’ریٹائرڈ آؤٹ‘ کیا ہے جس کے ذریعے رضوان کو اپنی ہی ٹیم کے کپتان نے پویلین واپس بلا لیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان نے 23 گیندوں پر 26 رنز بنائے تھے جب باؤنڈری پر کھڑے ان کی ٹیم کے کپتان نے انھیں واپس آنے کا اشارہ کر دیا۔
یہ منظر کسی انٹرنیشنل ٹی ٹوئنٹی میچ کا نہیں بلکہ آسٹریلیا میں جاری لیگ بِگ بیش کا ہے جب رضوان کو 19ویں اوور کے آغاز سے قبل ان کی ٹیم میلبورن رینیگیڈز نے ’ریٹائرڈ آؤٹ‘ کیا۔
یعنی مخالف ٹیم نے ان کی وکٹ حاصل نہیں کی تھی اور نہ ہی وہ کسی انجری میں مبتلا ہوئے تھے۔
محمد رضوان اِن بڑے کھلاڑیوں میں سے ہیں جو ایک عرصے تک پاکستانی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا حصہ رہے ہیں مگر انھیں حال ہی میں سکواڈ سے ڈراپ کیا گیا تھا۔ وہ سری لنکا میں جاری سیریز کی بجائے بِگ بیش میں نظر آ رہے ہیں۔
ریٹائرڈ آؤٹ کیا ہے اور یہ ریٹائرڈ ہرٹ سے کیسے مختلف ہے؟
کرکٹ کے قوانین کے مطابق ریٹائرڈ آؤٹ اور ریٹائرنگ ہرٹ دو الگ الگ اصطلاحات ہیں۔ جب کوئی کھلاڑی انجری کے باعث ریٹائرنگ ہرٹ ہوتا ہے تو وہ وکٹ گرنے کے بعد یا نئے بلے باز کی ضرورت پڑنے پر دوبارہ کریز پر آ کر اپنی اننگز مکمل کر سکتا ہے۔
ریٹائرنگ ہرٹ عموماً مجبوری کے تحت ہوتا ہے۔ اس کی وجہ اکثر چوٹ یا بیماری ہوتی ہے جس کے باعث کھلاڑی اس قابل نہیں رہتا کہ بیٹنگ جاری رکھ سکے۔

،تصویر کا ذریعہBig Bash League/X
اس کے برعکس ریٹائرڈ آؤٹ ہونے والا بلے باز اس وقت تک دوبارہ کریز پر واپس نہیں آ سکتا جب تک کہ مخالف ٹیم کا کپتان اس کی اجازت نہ دے۔
ریٹائرڈ آؤٹ کسی حکمتِ عملی کے تحت اٹھایا گیا قدم ہوتا ہے جو ٹیم کے بہترین مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عام طور پر ایسے بلے بازوں کو ریٹائرڈ آؤٹ کیا جاتا ہے جو تیز رفتاری سے رنز بنانے میں ناکام رہتے ہوں۔ اس صورت میں آنے والے نئے بلے باز سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ زیادہ تیزی سے سکور کرے گا اور رن ریٹ کو بہتر بنائے گا۔
ریٹائرڈ آؤٹ کی حکمت عملی کو کئی بار ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں آزمایا جا چکا ہے کیونکہ اس فارمیٹ میں تیز رفتار کے ساتھ رنز بنانا نہایت اہم ہے اور اکثر رن ریٹ ہی جیتنے اور ہارنے والی ٹیموں میں بنیادی فرق ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
رضوان کو ریٹائرڈ آؤٹ کیوں کیا گیا؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
میلبورن رینیگیڈز اور سڈنی تھنڈرز کے درمیان بگ بیش کے اس 33ویں میچ میں میلبورن کی ٹیم پہلے بیٹنگ کر رہی تھی۔
محمد رضوان نے چوتھے نمبر پر کھیلتے ہوئے اپنی اننگز کی شروعات کی تھی۔ انھوں نے دو چوکے اور ایک چھکا بھی لگایا مگر 23 گیندوں پر 26 رنز کے ساتھ ان کا سٹرائیک ریٹ 113 تھا۔ خیال رہے کہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں رضوان کا سٹرائیک ریٹ قریب 125.37 ہے۔
یہ بگ بیش کے اس ایڈیشن میں ان کا چھٹا میچ تھا اور اب تک ان کا سب سے بڑا سکور میلبورن سٹارز کے خلاف 41 رہا ہے جو کہ انھوں نے 38 گیندوں میں بنایا تھا۔ پھر میلبورن رینیگیڈز کے کپتان وِل سدر لینڈ نے رضوان کو واپس آنے کا اشارہ کیا اور ان کی جگہ لی۔ مگر سدر لینڈ ایک گیند پر ایک رن بنانے کے بعد رن آؤٹ ہو گئے۔
19واں اوور شروع ہونے سے قبل رضوان کو ریٹائرڈ آؤٹ کیوں کیا گیا، اس بارے میں ان کی ٹیم نے تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے مگر ممکنہ طور پر ایسا رن ریٹ بڑھانے اور بقیہ اوور میں مخالف ٹیم کے خلاف اچھا ہدف مقرر کرنے کے لیے کیا گیا۔
اس دوران کمنٹیٹر نے تبصرہ کیا کہ ’یہ اچھا فیصلہ ہے۔ ایسا ایک، دو اوورز پہلے ہی ہو جانا چاہیے تھا۔‘
رضوان کے بعد ان کی ٹیم نے آخری دو اوور میں تین وکٹیں گنوا کر 16 رنز بنائے تھے اور مخالف ٹیم کو 171 رنز کا ہدف دیا تھا۔
کرکٹ تجزیہ کار مظہر ارشد کے مطابق رضوان پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایسے پہلے بلے باز ہیں جنھیں حکمت عملی کے تحت ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ریٹائرڈ آؤٹ کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ رضوان واحد بلے باز نہیں جنھیں ریٹائرڈ آؤٹ کیا گیا ہو۔ دنیا بھر میں لیگز کے دوران یہ معمول بنتا جا رہا ہے۔
ویب سائٹ کرک بز کے مطابق رضوان نے پیر کے میچ میں پہلی بار بگ بیش میں چھکا لگایا تھا اور انھیں ایسا کرنے میں 'آٹھ باریاں اور 152 گیندیں لگیں۔'
ایکس پر صارف ایڈم بیل نے کہا کہ 'رضوان ون ڈے اور ٹیسٹ کے اچھے کھلاڑی ہیں۔' لیکن ان کا خیال ہے کہ رضوان 'ماڈرن ٹی ٹوئنٹی' کے لیے موزوں نہیں۔
تاہم بعض صارفین نے رضوان کا دفاع بھی کیا۔ ان کے مطابق پاکستانی کرکٹرز بابر اعظم اور رضوان بِگ بیش میں ایک 'اینکر' کے رول میں کھیلتے ہیں تاکہ ایک طرف سے وکٹیں گِرنے سے روک سکیں۔












