طالب علموں کا بے ضرر مذاق اور استاد کی ہلاکت

امریکہ

،تصویر کا ذریعہCBS News

    • مصنف, میڈلین ہالپرٹ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • مطالعے کا وقت: 3 منٹ

جیسن اپنے طالب علموں کو ایک ’خوشگوار سرپرائز‘ دینا چاہتے تھے۔ ان کے طالب علم ان سے ایک مذاق کرنا چاہتے تھے۔ لیکن اس سب کے دوران وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

یہ امریکی ریاست جیورجیا کا واقعہ ہے جہاں کے جیسن ہیوز ایک ہائی سکول میں پڑھاتے تھے۔ حکام کے مطابق ان کے طالب علم اس دن ان کے گھر کے باہر ان سے ایک مزاق کرنے کے ارادے سے موجود تھے۔

حکام نے بتایا ہے کہ جیسن کے طالب علم رات کے وقت درختوں کے اوپر سے ان کے گھر پر ٹائلٹ پیپر پھینک رہے تھے جب جیسن نے ان کو سرپرائز دینے کا سوچتے ہوئے گھر سے باہر نکلنے کا ارادہ کیا۔ لیکن باہر بارش کی وجہ سے نمی تھی اور جیسن سڑک پر پھسل گئے۔

دوسری جانب ان کے طالب علموں نے جیسن کو باہر نکلتے دیکھا تو پریشانی میں وہاں سے نکلنے کے لیے اپنی گاڑیوں میں تیزی سے روانہ ہونے والی ایک گاڑی غلطی سے جیسن سے ٹکرا گئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جو طالب علم وہ گاڑی چلا رہا تھا اس پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے تاہم جیسن کے اہلخانہ نے کہا ہے کہ وہ مقدمہ نہیں کروانا چاہتے۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے جیسن ہیوز کی اہلیہ، جو خود بھی اسی سکول میں پڑھاتی ہیں، نے کہا کہ تمام طالب علم ان کے شوہر سے بہت محبت کرتے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ وہ خود بھی طالب علموں کی جانب سے کیے جانے والے مذاق سے پہلے سے ہی واقف تھیں اور انھیں انتظار تھا کہ ان کے شوہر ان کو ’ایسا کرتے ہوئے پکڑیں گے تو کتنا اچھا محسوس ہو گا۔‘

18 سالہ طالب علم جیڈن ریان، جن کی گاڑی سے جیسن ٹکرائے، نے دیگر دو ساتھیوں کے ساتھ مل کر اسی وقت جیسن کی مدد کرنے کی کوشش کی جس کے بعد ایمرجنسی سروس نے جیسن کو ہسپتال پہنچایا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔

جیسن کی اہلیہ نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ وہ تمام طالب علموں کے خلاف عائد الزامات ختم کرنے کے حق میں ہیں۔

’یہ ایک سانحہ تھا اور ہم نہیں چاہتے کہ ایک اور سانحہ ہو، تین طالب علموں کی زندگیاں برباد ہوں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’جیسن نے پوری زندگی ان طالب علموں پر لگائی اور ان کے خلاف مقدمہ اس محنت کی نفی کرنا ہو گا۔‘

بی بی سی نے مقامی پولیس سے اس معاملے پر موقف حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

مقامی سکول، ہال کاوئنٹی سکول ڈسٹرکٹ کے ترجمان نے مقامی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ’جیسن کی سب ہی لوگ عزت کرتے تھے۔‘