پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں بارود سے بھری گاڑی میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم ایک نوجوان شہری ہلاک جبکہ 14 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
ڈسٹرکٹ پولیس افسر جنوبی وزیرستان لوئر طاہر شاہ وزیر کے مطابق یہ دھماکہ اعظم ورسک بازار کے قریب پیش آیا، جس میں زیادہ تر عام شہری متاثر ہوئے۔
ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال وانا کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ جان محمد شنواری نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال میں 14 زخمیوں کو لایا گیا ہے، جن میں سے تین سے چار زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ تمام زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ زخمیوں میں تین بچے بھی شامل ہیں۔
مقامی افراد کے مطابق دھماکے میں ہلاک ہونے والے نوجوان محمد اقبال کرکٹ کے شوقین تھے اور دھماکے کے وقت وہ کرکٹ کھیل رہے تھے۔ زخمیوں میں آٹھ سالہ ایمل کانسی بھی شامل ہے۔ ایمل کے والد محمد اسلم نے بتایا کہ بچے اپنے گھر کے باہر کھیل رہے تھے کہ اچانک دھماکہ ہوا، جس کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ اُن کے مطابق ان کا بیٹا وہیں زخمی ہوا جسے فوری طور پر وانا ہسپتال منتقل کیا گیا۔
اعظم ورسک علاقہ، ضلعی صدر مقام وانا سے تقریباً 16 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دھماکہ اعظم ورسک بازار سے چند میٹر کے فاصلے پر ہوا، جبکہ قریب ہی سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ بھی قائم ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جب بارود سے بھری گاڑی علاقے سے گزر رہی تھی تو سکیورٹی اہلکاروں نے اس پر فائرنگ کی، جس کے بعد گاڑی میں دھماکہ ہوا۔ اطلاعات کے مطابق بظاہر شدت پسندوں کا ہدف سکیورٹی اہلکار تھے، تاہم ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی دھماکہ ہو جانے کے باعث زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑا۔
خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں ایک عرصے سے تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں بم دھماکوں کے ساتھ ساتھ ڈرون حملے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹارگٹ کلنگ، سرکاری ملازمین اور پولیس اہلکاروں کے اغوا اور قتل کے واقعات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
تین روز قبل شمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ کے قریب ایک قبائلی رہنما ملک سیف اللہ خان کو شدت پسندوں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا، جس کے بعد مقامی افراد نے ’چیغہ پارٹی‘ تشکیل دے کر شدت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں پر حملہ کیا تھا۔ اس واقعے میں شدت پسندوں کے جانی نقصان کی اطلاعات تو موصول ہوئیں، تاہم اس کی تصدیق کے لیے کوئی واضح شواہد سامنے نہیں آئے۔
ایک سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں حالات کشیدہ ہیں اور حالیہ واقعے کے بعد لوگوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔