ہاروت اور ماروت: بابل میں اُتارے گئے فرشتوں کا قصہ قرآن، بائبل اور یہودی روایات میں

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنہزاروں سال قدیم شہر بابل کے کھنڈرات
    • مصنف, وقار مصطفیٰ
    • عہدہ, صحافی و محقق
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

موجودہ عراق میں دریائے فرات کے کنارے موجود وسیع کھنڈرات ہزاروں سال قدیم شہر بابل کے ہیں۔

بغداد سے تقریباً 88 کلومیٹر جنوب میں واقع یہ وہ مقام ہے جہاں، مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کے مطابق، ہاروت اور ماروت نامی دو فرشتوں کو آزمائش کی غرض سے اُتارا گیا تھا۔ یہ فرشتے جادو سکھاتے تھے، لیکن تنبیہ کے بعد۔

مفسرینِ قرآن بتاتے ہیں کہ اس سے متعلق تذکرہ قرآن کی سورہ البقرہ میں موجود ہے۔ سورہ البقرہ کے مخاطب مدینہ اور اس کے آس پاس رہنے والے لوگ تھے، بالخصوص اہلِ کتاب یعنی یہودی اور مسیحی۔ یہودی جن کی کتاب تورات میں، قرآن کے مطابق، پیغمبرِاسلام کی آمد کا پتا ملتا ہے۔

مفسرین کے مطابق بنی اسرائیل (یہودیوں) کی نافرمانی اور اُن پر اپنے انعامات کا تذکرہ کرنے کے بعد، قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ اب بھی تورات میں پیغمبرِ اسلام کی آمد کی پیشین گوئیوں کو نظر انداز کر کے اُن کی اطاعت کی بجائے انھیں جادو ٹونے سے نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔

’علم جو آزمائش ہے‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنقرآن کی سورہ البقرہ میں ہاروت اور ماروت کا تذکرہ موجود ہے

سورہ البقرہ کی آیات کا ترجمہ یوں ہے: ’(پیغمبر کو ضرر پہنچانے کے لیے) اُس چیز کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کی بادشاہی کے نام پر شیاطین پڑھتے پڑھاتے ہیں۔ (یعنی یہ اُسے سلیمان کی طرف منسوب کرتے ہیں) گو کہ سلیمان نے کبھی کفر نہیں کیا، بلکہ اِسی طرح کے شیطانوں نے کفر کیا۔‘

جاوید احمد غامدی اپنی تفسیر ’البیان‘ میں لکھتے ہیں کہ شیاطین، جن حضرت سلیمان کے تابع فرمان تھے۔ سفلی علوم (جنھیں عام زبان میں کالا علم کہا جاتا ہے) چونکہ زیادہ تر جنات کے تصرفات سے پیدا ہوتے ہیں، اِس لیے تقدس کا رنگ دینے کے لیے لوگوں نے اِنھیں اُن (حضرت سلیمان) سے منسوب کر دیا۔ لیکن قرآن نے حضرت سلیمان کو ان الزامات سے بری الذمہ قرار دیا ہے۔

قرآن میں آگے لکھا ہے کہ ’وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور اُس چیز کے پیچھے لگ گئے جو بابل میں دو فرشتوں، ہاروت و ماروت، پر اُتاری گئی تھی، گو کہ وہ دونوں اُس وقت تک کسی کو کچھ نہ سکھاتے تھے، جب تک اُسے بتا نہ دیتے کہ ہم تو صرف ایک آزمائش ہیں، اِس لیے تم اِس کفر میں نہ پڑو۔‘

تفسیر ’البیان‘ میں ہے کہ اصل میں لفظ ’فِتْنَۃٌ‘ استعمال ہوا ہے جس کے معنی امتحان اور آزمائش کے ہیں۔ قرآن میں اِس سے بالعموم وہ چیزیں مراد لی گئی ہیں جو اصلاً انسان کے فائدے ہی کے لیے پیدا کی گئی ہیں لیکن انسان اپنے استعمال کی غلطی سے اُنھیں اپنے لیے فتنہ بنا لیتا ہے۔

تفسیر البیان کے مطابق ’ہاروت و ماروت کی طرف سے اپنے علم کے لیے اِس لفظ کا استعمال دلیل ہے کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ علم کوئی بُری چیز نہ تھا۔‘

ہاروت و ماروت کی تنبیہ کا ’مطلب یہ ہے کہ ہمارا یہ علم ایک دو دھاری تلوار کی حیثیت رکھتا ہے۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ تم لوگ اِسے سیکھ کر بُرے مقاصد کے لیے استعمال کرو گے اور اِس طرح کفر و شرک میں مبتلا ہو جاؤ گے۔‘

قرآن میں ہے کہ ’پھر بھی یہ اُن سے وہ علم سیکھتے تھے جس سے میاں اور بیوی میں جدائی ڈال دیں، اور حقیقت یہ تھی کہ اللہ کی اجازت کے بغیر یہ اُس سے کسی کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکتے تھے۔۔۔ (یہ اِس بات سے واقف تھے) کہ جو اِن چیزوں کا خریدار ہے، اُس کے لیے پھر آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔‘

مگر یہ کون سا علم تھا؟

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن’یہ علم اِس اعتبار سے جادو اور نجوم وغیرہ سے بالکل مختلف تھا کہ اِس میں نہ تو شرک کی کوئی ملاوٹ تھی اور نہ اِس میں شیطان اور جنات کو کوئی دخل تھا‘

امین احسن اصلاحی ’تدبر قرآن‘ میں لکھتے ہیں کہ ’اِس سے مراد اشیا اور کلمات کے روحانی خواص اور تاثیرات کا وہ علم ہے جس کا رواج یہود میں ہوا اور جس کو اُنھوں نے گنڈوں، تعویذوں اور مختلف قسم کے عملیات کی شکل میں مختلف اغراض کے لیے استعمال کیا۔ مثلاً بعض امراض یا تکالیف کے ازالے کے لیے یا نظرِ بد اور جادو وغیرہ کے بُرے اثرات دور کرنے کے لیے یا شعبدہ بازوں وغیرہ کے فتنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے یا محبت اور نفرت کے اثرات ڈالنے کے لیے۔‘

’یہ علم اِس اعتبار سے جادو اور نجوم وغیرہ سے بالکل مختلف تھا کہ اِس میں نہ تو شرک کی کوئی ملاوٹ تھی اور نہ اِس میں شیطان اور جنات کو کوئی دخل تھا، لیکن اپنے اثرات و نتائج کے پیدا کرنے میں یہ جادو ہی کی طرح زود اثر تھا۔‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

’ممکن ہے بنی اسرائیل کو یہ علم بابل کے زمانۂ اسیری (قید) میں دو فرشتوں کے ذریعے سے اِس لیے دیا گیا ہو کہ اِس کے ذریعے سے بابل کی سحر و ساحری کا مقابلہ کر سکیں۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ بابل میں سحر و ساحری اور نجوم کا بڑا زور تھا۔‘

غامدی لکھتے ہیں کہ ’فرشتوں کی تنبیہ کے باوجود، یہود کی سب سے زیادہ رغبت اُن اعمال سے تھی جو میاں بیوی کے رشتۂ محبت کے لیے مقراض بن جائیں، حالانکہ یہی رشتہ ہے جس کے استحکام پر پورے انسانی تمدن کے استحکام کی بنیاد ہے۔‘

’یہود اِس بات سے اچھی طرح واقف تھے، اِس لیے کہ تورات میں اُنھیں نہایت واضح الفاظ میں اِس طرح کے فتنوں میں پڑنے سے روکا گیا تھا۔‘

عبرانی بائبل اور مسیحی عہدنامہ عتیق کی پانچویں کتاب ’استثنا‘ میں ہے کہ ’جب تو اُس ملک میں، جو خداوند تجھے دیتا ہے، پہنچ جائے تو وہاں کی قوموں کی طرح مکروہ کام کرنے نہ سیکھنا۔ تجھ میں ہرگز کوئی ایسا نہ ہو جو اپنے بیٹے یا بیٹی کو آگ میں چلوائے یا فال گیر یا شگون نکالنے والا یا افسون گر یا جادوگر یا منتری یا جنات کا آشنا یا رمال یا ساحر ہو، کیونکہ وہ سب جو ایسے کام کرتے ہیں، خداوند کے نزدیک مکروہ ہیں اور اِن ہی مکروہات کے سبب سے خداوند تیرا خدا اُن کو تیرے سامنے سے نکالنے پر ہے۔‘

کچھ روایات جو غلط رواج پا گئیں

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن’سفلی علوم (جنھیں عام زبان میں کالا علم کہا جاتا ہے) زیادہ تر جنات کے تصرفات سے پیدا ہوتے ہیں‘

انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا کے مطابق یہ واقعہ یہودی روایت میں معتوب فرشتوں - شِمہزائی، عُزّا اور عزازیل - کے قصے سے مشابہت رکھتا ہے۔

یہ قصہ کسی حد تک اُن ’نگہبان فرشتوں‘ سے مشابہ ہے جن کا ذکر دوسرے ہیکل کے دور کی روایات میں ملتا ہے اور یہ ابتدائی مسیحی عقیدے کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

مگر یہ قصہ نہ قرآن میں موجود ہے نہ صحیح حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔ یہ روایت اسرائیلیات سے ہے اور اس کی کوئی صحیح سند نہیں۔ مسلمان مفسرین متفق نہیں کہ ہاروت اور ماروت معتوب فرشتے ہیں۔ اسی لیے انھیں بابل میں ایک کنویں کے اندر الٹا لٹکا کر قیامت کے دن تک اسی حالت میں رہنے کی سزا کی بھی تصدیق نہیں ہوتی۔

قرآن کے انگریزی مترجم عبداللہ یوسف علی کا کہنا ہے کہ اس کہانی کا ماخذ ممکنہ طور پر یہودی مِدراش ہے۔ مِدراش میں دو فرشتوں کی ایک کہانی ملتی ہے جنھوں نے اللہ سے زمین پر اُترنے کی اجازت مانگی، مگر وہ خواہشات کے فریب میں مبتلا ہو گئے اور سزا کے طور پر بابل میں پاؤں کے بل لٹکا دیے گئے۔ گناہ کرنے والے فرشتوں کے بارے میں ایسی کہانیاں، جنھیں سزا کے لیے نیچے گرا دیا گیا، ابتدائی مسیحیوں میں بھی مانی جاتی تھیں ( دوسرا خطِ پطرس 2:4 اور خطِ یہوداہ، آیت 6)۔

تفسیری کتابوں میں ایک قصہ یہ داخل ہوا کہ زُہرہ نامی ایک حسین عورت نے ہاروت و ماروت کو بہکایا اور وہ شراب، قتل اور زنا میں مبتلا ہوئے اور پھر وہ عورت ستارہ زُہرہ بن گئی۔

لیکن پیٹریشیا کرون کا ’دی بُک آف واچرز اِن دی قرآن‘ میں استدلال ہے کہ اسلام سے 400 سال بعد کی تحریر مِدراش نے دراصل یہ کہانی مسلمان شارحین سے اخذ کی، تاہم نام بدل کر عزازیل اور سامیازا رکھ دیے گئے، جو دیگر قدیم یہودی صحائف میں معتوب فرشتوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں، لیکن ربانی یہودیت کے نزدیک غیر مستند سمجھے جاتے ہیں۔

اصل مقصد

لیکن مفسرین کے مطابق ان روایات سے ہاروت اور ماروت کے واقعے کا اصل مقصد دھندلانا نہیں چاہیے۔

اصلاحی لکھتے ہیں کہ ’یہ بات سنت اللہ کے موافق معلوم ہوتی ہے کہ اگر کسی جگہ ایک ایسے غلط علم کا رعب اور زور ہو جس سے مفسد لوگ فائدہ اٹھا رہے ہوں تو وہاں اللہ تعالیٰ اُس کے مقابلے کے لیے اہل ایمان کو کوئی ایسا علم بھی عطا فرمائے جو جائز اور نافع ہو۔‘

اور جاوید غامدی کے مطابق قرآن مجید کی سورۂ فلق کے الفاظ ’مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ‘ میں اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی اشرار سے بچنے کے لیے برابر اپنے پروردگار کی پناہ چاہنے کی ہدایت فرمائی ہے۔

’یہ جادوکے لیے ایک طرح کا استعارہ ہے، کیونکہ جادوگر عموماً کسی ڈور یا تاگے میں گرہ دیتے اور اُس پر پھونکتے جاتے ہیں۔ اِس طرح کے لوگ یہود میں بھی بہت رہے ہیں اور عرب کے ساحروں اور کاہنوں میں بھی۔ آیت سے واضح ہے کہ اِن کے علوم بھی اپنی کچھ حقیقت ضرور رکھتے ہیں۔ چنانچہ ہدایت کی گئی ہے کہ اِن کے شر سے خدا کی پناہ مانگی جائے۔‘