نئے فیچرز کے نام پر گمراہ کرنے کا الزام، ایپل آئی فون کے خریداروں کو 25 کروڑ ڈالر ادا کیے جائیں گے

آئی فون، ایپل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, کالی ہیز
    • عہدہ, ٹیکنالوجی رپورٹر، بی بی سی نیوز
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

آئی فون کے بعض خریداروں نے ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا تھا جس میں یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس نے اپنی مصنوعات میں مصنوعی ذہانت سے جڑے کچھ نئے فیچرز کی تشہیر تو کی مگر دراصل ان کے ذریعے گمراہ کیا جا رہا ہے۔

تاہم اب ایپل نے مقدمہ دائر کرنے والے اِن خریداروں کے ساتھ تصفیہ کر لیا ہے اور انھیں مجموعی طور پر 25 کروڑ ڈالر ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

منگل کے روز کیلیفورنیا کی وفاقی عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویز کے مطابق ایپل نے کسی بھی غلطی کا اعتراف نہیں کیا تاہم اس معاہدے پر رضامندی ظاہر کی جس کے تحت گذشتہ سال دائر کیے گئے مقدمے کو نمٹا دیا جائے گا۔

اس مقدمے میں ایپل پر آئی فون کے اے آئی فیچرز سے متعلق جھوٹی تشہیر کا الزام عائد کیا گیا تھا جنھیں کمپنی نے ’ایپل انٹیلی جنس‘ کا نام دیا تھا۔ ایپل نے کہا تھا کہ ان فیچرز کے ذریعے وائس اسسٹنٹ ’سیری‘ میں بہتری آئے گی اور یہ ’اے آئی پرسنل اسسٹنٹ‘ میں بدل جائے گی، جو نہیں ہو سکا۔

خریداروں اور ایپل کے درمیان تصفیے کے مطابق جون 2024 سے مارچ 2025 کے درمیان آئی فون 15 اور آئی فون 16 خریدنے والے امریکی صارفین کو 25 سے 95 ڈالر کے درمیان رقوم ادائیگی کی جائے گی۔

ایپل کی ایک ترجمان نے کہا ہے کہ یہ مقدمہ ایپل انٹیلیجنس کے تحت جاری کیے گئے کئی فیچرز میں سے ’دو اضافی فیچرز کی دستیابی‘ پر مرکوز تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے اس معاملے کو اس لیے حل کیا تاکہ ہم اپنی اصل صلاحیت پر توجہ رکھ سکیں، یعنی اپنے صارفین کو سب سے جدید مصنوعات اور خدمات فراہم کرنا۔‘

Apple CEO Tim Cook on a dark stage with a neon Apple logo behind him. He is wearing a blue polo sweater, black jeans and white sneakers and gesturing his hands, while three other people on stage look at him.

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن2024 میں ایپل کی مصنوعات میں مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں پر بات کرتے ہوئے ایپل کے سابق چیف ایگزیکٹو ٹم کُک

گذشتہ ہفتے آئی فون خریداروں کی جانب سے دائر کی گئی نظرثانی درخواست میں وکلا نے کہا تھا کہ نئے اے آئی فیچرز سے متعلق ایپل کی مارکیٹنگ ’جھوٹی تشہیر کے مترادف‘ تھی۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

وکلا نے دعویٰ کیا کہ ’ایپل نے ایسی اے آئی صلاحیتوں کی تشہیر کی جو اُس وقت موجود نہیں تھیں، اب بھی موجود نہیں اور ممکن ہے کہ دو یا اس سے زیادہ برسوں تک بھی موجود نہ ہوں تاہم انھیں انقلابی جدت کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ایپل نے یہ مہم خاص طور پر اے آئی کے حوالے سے اس لیے شروع کی تاکہ ٹیکنالوجی کی اس نئی دوڑ میں پیچھے رہ جانے کی تلافی کی جا سکے۔ مصنوعی ذہانت کی اس دوڑ کی قیادت اس وقت اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسی نئی کمپنیاں کر رہی ہیں۔

ایپل کے سبکدوش ہونے والے چیف ایگزیکٹو ٹم کُک پر برسوں یہ تنقید ہوتی رہی کہ وہ کمپنی کی مصنوعات میں خاطر خواہ جدت نہیں لا سکے۔

تاہم وکلا نے ایپل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے نیے فیچرز کی اس انداز سے تشہیر کی گئی کہ یہ آئی فون صارفین کو سیری کا ایک نیا اور بہتر ورژن فراہم کرے گی۔ ان کے مطابق ایپل نے کہا تھا کہ اسے ’ایک محدود وائس انٹرفیس سے مکمل ذاتی اے آئی اسسٹنٹ‘ میں تبدیل کر دیا جائے گا، جو کہ گمراہ کن تشہیر تھی۔

وکلا نے کہا کہ ’صارفین کو آئی فون 16 ’ایپل انٹیلیجنس‘ کے بغیر فراہم کیا گیا اور سیری کا بہتر فیچر کبھی متعارف ہی نہیں کرایا گیا۔‘