کوہلی کی 54 ویں سنچری اور انڈیا کا ’نیا وِلن‘: بلیو شرٹس کو تین سال بعد ہوم گراؤنڈ پر ون ڈے سیریز میں شکست

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیوزی لینڈ نے تیسرے اور فیصلہ کن ون ڈے کرکٹ میچ میں انڈیا کو 41 رنز سے شکست دے کر سیریز میں دو، ایک سے کامیابی حاصل کر لی ہے۔
338 رنز کے ہدف کے تعاقب میں وراٹ کوہلی کی سنچری کے باوجود انڈین ٹیم اس میچ میں کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔
یہ تین برس میں پہلا موقع ہے کہ انڈیا کو اپنے ہوم گراؤنڈ میں ون ڈے سیریز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس سے قبل 2023 میں آسٹریلیا نے انڈیا کو انڈیا میں ہرایا تھا۔
انڈین میں ماہرین اور مبصرین جہاں 37 سالہ کوہلی کی ایک اور سنچری کی تعریف کر رہے ہیں تو وہیں انڈیا کے ٹاپ آرڈر کی مسلسل ناکامی پر بھی سوال اُٹھا رہے ہیں۔
انڈیا کے خلاف حالیہ عرصے میں مسلسل شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کیوی آل راؤنڈر ڈیرل مچل کو ٹریوس ہیڈ کی طرح انڈیا کے لیے ’نیا ولن‘ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
اندور میں کھیلے گئے تیسرے ون ڈے میچ میں انڈین کپتان شھبمن گل نے ٹاس جیت کر پہلے نیوزی لینڈ کو بیٹنگ کی دعوت دی مگر بعدازاں ہونے والی پیشرفت نے انڈین کپتان کے اس فیصلے کو غلط ثابت کیا۔
ڈیون کانوے اور ہنری نکولس کی وکٹیں جلد گرنے کے باوجود ڈیرل مچل اور گلین فلپس نے کیویز کی اننگز کو تیز رفتاری سے آگے بڑھایا۔ دونوں نے سنچریاں سکور کرتے ہوئے ٹیم کا مجموعی سکور 337 رنز تک پہنچا دیا۔
انڈیا کی جانب سے ہرشت رانا سب سے مہنگے بولر ثابت ہوئے، جنھوں نے 10 اوورز میں تین وکٹوں کے عوض 84 رنز دیے۔ ان کے علاوہ ارشدیپ سنگھ، کلدیپ یادیو اور رویندرا جڈیجا بھی خاصے مہنگے ثابت ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہدف کے تعاقب میں انڈین اوپنرز روہت شرما اور شھبمن گل جلد پویلین لوٹ گئے اور ذمہ داری ’چیز ماسٹر‘ کہلائے والے 37 سالہ وراٹ کوہلی کے کندھوں پر آ گئی، جنھوں نے ٹیم کو مایوس نہیں کیا، لیکن دوسری جانب وکٹیں گرنے کے سلسلے نے اُن کے لیے بھی ہدف کا تعاقب مشکل بنا دیا۔
ورات کوہلی بھی 292 کے مجموعی سکور پر 108 گیندوں پر 124 رنز بنا کر ہمت ہار بیٹھے لیکن اس دوران اُنھوں نے ون ڈے میچز میں اپنی 54 ویں جبکہ مجموعی طور پر 84 ویں سنچری سکور کر کے خوب داد سمیٹی۔
’ایک بلے باز کی خود کو دوبارہ دریافت کرنے کی کہانی‘
ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے سنہ 2016 کا وقت واپس آ گیا ہو، جب کوہلی نے نہ صرف رنز بنائے بلکہ مخالف ٹیموں کے ارادے، صبر اور اعتماد کو بھی توڑا۔
پچھلی سات ون ڈے اننگز میں چھ ففٹی پلس سکور اُن کی مستقل مزاجی کی واپسی ہے۔
جنوبی افریقہ کے خلاف 135 اور 102 رنز کی اننگز، وڈودرا میں نیوزی لینڈ کے خلاف 93 اور پھر اندور میں 124 رنز۔۔۔ مبصرین کے مطابق یہ ایک بلے باز کی خود کو دوبارہ دریافت کرنے کی کہانی ہے۔ جہاں روہت شرما آغاز میں بڑا سکور نہیں کر پا رہے، وہیں کوہلی میچ کو آخر تک لے کر جا رہے ہیں۔
لیکن اتوار کی شام کی کہانی، ہمیشہ کی طرح، سکور بورڈ سے آگے نکل کر ایک آدمی کے گرد گھومتی ہے۔
جب تک کوہلی کریز پر تھے، میچ زندہ تھا۔ ہدف بڑا تھا اور دُوسری جانب وکٹیں بھی گر رہی تھیں، لیکن کوہلی کی موجودگی میں پھر بھی اُمید باقی تھی۔ ان کے آؤٹ ہونے کے صرف دو گیندوں بعد میچ بھی ختم ہو گیا۔
کوہلی کا رنز کے تعاقب میں ریکارڈ حیران کن ہے، یہ ہدف کے تعاقب میں اُن کی 29 ویں سنچری تھی۔
’چیز ماسٹر‘ ہونے کی شہرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب دباؤ اپنے عروج پر ہوتا ہے تو وراٹ کوہلی کی ہمت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
اب وہ سچن ٹنڈولکر سے صرف 15 سنچریاں ہی پیچھے ہیں، جو 100 سنچریوں کے ساتھ سرفہرست ہیں، کوہلی 85 کے ساتھ دوسرے اور رکی پونٹنگ 71 سنچریوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔
انڈین صحافی وکرانت گپتا ایکس پر لکھتے ہیں کہ وراٹ کوہلی انڈیا کو یہ میچ جتوا سکتے تھے، اگر نتیش کمار ریڈی اپنی وکٹ نہ گنواتے۔

،تصویر کا ذریعہy Punit PARANJPE/AFP via Getty Images
اُن کے بقول کوہلی چھ ون ڈے میچوں میں تین سنچریاں بنا چکے ہیں۔ پچھلے سات میچز میں وہ چھ مرتبہ 50 سے زائد رنز بنا چکے ہیں۔ آسان الفاظ میں جب بہترین فارم میں ہوں تو اس کا بھرپور فائدہ اُٹھائیں۔
سابق انڈین بلے باز محمد کیف لکھتے ہیں کہ وراٹ کوہلی نے اپنے ناقدین کو خاموش کروانے کی ضد بنا رکھی ہے۔ وہ کسی وجہ سے ہی کنگ ہیں۔
سابق انڈیان فاسٹ بولر عرفان پٹھان نے لکھا کہ ایک اور دن اور کوہلی کی ایک اور سینچری۔۔۔ ’وہ بس اپنی راہ پر چل رہے ہیں۔‘
انڈیا کا ’نیا ولن‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
انڈیا کی نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست پر بعض صارفین کیوی بلے باز ڈیرل مچل کی شاندار سینچری کا بھی تذکرہ کر رہے ہیں۔
ڈیرل مچل نے تین چھکوں اور 15 چوکوں کی مدد سے 131 گیندوں پر 135 رنز کی اننگز کھیلی۔ وہ حالیہ عرصے میں انڈیا کے خلاف لگاتار اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے آ رہے ہیں۔
اُنھوں نے تین میچوں کی سیریز میں 352 رنز بنائے ہیں، جن میں دو سینچریاں شامل ہیں۔ دوسرے ون ڈے میچ میں بھی اُنھوں نے 117 گیندوں پر ناقابل شکست رہتے ہوئے 131 رنز بنائے تھے۔ پہلے ون ڈے میچ میں بھی اُنھوں نے 71 گیندوں پر 84 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔
اس سے قبل آسٹریلوی بلے باز ٹریوس ہیڈ انڈین ٹیم کے لیے دردِ سر بنے ہوئے تھے۔ اُنھوں نے سنہ 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے فائنل میں سنچری بنا کر آسٹریلوی کو عالمی کپ جتوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
اس کے بعد وہ ٹیسٹ میچز اور محدود اوورز کی کرکٹ میں انڈیا کے خلاف مسلسل شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے چلے آ رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بھی ڈیرل مچل کو انڈیا کا نیا ولن قرار دیا جا رہا ہے۔
سابق پاکستانی کپتان راشد لطیف لکھتے ہیں کہ سنہ 2023 کے ورلڈ کپ میں بھی ڈیرل مچل نے انڈیا کے خلاف دو میچز میں دو سینچریاں بنائی تھیں۔
جیکی یادیو نامی صارف کہتے ہیں کہ نیوزی لینڈ کا کوئی بھی بلے باز انڈیا کے خلاف اچھی کارکردگی دکھائے یا نہ کرے لیکن ڈیرل مچل ہمیشہ کی طرح انڈیا کے خلاف ڈٹ جاتے ہیں اور ایک نئے ولن کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ کھلاڑی غیر معمولی طور پر اچھا کھیلتا ہے اور انڈیا کے خلاف تو یہ الگ ہی رنگ میں نظر آتے ہیں۔











