پاکستان کے کابل، قندھار پر فضائی حملے: کیا ان حملوں سے پاکستان اپنے مقاصد حاصل کر پائے گا یا پھر حقیقی جنگ کا خطرہ بڑھے گا؟

افغانستان

،تصویر کا ذریعہReuters

    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

پاکستان نے جمعے کو افغانستان کے دارالحکومت کابل سمیت پاک افغان سرحد کے قریب واقع مرکزی شہروں قندھار اور پکتیا میں فضائی حملے کیے ہیں۔ پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے ان مقامات پر دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا۔

اس سے قبل پاکستان کی طرف سے افغانستان کے اندر تک فضائی حملے کیے گئے ہیں تاہم دونوں ملکوں درمیان ہونے والی حالیہ کشیدگی کے دوران پہلی مرتبہ پاکستان نے کابل اور قندھار جیسے بڑے شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔

کابل کے ساتھ ساتھ قندھار وہ مرکزی شہر ہے جہاں افغان طالبان کی حکومت کی مرکزی اور عسکری قیادت قیام پذیر ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق یہ فضائی حملے اس کی افواج کی جانب کی جانے والی اس کارروائی کا حصہ ہیں جو انھوں نے جمعرات کی شب افغانستان کی طرف سے سرحد کے ساتھ مختلف مقامات پر کیے جانے والے حملوں کے جواب میں شروع کی تھی۔

پاکستان کی جانب سے فضائی حملے ایسے وقت پر ہوئے جب پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا۔‘

انھوں نے طالبان حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اب ہماری اور آپ کی کھلی جنگ ہے۔‘

خواجہ آصف نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ پاکستان نے براہ راست اور دوست ممالک کے ذریعے حالات کو نارمل رکھنے کی پوری کوشش کی اور بھرپور سفارت کاری کی۔

افغان حکومت کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی طرف سے کیے جانے والے فضائی حملوں میں تاحال کوئی نقصان سامنے نہیں آیا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل سرحد کے دونوں اطراف حالات کشیدہ ہیں اور سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔

ایران نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے جبکہ اقوام متحدہ اور چند دوست ممالک کی جانب سے دونوں ممالک کو کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کرنے پر زور دیا ہے۔

تاہم کابل اور اسلام آباد فوری طور پر اس کے لیے آمادہ نظر نہیں آ رہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا سبب بننے والا بنیادی معاملہ اپنی جگہ قائم ہے اور یہ معاملہ پاکستانی طالبان یعنی تحریک طالبان پاکستان سے جڑا ہے۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

،تصویر کا کیپشنجمعہ کو پاکستان میں چمن سرحد کے قریب ایک ٹینک

پاکستان یہ مطالبہ کرتا آیا ہے کہ افغان حکومت پاکستان میں دہشت گردی کے لیے اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دے۔ پاکستان کا الزام ہے کہ اس کے اندر دہشت گردی کرنے والی تنظیموں کی قیادت افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہے۔

تاہم افغان حکومت ان الزام کی تردید کرتی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ ان کی سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہو رہی۔

ایسے حالات میں پاکستان کی طرف سے فضائی حملوں کا دائرہ بڑھا کر کابل اور قندھار تک لے کر جانے کی حکومت عملی دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی پر کس طرح اثرانداز ہو سکتی ہے؟

کیا پاکستان اس طرح اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے یا پھر اس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

’حالیہ کشیدگی تناؤ میں خطرناک اضافہ ہے‘

خارجی امور کے ماہر مائیکل کوگلمین جو بالخصوص جنوبی ایشیا کے سیاسی اور دفاعی امور پر نظر رکھتے ہیں انھوں نے ایک بیان میں لکھا کہ ’پاکستان اور افغانستان کے درمیان پرتشدد کارروائیوں کا حالیہ دور ماضی میں ہونے والی جھڑپوں کے مقابلے تناو میں ایک خطرناک اضافہ ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان نے پاکستانی طالبان کے اپنے ہدف سے آگے بڑھ کر از خود طالبان حکومت کو نشانے پر رکھا اور جواب میں طالبان نے پاکستان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم کیا۔‘

انھوں نے یاد دہانی کروائی کہ یہ سب کچھ دونوں ملکوں کے درمیان سیز فائر اور دوست ممالک کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت کے کئی ادوار کے بعد ہو رہا ہے۔

’سفارت کاری کی کوششوں میں زیادہ کامیابی نہیں ہوئی اور طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کو پناہ دینے کا بنیادی مسئلہ اسی طرح قائم ہے۔‘

کوگلمین کا کہنا ہے کہ ’اب جو ہو رہا ہے وہ تشویشناک ہے مگر حیران کن نہیں۔‘

افغاستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کیا پاکستان فضائی حملوں سے اپنے مقاصد حاصل کر پائے گا؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پاکستان نے جو فضائی حملے کیے ان کے جواب میں افغانستان کی طرف سے بھی رد عمل آیا۔ اگر پاکستان کا مقصد فضائی حملوں سے افغانستان کی طرف سے مزید حملوں کو روکنا تھا تو ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیا۔

جمعے ہی کے روز افغانستان کی طرف سے کہا گیا کہ اس نے پاکستان کے اندر مختلف مقامات پر ڈرونز کی مدد سے حملہ کیا۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اس کی تصدیق کی کہ پاکستان نے صوابی، نوشہرہ اور ایبٹ آباد کے مقامات پر ڈرونز گرائے ہیں۔

تو سوال یہ ہے کہ حملوں کے دائرہ کار بڑھانے سے کیا چھڑپوں میں شدت کو روکا جا سکے گا؟

لاہور کی جامعہ پنجاب کے شعبہ سیاسیات کے سابق چیئرمین ڈاکٹر رشید احمد خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسا ہوتا نہیں دیکھ رہے۔

’یہ بہت سنجیدہ ایسکیلیشن ہوئی ہے۔ اس سے ہو سکتا ہے وقتی طور پر تناؤ رک جائے لیکن مسئلہ حل نہیں ہو گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’درحقیقت مسئلہ یہ ہے کہ افغان بنیادی طور پر پاکستان کے موقف کو تسلیم نہیں کرتے کہ ان کی سرزمین دہشت گردی کے لیے پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔‘

ان کے خیال میں طالبان بھی نہیں چاہتے کہ ان کی پاکستان کے ساتھ جنگ ہو تاہم افغان بنیادی طور پر انتہائی قوم پرست ہیں جو اپنے ملک کی سرحدوں کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کرتے۔ ’تو وہ کسی بھی قسم کے حملے کا جواب دیتے رہیں گے۔‘

ڈاکٹر رشید احمد خان سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی طرف سے فضائی حملوں کے دائرہ کار کو بڑھانے کا درحقیقت الٹا اثر ہو سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان اور افغانستان طالبان کا موازنہ نہیں بنتا۔ اس وقت وہاں جو حکومت ہے وہ بھی لوگوں کی منتخب نہیں اور طالبان کے لیے افغانستان میں مخالفت بھی موجود ہے۔

’لیکن ان فضائی حملوں سے یہ ممکن ہے کہ افغانستان میں طالبان کے لیے حمایت بڑھ جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرحدوں کی خلاف ورزی ایسا معاملہ ہے جو افغانوں کو متحد کر دیتا ہے۔‘

ڈاکٹر رشید احمد خان کہتے ہیں کہ افغانستان میں پہلے ہی سے پاکستان کے لیے ناپسندیدگی کے احساسات موجود ہیں اور ان حملوں سے وہاں پاکستان کی مخالفت میں مزید اضافہ ہو گا۔

مکمل جنگ سے اصل مسائل حل ہو پائیں گے؟

پاکستان، افغانستان

،تصویر کا ذریعہReuters

دونوں ممالک کے درمیان حالیہ تنازعے کی وجہ بظاہر پاکستان کا اسرار ہے کہ افغان طالبان پاکستانی طالبان یا ٹی ٹی پی اور پاکستان کے اندر کارروائیاں کرنے والے دیگر دہشت گرد گروہوں کو پناہ نہ دے اور ان کے خلاف کارروائی کریں۔

تاہم افغان طالبان اس بات کی تردید کرتے رہے ہیں کہ ان کی زمین پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

ڈاکٹر رشید احمد خان کہتے ہیں کہ ٹی ٹی پی کا مسئلہ بظاہر ایک معاملہ ہے تاہم پاکستان کو افغانستان کے ساتھ اصل مسئلہ طالبان حکومت کے انڈیا کے ساتھ بہتر روابط کا ہونا ہے۔

’یہ پاکستان نہیں چاہے گا کہ انڈیا اس کے بیک یارڈ میں آ کر بیٹھ جائے اور افغان طالبان نے انتہائی تیزی کے ساتھ انڈیا کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کیے ہیں۔‘

رشید احمد خان کہتے ہیں کہ پاکستان نے سنہ 1980 کی دہائی سے پہلے افغانوں کو پہلے سوویت یونین کے خلاف سپورٹ کیا اور اس کے بعد طالبان کو سپورٹ کیا تو اس کا مقصد یہی تھا کہ افغانستان میں اس کی اپنی حمایت یافتہ حکومت ہو۔

’پاکستان اپنی ’سٹریٹیجک ڈیپتھ‘ سمجھتا رہا ہے اور اب وہاں انڈیا آ کر بیٹھ جاتا ہے تو یہ پاکستان کے لیے قابل قبول نہیں ہو گا۔‘

یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر رشید احمد خان سمجھتے ہیں کہ کشیدگی میں حالیہ شدت سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس کے لیے دوست ممالک کو کردار ادا کرنا پڑے گا اور دونوں ملکوں کو بات چیت کرنا ہو گی۔

کیا حقیقی جنگ کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے؟

پاکستان اور افغانستان دونوں کی جانب سے تناؤ میں شدت برقرار ہے۔ دونوں کی طرف حملے کے جواب میں حملے جاری ہیں۔ خارجی امور پر نظر رکھنے والے ماہرین سمجھتے ہیں کہ اس قسم کی صورتحال انتہائی سنجیدہ ہے جس میں اگر کمی نہ لائی جائے تو حقیقی جنگ کی طرف لے جاتی ہے۔

خارجی امور کے ماہر مائیکل کوگلمین سمجھتے ہیں کہ پاکستان اپنے موقف پر قائم ہے کہ افغانستان اس کے خلاف کارروائیاں کرنے والے دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے۔

بی بی سی کے پروگرام نیوز ڈے میں بات کرتے ہوئے کوگلمین کا کہنا تھا افغان طالبان کی طرف سے سامنے آنے والے بیانات سے ایسا نظر آ رہا ہے کہ وہ بھی مسلسل حملے جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔ ’یہ بہت ہی خطرناک صورتحال ہے حقیقی جنگ کی طرف لے کر جا سکتی ہے۔‘

بی بی سی کے پروگرام نیوز ڈے میں بات کرتے ہوئے افغانستان امور کے ماہر امین سیکل کا کہنا تھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان افغان طالبان کو ٹی ٹی پی کی حمایت کرنے پر سزا دینے پر آمادہ نظر آ رہا ہے۔

’گذشتہ کافی عرصے سے دونوں کے درمیان کشیدگی رہی ہے۔ اب پاکستانیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ گردن کے لیے جائیں گے۔ وہ افغان طالبان کو پاکستانی طالبان کی حمایت کرنے پر سزا دینا چاہتے ہیں۔ پاکستانی طالبان نے پاکستان کے اندر بہت حملے کیے ہیں جن میں بہت لوگ مارے گئے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ تناؤ میں شدت افغان عوام کے لیے تباہ کن ہو گی جو پہلے ہی معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔