اسلام آباد میں پراپرٹی ڈیلر کے اغوا اور قتل کے بعد پولیس ملزمان تک کیسے پہنچی؟

،تصویر کا ذریعہSocial Media
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
اسلام آباد میں پولیس نے پراپرٹی ڈیلر فرخ افضل کے جبری اغوا اور قتل کے مقدمے کو حل کرنے اور واقعے میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
گرفتار ہونے والوں میں خیبر پختونخوا پولیس میں تعینات ایک کانسٹیبل اور 19 سالہ لڑکی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزمہ کی گرفتاری ڈال کر اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے جبکہ دوسرے ملزم کو سوات سے گرفتار کر کے متعلقہ عدالت سے اس کا راہداری ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔
اسلام آباد پولیس کے ایس پی سٹی ایاز حسین کے مطابق ابتدائی طور پر یہ مقدمہ اغوا برائے تاوان کی دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی نشاندہی پر مغوی کی لاش خیبر پختوانخوا کے ضلع مردان سے برآمد کرلی گئی ہے۔
تیس سالہ پراپرٹی ڈیلر فرخ افضل کے اغوا کا مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج ہوا تھا۔ اسلام آباد کے سیکٹر ایف سکس ون کے رہائشی فرخ افضل کے والد نے پولیس کو بتایا کہ وہ چار مئی کی شب اپنے گھر پر سو رہے تھے کہ اچانک باہر سے شور کی آواز سنائی دی۔
انھوں نے پولیس کو بتایا تھا کہ جب انھوں نے باہر نکل کر دیکھا تو چند نامعلوم افراد کالے رنگ کی ایک گاڑی میں ان کے بیٹے کو زبردستی بٹھا کر لے جا رہے تھے۔
پولیس کی تفتیش
پولیس کے مطابق اس واقعے کی تفتیش کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئیں، جنھوں نے اس گاڑی کی لوکیشن معلوم کرنا شروع کی جس میں ملزمان مبینہ طور پر فرخ افضل کو اسلحہ کے زور پر اغوا کر کے لے گئے تھے۔
اس مقدمے کی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایس پی ایاز حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ کلوز سرکٹ کیمروں کی مدد سے معلوم ہوا کہ جس گاڑی میں مغوی کو بٹھا کر لے جایا گیا تھا وہ موٹر وے پر صوابی انٹرچینج سے نیچے اتری ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے کہا کہ اس گاڑی پر نمبر پلیٹ جعلی تھی جبکہ اس گاڑی پر ایم ٹیگ لگا ہوا تھا، جس سے اس گاڑی کی رجسٹریشن اور گاڑی کے مالک کے بارے میں معلومات حاصل کر لی گئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتے ہیں کہ پولیس نے جب فرخ افضل کے زیر استعمال موبائل فون کا ڈیٹا نکالا تو اس میں ایک نمبر ایسا تھا، جس سے متعدد فون کالز آئیں تھیں۔
’جب اس نمبر کا ڈیٹا نکالا تو معلوم ہوا کہ یہ موبائل نمبر ایک لڑکی کے زیر استعمال ہے۔‘
اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم میں شامل ایک اور اہلکار کا کہنا تھا کہ ’سب سے پہلے اس لڑکی کی واقعے کے وقت اور اس کے دو گھنٹے کے بعد کی لوکیشن کو ٹریس کیا گیا، اس کی لوکیشن صوابی اور مردان میں نظر آرہی تھی۔‘
پولیس اہلکار کا دعویٰ ہے کہ اس لڑکی کو جب پانچ مئی کو تفتیش کے لیے طلب کیا گیا تو اس نے بتایا کہ اس کے مغوی فرخ اور اس کے دو دوستوں کے ساتھ تعلقات تھے۔
پولیس اہلکار کے مطابق لڑکی نے تفتیشی ٹیم کو بتایا کہ فرخ کے ایک دوست نے ان سے شادی کا وعدہ بھی کر رکھا تھا۔
تفتیشی افسر کے بقول لڑکی نے مزید بتایا کہ اس نے ان تینوں افراد کے خلاف تھانہ شالیمار میں ہراسانی کا مقدمہ بھی درج کروا رکھا ہے۔
کولیسٹرول اور پولیس کا شک
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
تفتیشی افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ جب انھوں نے لڑکی سے دریافت کیا کہ چار مئی کی رات دو بجے ان کی لوکیشن صوابی کی کیوں آ رہی تھی اور وہاں کیا کر رہی تھی تو انھوں نے بتایا کہ ’ان کی والدہ کا کولیسٹرول کافی ہائی تھا، اس لیے وہ اپنی والدہ کی خیریت دریافت کرنے گئی تھیں۔‘
ایس پی سٹی، جو کہ ایک ڈاکٹر بھی ہیں، کہتے ہیں کہ کولیسٹرول ایسی بیماری نہیں ہے جس سے فوری طور پر کسی کی جان کو خطرہ ہو۔
انھوں نے کہا کہ جب اس جواب پر لڑکی سے مزید سوالات پوچھے گئے تو انھوں نے کہا کہ انھیں سوچنے کے لیے پانچ منٹ کا وقت درکار ہے۔
اس کے بعد تفتیشی افسر کے بقول لڑکی نے دوران حراست فرخ افضل کو اغوا اور پھر قتل کرنے کے جرم کا اعتراف کرلیا۔ تفتیشی افسر کے مطابق ملزمہ کی نشاندہی پر مغوی کی لاش بھی برآمد کر لی گئی ہے۔
تاہم ملزمہ کی والدہ نے بی بی سی کے ساتھ گفتگو میں بیٹی کے اغوا اور قتل میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ چند روز سے ان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی، اسی لیے ایک روز پہلے ان کی بیٹی انھیں دیکھنے کے لیے صوابی آئی تھی۔
دوسری جانب تفتیشی افسر کہتے ہیں کہ ملزمہ نے سوات کے رہائشی اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر فرخ افضل اور ان کے دوستوں سے بدلہ لینے کا منصوبہ بنایا تھا۔
پولیس کے مطابق یہ دوست خیبر پختونخوا پولیس میں کانسٹیبل ہے اور اسے گرفتار کیا جا چکا ہے۔
ایس پی سٹی کے مطابق ملزمہ فرخ کے اغوا سے کچھ دیر پہلے کانسٹیبل کو اسلام آباد میں اپنے گھر لے آئی تھی اور اسے فرخ کے گھر کی لوکیشن دی تھی، جس کے بعد فرخ افضل کو ان کے گھر کے باہر سے اغوا کرلیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے کہا کہ اغوا کرنے کے بعد ملزمان مغوی کو صوابی لے گئے، جہاں پر پولیس کے بقول ملزمان نے فرخ افضل کو تشدد کرکے ہلاک کردیا اور مقتول کی لاش کو مردان کے قریب ایک ویران علاقے میں پھینک دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کی نشاندہی پر لاش کو ڈھونڈ لیا گیا اور اس کا پوسٹمارٹم کیا گیا۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق مقتول کی ہلاکت سر پر شدید چوٹیں لگنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔
تفتیشی ٹیم کے ایک اہلکار کے مطابق فرخ افضل کو مارنے کے بعد ملزم کانسٹیبل اسی گاڑی میں سوات چلا گیا، جبکہ ملزمہ ٹیکسی سروس کے ذریعے واپس اسلام آباد اپنے گھر پہنچ گئی۔
ایس پی سٹی کے مطابق گرفتار ہونے والہ ملزم خیبر پختونخوا پولیس میں کانسٹیبل ہے جبکہ اس کا والد خیبر پختونخوا پولیس میں ڈی ایس پی کے عہدے پر فائز ہے۔


























