لائیو, سعودی عرب کا آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مکمل بحالی کا مطالبہ، پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کا بھی اعلان

سعودی وزارتِ خارجہ نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر ایک بیان میں اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری جہاز رانی کی آزادی بحال ہونا انتہائی اہم ہے، اور صورتِ حال کو اپنی معمول کی حالت میں واپس لایا جانا چاہیے جیسا کہ یہ 28 فروری سے قبل تھی، تاکہ جہازوں کی محفوظ اور بلا رکاوٹ آمدورفت یقینی بنائی جا سکے۔

خلاصہ

  • سعودی عرب کا آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مکمل بحالی کا مطالبہ، پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کا بھی اعلان
  • ایران سے متعلق منصوبے بہت اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں: ٹرمپ
  • متحدہ عرب امارات کا سکولوں کے لیے آن لائن کلاسز کا اعلان،
  • یو اے ای کا تین ایرانی میزائل مار گرانے کا دعویٰ
  • امریکہ کا اپنے بحری جہاز اور ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزارنے کا دعویٰ
  • گذشتہ چند گھنٹوں میں کوئی تجارتی جہاز یا آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے نہیں گزرا: پاسدارانِ انقلاب
  • آبنائے ہرمز میں امریکی ڈسٹرائر جہازوں کو متنبہ کرنے کے لیے 'کروز میزائل، راکٹ اور جنگی ڈرون' فائر کیے گئے: ایرانی فوج

لائیو کوریج

  1. سعودی عرب کا آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کا مطالبہ، پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کا اعلان

    Pakistan, Saudi Arabia

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے خطے میں جاری موجودہ عسکری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین سے کشیدگی کم کرنے، مزید تصادم سے گریز اور تحمل اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔

    سعودی وزرات کی طرف سے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب پاکستانی ثالثی اور سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے تاکہ ایک ایسا سیاسی حل تلاش کیا جا سکے جو خطے کو مزید کشیدگی، عدم استحکام اور سلامتی کو لاحق خطرات سے بچا سکے، کیونکہ یہ صورتحال خطے اور دنیا کے مفاد میں نہیں ہے۔

    وزارتِ خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری جہاز رانی کی آزادی بحال ہونا انتہائی اہم ہے، اور صورتِ حال کو اپنی قدرتی حالت میں واپس لایا جانا چاہیے جیسا کہ یہ 28 فروری سے قبل تھی، تاکہ جہازوں کی محفوظ اور بلا رکاوٹ آمدورفت یقینی بنائی جا سکے۔

  2. امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز امریکی فوجی حفاظت میں آبنائے ہرمز سے گزرا: شپنگ کمپنی

    شپنگ کمپنی مرسک نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس کا ایک امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز امریکی فوج کی حفاظت میں کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز سے باہر نکل گیا ہے۔

    مرسک کے مطابق یہ سفر کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے بغیر مکمل ہوا اور جہاز کے تمام عملے کے ارکان محفوظ اور خیریت سے ہیں۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ الائنس فیئر فیکس نامی یہ جہاز فروری 2026 سے خلیج میں پھنسا ہوا تھا، جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا آغاز ہوا تھا۔

    مرسک کے بیان کے مطابق امریکی فوج نے کمپنی سے رابطہ کیا اور جہاز کو مدد کی پیشکش کی۔ ایک ’جامع سکیورٹی پلان‘ تیار کیے جانے کے بعد جہاز کو خلیج چھوڑنے کی اجازت دی گئی۔

    کمپنی کے مطابق بعد ازاں یہ جہاز امریکی فوجی اثاثوں کے ہمراہ خلیج سے روانہ ہوا، اور مرسک نے اس آپریشن کو ممکن بنانے پر امریکی فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور مؤثر رابطہ کاری کو سراہا ہے۔

    اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے بیان دیا تھا کہ امریکی پرچم بردار دو تجارتی جہاز کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں، تاہم ایران کی پاسداران انقلاب نے امریکہ کے اس دعوے کو ’واشگاف جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔

  3. جنوبی وزیرستان میں بارود سے بھری گاڑی میں دھماکہ، ایک شہری ہلاک، 14 زخمی, عزیزاللہ خان، بی بی سی اردو پشاور

    پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں بارود سے بھری گاڑی میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم ایک نوجوان شہری ہلاک جبکہ 14 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    ڈسٹرکٹ پولیس افسر جنوبی وزیرستان لوئر طاہر شاہ وزیر کے مطابق یہ دھماکہ اعظم ورسک بازار کے قریب پیش آیا، جس میں زیادہ تر عام شہری متاثر ہوئے۔

    ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال وانا کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ جان محمد شنواری نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال میں 14 زخمیوں کو لایا گیا ہے، جن میں سے تین سے چار زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ تمام زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ زخمیوں میں تین بچے بھی شامل ہیں۔

    مقامی افراد کے مطابق دھماکے میں ہلاک ہونے والے نوجوان محمد اقبال کرکٹ کے شوقین تھے اور دھماکے کے وقت وہ کرکٹ کھیل رہے تھے۔ زخمیوں میں آٹھ سالہ ایمل کانسی بھی شامل ہے۔ ایمل کے والد محمد اسلم نے بتایا کہ بچے اپنے گھر کے باہر کھیل رہے تھے کہ اچانک دھماکہ ہوا، جس کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ اُن کے مطابق ان کا بیٹا وہیں زخمی ہوا جسے فوری طور پر وانا ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    اعظم ورسک علاقہ، ضلعی صدر مقام وانا سے تقریباً 16 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دھماکہ اعظم ورسک بازار سے چند میٹر کے فاصلے پر ہوا، جبکہ قریب ہی سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ بھی قائم ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ جب بارود سے بھری گاڑی علاقے سے گزر رہی تھی تو سکیورٹی اہلکاروں نے اس پر فائرنگ کی، جس کے بعد گاڑی میں دھماکہ ہوا۔ اطلاعات کے مطابق بظاہر شدت پسندوں کا ہدف سکیورٹی اہلکار تھے، تاہم ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی دھماکہ ہو جانے کے باعث زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑا۔

    خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں ایک عرصے سے تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں بم دھماکوں کے ساتھ ساتھ ڈرون حملے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹارگٹ کلنگ، سرکاری ملازمین اور پولیس اہلکاروں کے اغوا اور قتل کے واقعات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

    تین روز قبل شمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ کے قریب ایک قبائلی رہنما ملک سیف اللہ خان کو شدت پسندوں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا، جس کے بعد مقامی افراد نے ’چیغہ پارٹی‘ تشکیل دے کر شدت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں پر حملہ کیا تھا۔ اس واقعے میں شدت پسندوں کے جانی نقصان کی اطلاعات تو موصول ہوئیں، تاہم اس کی تصدیق کے لیے کوئی واضح شواہد سامنے نہیں آئے۔

    ایک سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں حالات کشیدہ ہیں اور حالیہ واقعے کے بعد لوگوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

  4. فضائی دفاعی نظام نے پیر کو ایران کے 15 میزائل اور چار ڈرون روکے: متحدہ عرب امارات

    متحدہ عرب امارات نے پیر کے روز اپنی دفاعی کارروائیوں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے مطابق ملک کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے 12 بیلسٹک میزائل، تین کروز میزائل اور چار ڈرونز کو ناکارہ بنایا، جن کے نتیجے میں تین افراد کو درمیانی نوعیت کی چوٹیں آئیں۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یو اے ای کے مختلف علاقوں میں آج حملوں کی متعدد اطلاعات موصول ہوئیں، جن میں الفجیرہ میں ڈرون حملے کی رپورٹ بھی شامل ہے، جہاں بتایا جاتا ہے کہ تین انڈین شہری زخمی ہوئے ہیں۔

    وزارتِ دفاع کے مطابق تنازع کے آغاز سے اب تک ملک میں زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 227 ہو چکی ہے، جبکہ تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب ایرانی سرکاری ٹی وی نے ایک نامعلوم ’سینیئر فوجی اہلکار‘ کے حوالے سے کہا ہے کہ ’ایران کا یو اے ای کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا‘۔ تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس بیان پر مزید کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

  5. امریکی ہیلی کاپٹروں نے چھوٹی ایرانی کشتیوں کو تباہ کیا: سینٹ کام کا دعویٰ

    ہیلی کاپٹرز

    ،تصویر کا ذریعہCentcom

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کا کہنا ہے کہ اس نے ایرانی چھوٹی کشتیوں کو تباہ کرنے کے لیے ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا ہے۔

    یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی کوششوں کے تحت سات ایرانی چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    سینٹ کام نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’آج کے اوائل میں سی ہاک اور امریکی فوج کے اے ایچ-64 اپاچی ہیلی کاپٹروں کو اُن چھوٹی ایرانی کشتیوں کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا جو تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ بن رہی تھیں۔‘

    ایران کی جانب سے تاحال ان دعوؤں پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

  6. متبادل راستوں کی تلاش: کویت کے لیے بھیجا گیا جہاز گوادر پورٹ پہنچ گیا, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    Gwadar

    آبنائے ہرمز میں موجودہ صورتحال کے باعث کویت کے لیے سامان لے جانے والے ایک بحری جہاز کو گوادر پورٹ کی جانب ڈائیورٹ کر دیا گیا ہے۔

    گوادر پورٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری ایک اعلامیے کے مطابق یہ مئی 2026 میں گوادر پورٹ پر لنگر انداز ہونے والا پہلا بحری جہاز ہے۔

    Gwadar

    ایم وی شو لانگ نامی اس جہاز میں 16 ہزار 77 میٹرک ٹن ٹرانس شپمنٹ کارگو موجود ہے، جس میں 13 ہزار سے زائد پیکجز پر مشتمل چینی ساختہ صنعتی آلات اور پائپس شامل ہیں۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ سامان کویت کے لیے روانہ کیا گیا تھا، تاہم آبنائے ہرمز میں جاری صورتحال کے پیشِ نظر جہاز کو گوادر منتقل کیا گیا۔

    Gwadar

    چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نورالحق بلوچ کے مطابق اپریل 2026 کے دوران گوادر پورٹ پر چار ٹرانس شپمنٹ جہازوں کی آمد ریکارڈ کی گئی، جو اُن کے بقول اس بات کا ثبوت ہے کہ علاقائی سطح پر متبادل تجارتی راستوں کی تلاش میں گوادر پورٹ کی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ڈائیورٹ ہونے والے جہازوں کے لیے برتھنگ، کارگو ہینڈلنگ اور دستاویزی کارروائیاں مؤثر انداز میں مکمل کی جا رہی ہیں، جس سے پورٹ کی آپریشنل تیاری اور عالمی تجارت کے لیے ایک قابلِ اعتماد مرکز کے طور پر اس کی حیثیت مزید مضبوط ہو رہی ہے۔

  7. ایران سے متعلق منصوبے ’بہت اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں‘: ٹرمپ, برنڈ ڈبسمین جونیئر، وائٹ ہاؤس رپورٹر

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    میں اس وقت وائٹ ہاؤس کے ایسٹ روم میں موجود ہوں، جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ درجنوں سرکاری اہلکاروں اور مہمانوں سے خطاب کر رہے ہیں۔

    یہ تقریب بنیادی طور پر داخلی امور اور حکومت کی اُن پالیسیوں پر مرکوز ہے جن کے بارے میں انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ ملک بھر میں چھوٹے کاروباروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گی۔

    تاہم صدر ٹرمپ نے اپنی گفتگو کا آغاز ایران کا حوالہ دیتے ہوئے کیا اور اسے ایک ’چھوٹا سا ضمنی موضوع‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران سے متعلق معاملات ’بہت اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں‘۔

    صدر ٹرمپ نے آج کی کشیدگی یا اس کے تیل کی قیمتوں پر ممکنہ اثرات کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

    دوسری جانب، داخلی عوامل بھی اس تناظر میں اہم ہیں۔ آج کی یہ تقریب، اور گذشتہ چند ہفتوں میں ہونے والے اسی نوعیت کے دیگر مواقع، اس مقصد کے لیے منعقد کیے جا رہے ہیں کہ امریکی عوام کو قائل کیا جا سکے کہ صدر ٹرمپ اور ری پبلکن پارٹی ان کی معاشی صورتحال کے لیے بہتر ثابت ہو سکتے ہیں۔

    تاہم پٹرول پمپوں پر ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اس مؤقف کو پیچیدہ بنا رہی ہیں، جس سے وائٹ ہاؤس کے لیے ایک چیلنج پیدا ہو گیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ ایک ایسے تنازعے کے دوران عالمی منڈیوں کو مستحکم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے جو امریکی عوام میں کبھی زیادہ مقبول نہیں رہا۔

    صدر ٹرمپ نے اُن رائے عامہ کے جائزوں کو بھی مسترد کر دیا جن میں جنگ کو غیر مقبول قرار دیا گیا ہے، اور انہیں ’جعلی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے متعلق خدشات کو کم کر کے پیش کر رہا ہے۔

  8. امریکہ کے قبضے میں لیے گئے ایرانی جہاز کا عملہ وطن واپس پہنچ گیا

    توسکا جہاز

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی فوجی فورسز کی جانب سے ضبط کیے گئے کنٹینر جہاز توسکا کے پندرہ ایرانی عملے کے ارکان کو ایران کے جنوب مشرقی علاقے میں واقع ریمداں سرحدی گزرگاہ کے راستے وطن واپس بھیج دیا گیا۔

    ایران کے خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق کنٹینر جہاز توسکا کے یہ 15 ایرانی عملے کے ارکان، جنھیں بین الاقوامی پانیوں میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کے بعد پاکستان منتقل کیا گیا تھا، پیر کی دوپہر سیستان و بلوچستان صوبے میں واقع ریمداں بارڈر ٹرمینل کے ذریعے ایرانی حدود میں داخل ہوئے۔

    سرحدی ضلع دشتیاری کے گورنر نے بتایا کہ 15 رکنی گروپ کی واپسی اور قانونی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد، کنٹینر جہاز کے تمام ایرانی عملے کے ارکان اب وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔

    جہاز کے عملے کے بعض اہلِ خانہ اس سے قبل ہی ایران واپس آ چکے تھے۔

    ایران کا مؤقف ہے کہ بحری قزاقی کے ایک عمل کے دوران امریکہ نے حال ہی میں ایرانی کنٹینر جہاز توسکا کو قبضے میں لے لیا، جو 28 ایرانی عملے کے ارکان کے ساتھ ایران کی جانب روانہ تھا۔

    ایران نے اعلان کیا تھا کہ ایرانی عملے اور ان کے اہلِ خانہ کی موجودگی کے باعث جہاز کو آزاد کرانے کے لیے فوجی کارروائی سے گریز کیا گیا۔

    تاہم ایران نے سرکاری ذرائع کے ذریعے عملے کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے اور اس مقصد کے لیے ضروری سفارتی کوششیں جاری رکھیں۔

    امریکی بحریہ نے جہاز توسکا پر اُس وقت حملہ کیا جب وہ چین سے ایران کی جانب رواں دواں تھا، جس کے بعد جہاز کا کنٹرول سنبھال لیا گیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ جہاز ایرانی بندرگاہ بندر عباس جا رہا تھا اور الزام عائد کیا گیا کہ جہاز نے چھ گھنٹے تک بار بار دی گئی وارننگز کو نظر انداز کرتے ہوئے انجن روم خالی نہیں کیا۔

  9. متحدہ عرب امارات کا سکولوں کے لیے آن لائن کلاسز کا اعلان

    Online

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ تعلیم و تربیت نے تعلیمی ادارے بند کرنے اور آن لائن کلاسز کا حکمانہ جاری کر دیا ہے۔

    اعلان کے مطابق یہ فیصلہ طلبہ، تدریسی اور انتظامی عملے کی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

    سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر وزارت تعلیم نے منگل، 5 مئی 2026 سے جمعہ، 8 مئی 2026 تک ملک بھر میں نرسریوں اور تمام سرکاری و نجی سکولوں کے طلبہ، اساتذہ اور انتظامی عملے کے لیے آن لائن تعلیم کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔

    بیان کے مطابق یہ فیصلہ تعلیمی اداروں کی حفاظت اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ صورتحال کا جائزہ جمعہ، 8 مئی 2026 کو لیا جائے گا، اور ضرورت پڑنے پر اس مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

  10. پاکستان کا تجارتی خسارہ اپریل میں بڑھ کر چار ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کا تجارتی خسارہ اپریل 2026 میں نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ درآمدات میں برآمدات کے مقابلے میں زیادہ تیز اضافہ ہے۔

    وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے آج جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2026 میں ملک کا تجارتی خسارہ 4.07 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 19.1 فیصد زیادہ ہے۔ ماہانہ بنیاد پر خسارے میں 43.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو بیرونی شعبے پر بڑھتے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔

    اگرچہ برآمدات میں کچھ بہتری دیکھی گئی اور یہ 14 فیصد اضافے کے ساتھ 2.48 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، تاہم درآمدات میں تیز رفتار اضافے کے باعث یہ بہتری خسارے کو کم کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہوئی۔

    دوسری جانب اپریل میں درآمدات بڑھ کر 6.55 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو سالانہ بنیاد پر 17.1 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 28.4 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتی ہیں۔

    مالی سال 2026 کے پہلے دس ماہ کے دوران مجموعی تجارتی خسارہ 31.99 ارب ڈالر رہا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 20.3 فیصد زیادہ ہے۔ اس عرصے میں برآمدات میں 6.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ گھٹ کر 25.21 ارب ڈالر رہ گئیں، جبکہ درآمدات 6.9 فیصد اضافے کے ساتھ 57.20 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔

  11. ایرانی جارحیت ناقابلِ قبول اور خودمختاری کے خلاف ہے: متحدہ عرب امارات

    متحدہ عرب امارات نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ہونے والی ’ایرانی جارحیت کی نئی لہر‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’خطرناک اشتعال انگیزی‘ قرار دیا ہے۔

    یو اے ای کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں میزائلوں اور ڈرونز کے استعمال کو ’ایرانی جارحیت کی تجدید‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور کہا کہ یہ ایک خطرناک اور ناقابلِ قبول اضافہ ہے۔

    وزارت نے زور دیا کہ یہ پیش رفت متحدہ عرب امارات کے امن و استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ ہے، اور اس بات پر بھی زور دیا کہ یو اے ای اپنی خودمختاری اور سلامتی کو متاثر کرنے والی کسی بھی کارروائی کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔

    متحدہ عرب امارات کی جانب سے جاری کیے گئے ایک تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کو آج ہونے والے نئے حملوں کا مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ حملے خطرناک اشتعال انگیزی اور ناقابلِ قبول حد سے تجاوز ہیں‘، اور یہ کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔

    یو اے ای نے مزید کہا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ان حملوں کے جواب میں کارروائی کا اپنا مکمل اور جائز حق محفوظ رکھتا ہے۔

    دوسری جانب ایرانی سرکاری ٹی وی نے ایک نامعلوم ’سینیئر فوجی اہلکار‘ کے حوالے سے کہا ہے کہ ’ایران کا متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔‘

    ایران کی جانب سے اس بیان کے بعد تاحال کسی سرکاری اہلکار نے مزید ردِعمل نہیں دیا۔

  12. عمان کے ایک قصبے میں رہائشی عمارت پر حملے میں دو غیر ملکی زخمی: سرکاری میڈیا

    عمان کا کہنا ہے کہ ولایتِ بخا کے ایک قصبے میں واقع رہائشی عمارت پر حملے کے نتیجے میں دو غیر ملکی زخمی ہو گئے ہیں۔

    عمان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایک سکیورٹی ذریعے کا کہنا ہے کہ ولایتِ بخا کے علاقے طیبات میں جس رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، وہاں ایک کمپنی کے ملازمین رہائش پذیر تھے۔

    خبر کے مطابق اس حملے میں دو غیر ملکی ملازمین معمولی زخمی ہوئے، جبکہ چار گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ حملے کے نتیجے میں قریب ہی واقع ایک گھر کی کھڑکیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔

    متعلقہ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

  13. متحدہ عرب امارات کے فجیرہ انڈسٹریل زون میں آتشزدگی، خام تیل کی قیمت 115 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی, بین کنگ، بزنس رپورٹر

    تصویر

    متحدہ عرب امارات میں حملے کی اطلاعات کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور خام تیل کی قیمت 115 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

    پیر کو خام تیل کی قیمتوں میں اُتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری تھا، تاہم پیر کی شام فجیرہ بندرگاہ کی اہم تنصیب پر حملے کی اطلاع کے بعد تیل کی قیمت میں پانچ فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔

    فجیرہ آبنائے ہرمز سے آگے متحدہ عرب امارات کے مشرقی ساحل پر واقع ہے۔

    ابوظہبی کے آئل فیلڈز سے ایک پائپ لائن فجیرہ تک جاتی ہے، جس سے آبنائے کے مؤثر طریقے سے بند ہونے کے باوجود محدود مقدار میں خام تیل کو ٹینکروں پر لوڈ کیا جا سکتا ہے اور عالمی منڈیوں میں بھیجا جا سکتا ہے۔

  14. قطر نے متحدہ عرب امارات کے جہاز پر مبینہ حملے کو ’بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی‘ قرار دے دیا

    قطر نے متحدہ عرب امارات کے فجیرہ پیٹرولیم انڈسٹریز زون میں ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے۔

    قطری وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ بین الاقوامی قانون اور میری ٹائم نیوی گیشن کی آزادی کے اُصول کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    قطر نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو غیر مشروط طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  15. فجیرہ بندرگاہ پر ایرانی ڈرون حملے میں تین انڈین شہری زخمی

    فجیرہ گورنمنٹ میڈیا آفس کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ فجیرہ پیٹرولیم انڈسٹریز زون پر ہونے والے ایرانی ڈرون حملے کے نتیجے میں تین انڈین شہری زخمی ہوئے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ تینوں افراد کو معمولی چوٹیں آئی ہیں اور انھیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

  16. ایرانی ڈرون حملے کے نتیجے میں فجیرہ بندرگاہ پر آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا ہے: متحدہ عرب امارات

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے ڈرون حملے کے نتیجے میں ملک میں تیل کی برآمدات کے لیے استعمال ہونے والی فجیرہ بندرگاہ پر آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا ہے۔

    فجیرہ امارات کی سب سے بڑی بندرگاہ اور تیل ذخیرہ کرنے کی اہم ترین تنصیب ہے۔ جنگ بندی سے قبل بھی اس مقام کو ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں فجیرہ گورنمنٹ میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ سول ڈیفنس کی ٹیمیں آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    اس سے قبل متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران سے داغے گئے تین میزائل فضا میں ہی مار گرائے ہیں جبکہ چوتھا میزائل سمندر میں گرا ہے۔

    ایران کی جانب سے اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

  17. متحدہ عرب امارات کا تین ایرانی میزائل مار گرانے کا دعویٰ

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران سے داغے گئے تین میزائل فضا میں ہی مار گرائے ہیں جبکہ چوتھا میزائل سمندر میں گرا ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں سنی گئی دھماکوں کی آوازیں ان میزائلوں کو مار گرانے کی تھیں۔

    اس سے قبل متحدہ عرب امارات کی نیشنل ایمرجنسی کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر اتھارٹی نے میزائل حملے کا الرٹ جاری کرتے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات پر جانے کا مشورہ دیا تھا۔

  18. آبنائے ہرمز میں لنگر انداز جنوبی کوریا کے بحری جہاز پر حملے کا شبہ

    جنوبی کوریا کی وزارتِ بحری امور اور ماہی گیری کا کہنا ہے کہ اسے شبہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں لنگر انداز ایک جنوبی کوریائی مال بردار جہاز پر حملہ کیا گیا ہے۔

    وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تقریباً 11:40 جی ایم ٹی (پاکستانی وقت کے مطابق چار بج کر 40 منٹ) پر آبنائے ہرمز میں ایچ ایم ایم نامو نامی مال بردار جہاز پر ’مشتبہ حملے‘ کی اطلاع ملی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ جہاز متحدہ عرب امارات کے قریب سمندری حدود میں لنگر انداز تھا۔ اس پر عملے کے 24 افراد سوار ہیں جن میں چھ جنوبی کوریائی شہری جبکہ دیگر 18 کا تعلق مختلف ممالک سے ہے۔ وزارت بحری اُمور کے مطابق اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    وزارت کا کہنا ہے کہ مشتبہ حملے کے دوران انجن روم کے بائیں جانب دھماکا ہونے کی اطلاع ہے۔

    اس سے متحدہ عرب امارات کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اس کی سرکاری تیل کمپنی اڈنوک سے وابستہ ایک ٹینکر کو آج آبنائے ہرمز میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

  19. ملک کا فضائی دفاعی نظام میزائل حملے کا جواب دے رہا ہے: متحدہ عرب امارات

    متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ اس کا فضائی دفاعی نظام میزائل حملے کا جواب دے رہا ہے۔

    ملک کی نیشنل ایمرجنسی کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر اتھارٹی نے لوگوں کو محفوظ مقامات پر جانے کا مشورہ دیا ہے۔

    اس سے قبل متحدہ عرب امارات کے رہائشیوں کو ملک کی وزارت داخلہ کی جانب سے میزائل حملے کے متعلق الرٹ بھیجا گیا تھا۔

    لیکن اُس انتباہی پیغام کے کچھ ہی دیر بعد لوگوں کو حکام کی جانب سے سب کچھ ٹھیک ہے کا میسج موصول ہوا جس میں لوگوں سے کہا گیا صورتحال مکمل طور پر محفوظ ہے او وہ اپنی روز مرہ کی معمولات جاری رکھ سکتے ہیں۔

  20. ہم سینٹکام کے آبنائے ہرمز سے دو امریکی پرچم بردار جہازوں کے گزرنے کے دعوے کا جائزہ لے رہے ہیں, ایما پینگلی، بی بی سی ویریفائی

    امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی جانب سے اس دعوے کے بعد کہ دو امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز ’کامیابی سے‘ آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں ہم نے جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ میرین ٹریفک کا جائزہ لیا ہے۔

    میرین ٹریفک پر ان جہازوں سے مطابقت رکھنے والے کسی جہاز کا ڈیٹا نظر نہیں آیا، البتہ ہم اس پلیٹ فارم کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    یاد رہے کہ میرین ٹریفک بحری جہازوں کے مقامات کے متعلق متعلق ان جہازوں پر ٹریکر کے ذریعے نشر ہونے والے ڈیٹا کی بنیاد پر شائع کرتا ہے۔ اس نظام کو آٹومیٹک آئیڈینٹی فکیشن سسٹم (اے آئی ایس) کہا جاتا ہے۔

    تاہم بعض اوقات جہاز اپنی لوکیشن کی نشریات بند بھی کر سکتے ہیں جس کے باعث وہ میرین ٹریفک جیسے ٹریکنگ پلیٹ فارمز پر دکھائی نہیں دیتے۔ اس کے علاوہ جہاز ’سپیوفنگ‘ تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے اپنی لوکیشن اصل پوزیشن سے مختلف دکھا سکتے ہیں۔