مقابلے میں آزاد ویزا والے سب سے پہلے متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ وہ روزانہ یا عارضی بنیادوں پر کام کرتے ہیں۔

یکم مارچ کو دبئی کی جبل علی بندرگاہ پر ایرانی میزائل حملے کے بعد دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنمتحدہ عرب امارات کی معیشت میں تعمیراتی شعبہ ایک اہم ستون رہا ہے

شپنگ اور کارگو کے شعبہ بھی جنگ سے متاثر

متحدہ عرب امارات کی بندرگاہیں خطے کی تجارت کا اہم مرکز ہیں، لیکن کارگو اور شپنگ کے شعبے میں بھی غیر یقینی کی صورتحال کے باعث لوگوں کا کام متاثر ہوا ہے۔

دبئی میں کارگو ہینڈلنگ کا کام کرنے والے ناصر علی (فرضی نام) کہتے ہیں کہ کارگو کا کام مکمل بند نہیں ہوا تاہم اب پہلے جتنی مصروفیت نہیں رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ کمپنیوں نے شپمنٹ کم کر دی ہیں جس کی وجہ سے مزدوروں کو مسلسل کام نہیں مل رہا۔

ابوظہبی میں گودام میں کام کرنے والے ارشد محمود (فرضی نام) بتاتے ہیں، ’پہلے ہفتے میں کئی بڑی شپمنٹس آتی تھیں، اب تو لوڈنگ ہو ہی نہیں رہی ہے۔ اس کا اثر سیدھا مزدوروں کی آمدنی پر پڑتا ہے۔‘

ایسا نہیں ہے کہ موجودہ حالات کا اثر صرف مزدوروں ہی پر پڑا ہے۔ اس سے مختلف شعبہ زندگی کے لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

چھوٹے کاروبار

دبئی میں رہنے والی پاکستانی خاتون عائشہ فاروق (فرضی نام) بچوں کو ریاضی اور انگریزی کی ٹیوشن پڑھاتی ہیں۔ اس سے انھیں اچھی آمدن ہوتی تھی مگر ایران کے حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات میں تعلیمی ادروں نے کلاسز آن لائن لینی شروع کر دی ہیں اور والدین کی بڑی اکثریت نے بچوں کی ٹیوشن ختم کردی ہے۔

’پہلے بچے گھر آ کر ٹیوشن لیتے تھے، میں روزانہ کئی بچوں کو پڑھاتی تھی۔ اب شاگردوں کی تعداد کافی کم ہو گئی ہے۔ کئی والدین نے کہا ہے کہ اگر میں ان کے گھر جا کر پڑھا سکوں تو ٹھیک ہے مگر یہ ممکن نہیں ہے۔ اس وقت کئی بچوں کی ٹیوشن بند ہوگئی ہے۔ اس کا اثر میری آمدن پر پڑرہا ہے۔‘

سیالکوٹ کے رہائشی حارث محمود (فرضی نام) جو بحرین کی ایک ورکشاپ میں مکینک کے طور پر کام کرتے ہیں کہتے ہیں کہ پہلے روزانہ کی بنیاد پر گاڑیاں مرمت کے لیے آتی تھیں، اب کام کم ہو گیا ہے۔

اسی طرح موبائل فون مرمت اور چھوٹے دکانوں پر کام کرنے والے مزدور بھی گاہکوں کی کمی کا رونا رو رہے ہیں۔

دبئی ایئر پورٹ

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستان تارکین وطن کا کہنا ہے کہ جنگ کے باعث ہوائی ٹکٹس بھی مہنگی ہو گئی ہیں

عید پر گھر جانے کی خواہش اور ٹکٹوں کی قیمت میں اضافہ

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

خلیجی ممالک میں موجود بہت سے پاکستانی مزدور اس سال عید پر وطن جانے کا سوچ رہے تھے، لیکن مشکلات کی وجہ سے یہ ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

دبئی میں بطور ڈرائیور کام کرنے والے عمران شاہ (فرضی نام) کہتے ہیں: ’فلائٹس کم ہیں اور ٹکٹ بہت مہنگے ہو گئے ہیں۔ ایک دوست کو کمپنی نے کہا کہ ابھی نہ جائیں کیونکہ واپسی مشکل ہو سکتی ہے۔ میں گذشتہ پانچ سال سے پاکستان نہیں گیا تھا۔ اس دفعہ پکا پروگرام تھا مگر اب ٹکٹ نہیں ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت دیگر کئی کام جنگ شی متاثر ہیں لیکن ان کام اچھا چل رہا ہے۔

عمران شاہ کہتے ہیں، ’جب بھی ایران اور اسرائیل کے کشیدگی کی خبریں آتی ہیں، گھر سے فوراً فون آ جاتا ہے کہ حالات کیسے ہیں۔ ہمیں بار بار سمجھانا پڑتا ہے کہ یہاں زندگی ابھی معمول کے مطابق ہے کوئی خطرہ نہیں مگر وہ نہیں سمجھتے۔‘

روزمرہ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی لوگوں کو متاثر کررہی ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں کام کرنے والے مزدورں کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنے اخراجات کو قابو میں رکھنا ہوتا ہے۔

چار سال سے قطر میں رہائش پذیر امجد علی (فرضی نام)، جو کہ پیشے سے الیکٹریشن ہیں، بتاتے ہیں کہ ’پہلے سیب چار ریال میں ملتا تھا، اب وہی سیب دس ریال تک پہنچ گیا ہے۔ پیاز کی قیمت اڑھائی ریال سے بڑھ کر سات ریال ہو گئی ہے۔ گوشت اور چکن کی قیمتیں بھی کافی بڑھ گئی ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ہم پہلے ہی محدود آمدنی میں گزارہ کرتے ہیں۔ جب کھانے پینے کی چیزیں مہنگی ہو جائیں تو گھر پیسے بھیجنا اور اپنا گزارا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

بحرین میں بھی یہی صورتحال ہے۔ حارث بتاتے ہیں ’اب صرف کھانے پینے کی چیزیں مہنگی نہیں ہو رہیں بلکہ کرایہ اور دیگر اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔ اس سے مزدوروں کی زندگی پہلے سے زیادہ مشکل ہو گئی ہے۔

’میرا کاروبار تو ٹھیک ہے‘

سلیمان جاذب دبئی میں شپنگ کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دبئی کے پورٹ میں تو اس وقت ہر قسم کا کاروبار ہو رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ دبئی کے پورٹ سے امپورٹ اور ایکسپورٹ کے کنیٹیر جارہے ہیں۔ ان کے مطابق آج ہی چین سے تین کنیٹنر پہنچے تھے جو کہ فوراً چھوڑ دیے گے تھے۔

جاذب کے مطابق، دبئی پورٹ ہر قسم کے کاروبار اور سرگرمیوں کے لیے کھلی ہے التبہ اگر کنٹنیرز کی تعداد کم ہوئی ہے تو یہ صرف دبئی کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کی صورتحال کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اج بھی کاروبار اور سروس ملی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کاروباری زندگی جاری و ساری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دبئی اور متحدہ عرب امارات کی دیگر ریاستوں میں کوئی خوف نہیں ہیں۔ معمول کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ مارکیٹوں اور بازاروں میں تمام اشیا دستیاب ہیں، قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہے اور اب تو ایئر پورٹس سے بھی پروازیں شروع ہوچکی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں افطار پارٹیاں بھی ہورہی ہیں، میں خود روز کسی نہ کسی افطار پارٹی میں شرکت کررہا ہوں۔