لاکھوں ریال اور پاؤنڈز کی چوری کا مقدمہ مگر ’صرف دو ہزار روپے برآمد‘، اسلام آباد میں گھریلو ملازمہ بری

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- مطالعے کا وقت: 4 منٹ
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے پانچ لاکھ سعودی ریال اور پانچ لاکھ پاؤنڈ کی چوری کے مقدمے میں ایک گھریلو ملازمہ کو ثبوتوں کی عدم موجودگی کے سبب بری کر دیا ہے۔
گھریلو ملازمہ کے خلاف مقدمہ یکم فروری 2024 میں اسلام آباد کے تھانے لوہی بھیر میں درج کیا گیا تھا۔ درج کروائی گئی ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ملازمہ نے پی ڈبلیو ڈی سوسائٹی میں واقع ایک گھر سے چار لاکھ پاکستانی روپے، پانچ لاکھ سعودی ریال اور پانچ لاکھ پاؤنڈ ’غائب‘ کر دیے ہیں۔
ساجدہ زاہد نامی خاتون مدعی نے پولیس کو بتایا تھا کہ: ’پڑوسیوں نے ہمیں بتایا کہ آپ کی غیرموجودگی میں ملازمہ آپ کی غیرموجودگی میں واپس آکر گھر میں گھسی ہے۔‘
’جب ہم نے گھر میں سامان چیک کیا تو اس میں سے ہماری رقم غائب تھی۔‘
تاہم اسلام آباد میں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت کا کہنا ہے کہ استغاثہ گھر میں چوری یا ملازمہ کے گھر سے رقم کی بازیابی ثابت نہیں کر سکی۔
تاہم ملازمہ نے ان الزامات کو ’جھوٹا‘ قرار دیا تھا۔
’گھر میں اتنی بڑی رقم اور چابی ملازمہ کے پاس‘: عدالتی فیصلے میں کیا لکھا ہے؟
جوڈیشنل مجسٹریٹ رضوان الدین نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ استغاثہ بار بار احکامات دیے جانے کے باوجود ملزمہ پر لگائے گئے الزامات کے حق میں کوئی گواہ نہیں پیش کر سکی۔
عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریکارڈ میں اس جرم کے ارتکاب کی تاریخ یا وقت درج نہیں ہے اور بقول مدعی کے انھیں اس معاملے کی خبر پڑوسیوں نے دی تھی، لیکن سیکشن 161 کے تحت کسی بھی پڑوسی کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا ہے کہ مدعی کے گھر سے غیرملکی کرنسی سمیت خطیر رقم چوری ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا، جبکہ دوران تفتیش ’صرف دو ہزار روپے‘ کی معمولی رقم برآمد کی گئی۔
’یہ بات ناقابلِ یقین لگتی ہے کہ اتنی بڑی رقم گھر میں رکھی گئی ہو اور گھر کی چابی ملازمہ کے حوالے کر دی گئی ہو۔‘
عدالت کا اپنے فیصلے میں کہنا ہے کہ اس بات کے بھی کوئی ثبوت پیش نہیں کیے گئے کہ مدعی کے گھر میں پانچ لاکھ سعودی ریال اور پانچ لاکھ پاؤنڈ موجود تھے یا چوری ہوئے تھے۔
عدالت نے اس مقدمے سے ملازمہ کو سی آر پی سی کے سیکشن 294 اے کے تحت بری کیا ہے۔ اس سے قبل وہ ضمانت پر تھیں۔
عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ انصاف کے اصولوں کے مطابق شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو دیا جاتا ہے۔
’ملازمہ نے مالکن کے ساتھ کمیٹی ڈالی ہوئی تھی‘
گھریلو ملازمہ کے وکیل حبیب حنظلہ نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ ان کی موکلہ کے خلاف مقدمہ ’جھوٹ پر مبنی تھا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ان کی موکلہ کے خلاف مقدمہ دفعہ 381 کے تحت درج کیا تھا اور پولیس نے اپنی تحقیقات آگے بڑھانے سے پہلے ’مدعی کا بینک سٹیٹمنٹ تک نہیں دیکھا کہ ان کے پاس اتنی رقم موجود ہو بھی سکتی ہے کہ نہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ملازمہ نے اپنی مالکن کے پاس ’ماہانہ دو ہزار روپے کی کمیٹی ڈالی ہوئی تھی، جو کہ انھیں اپنی گرفتاری والے مہینے ہی ملنی تھی۔ اس وقت ان کی ایک ڈیڑھ مہینے کی تنخواہ بھی واجب الادا تھی۔‘
’ملازمہ کی بیٹی ذہنی امراض کا شکار ہے اور اس کے علاج کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی، جب وہ پیسے مانگے گئے تو کچھ دیر بعد پولیس اہلکار آکر ملازمہ کو گرفتار کر کے لے گئے۔‘
وکیل حبیب حنظلہ کا کہنا ہے کہ دوران تفتیش ان کی موکلہ کو پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ ان پر اتنی بڑی چوری کا الزام ہے۔




























