’پاکستان آئیڈل جیتنے والے گمنام ہو جاتے ہیں‘: ساحر علی بگا کو ٹیلنٹ شوز اور انڈین گانوں سے اعتراض کیوں

BBC
،تصویر کا کیپشنگلوکار اور موسیقار ساحر علی بگا
    • مصنف, حسن کاظمی
    • عہدہ, بی بی سی اردو
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

ساحر علی بگا پاکستان کی موسیقی کی صنعت کا ایک ایسا مستند نام ہیں جنھوں نے بطور موسیقار اور گلوکار اپنی صلاحیتوں کو منوایا ہے۔ وہ نہ صرف فلمی اور ڈراما انڈسٹری میں ’ٹرینڈ سیٹر‘ مانے جاتے ہیں بلکہ قومی نغموں کی تخلیق میں بھی ان کا ثانی نہیں ہے۔

اپنی منفرد آواز اور جدید دھنوں کے باعث وہ نئی نسل کے پسندیدہ فنکار ہیں، جو روایتی موسیقی کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کا فن بخوبی جانتے ہیں۔

بی بی سی اردو کے لیے جب ہمیں ان سے انٹرویو کرنے کا وقت ملا تو بگا سے ہمارا پہلا سوال یہی تھا کہ وہ خود کو موسیقار زیادہ بہتر سمجھتے ہیں یا گلوکار تو اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں در اصل موسیقی کا پرستار ہوں، پہلے مختلف موسیقی کے آلات بجائے، پھر کمپوزیشن کی جانب آیا اور پھر باقاعدہ گلوکار بنا اور یہ سب موسیقی سے محبت کا ہی تو تسلسل ہے۔‘

انھوں نے البتہ موسیقار اور گلوکار ہونے میں سے کسی ایک چُناؤ سے اجتناب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ انھیں گلوکار کی حیثیت سے زیادہ جانتے ہیں، بنسبت موسیقار کے۔

’اس لیے دونوں شناخت کو ملائیں تو صرف یہ کہوں گا کہ میں ایک میوزک لور ہوں، تو مجھے میوزک کی ہر صنف پہ کام کرنا اچھا لگتا ہے۔‘

اپنی قومی نغموں کے خالق کے طور پر شناخت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ڈراما انڈسٹری میں کام کیا، فلم انڈسٹری میں کام کیا، ہر جگہ ان کے گانے مقبول ہوئے اور وہاں انھوں نے ایک نئی جہت کی ابتدا کی، اسی طرح جب انھوں نے پاکستانی فوج کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا تو ان کی کوشش تھی کہ وہاں بھی ایک نئی سمت میں کام کیا جائے کیونکہ اس سے پہلے زیادہ تر پرانے نغمے ہی نئے انداز سے بنائے جارہے تھے۔

تو جب انھیں موقع ملا تو انھوں نے سوچا کہ نئے نغمے بنانے چاہییں اور انھوں نے اس پر کام کیا اور نئے نغمے بنائے۔

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اریجیت سنگھ اور ’لابی سسٹم‘ کا ذکر

پس پردہ گلوکاری سے متعلق بات کرتے ہوئے ساحر علی بگا نے کہا کہ انڈین گلوکار اریجیت سنگھ نے جو علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے اس کی وجہ ’لابی سسٹم ہے اور پاکستان میں بھی کہیں نہ کہیں تو لابی سسٹم چل ہی رہا ہوتا ہے۔‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

’تو کچھ لوگ ہیں جن کی وجہ سے بندہ کہتا ہے کہ یار یہ چیز چھوڑ ہی دو، یہ کام اب کرنا ہی نہیں ہے۔‘

نئی نسل یا جین زی کی میوزک کے بارے میں ترجیحات پر ان کی رائے تھی کہ ’15 سے 25 سال کی عمر کے لوگ ہمیشہ ہی ہوتے ہیں، وہ خود بھی کبھی اس عمر کے تھے۔ اس عمر میں الیکٹرانک میوزک بہت کشش رکھتا ہے اور یہ ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے۔

’لیکن میں یہی سمجھتا ہوں کہ آج بھی ہمارے پورے ایشیا میں جو میوزک سرِ فہرست ہے وہ میوزک جو ہے وہ میچور میوزک ہی ہے اور وہ ایک انڈین پاکستانی جیسے اچھی بالغ شاعری، میچور کمپوزیشن وہی میوزک ہے اور کوئی بھی بچہ ہو، کوئی بھی یوتھ ہو اس کو ایک دن تو 25 سال سے اوپر جانا ہی ہوتا ہے تو وہ پھر صحیح والے میوزک پہ آ جاتا ہے۔‘

ساحر علی بگا نے لائیو گانے کی صلاحیت نہ رکھنے کے بارے میں پوچھے جانے والے سوال پر کہا کہ ’اگرچہ آج کل سٹوڈیوز میں گلوکاروں کی آواز کو مزید سریلا بنانے کے لیے ’مینول پچنگ‘ کا استعمال عام ہے جو نوآموز گلوکاروں کے لیے استعمال ہونے والے ’آٹو ٹیون‘ سے قدرے مختلف ہے۔ اگرچہ اس ٹیکنالوجی سے گانے سننے میں بھلے لگتے ہیں، لیکن اس نے پروفیشنل گلوکاروں کو سُست کر دیا ہے۔‘ اُن کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے لائیو پرفارمنس میں ان کی اصل آواز متاثر ہوتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’اب کئی انڈین گلوکاروں سمیت متعدد فنکاروں نے لائیو کنسرٹس میں بھی آٹو ٹیونر کا استعمال شروع کر دیا ہے، جس سے مداحوں کی لائیو گائیکی سے متعلق شکایت بھی دور ہو جائیں گی۔‘

موسیقی کی کمرشلائزیشن کو وہ بہت زیادہ غلط نہیں سمجھتے، ان کی رائے میں کوک سٹوڈیو، نیسکیفے بیسمنٹ یا اور میوزک کے جتنے بھی پلیٹ فارم آئے ہیں وہ پاکستان میوزک انڈسٹری کے لیے اچھے ہیں۔

ان کے خیال میں اگر انڈیا کی ہی مثال لیں تو بالی ووڈ کی وجہ سے بہت سارے سنگرز آئے ہیں، اس کی وجہ سے بہت ساری فلمیں بنی ہیں گانے بہت سارے آئے ہیں۔ پاکستان میں اگر فلم بنتی بھی تھی کبھی تو اس میں نہ تو سلطان راہی صاحب اور شان صاحب گانے ہی نہیں گاتے تھے۔ تو 50 سال کی جو فلمی تاریخ ہے اس میں ہیرو نے گانا ہی نہیں گایا اس لیے پلے بیک سنگر ہی نہیں بنے۔

’میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے ہاں جو لوگ گا رہے ہیں انڈسٹری جتنے بھی یہ میڈیمز ہیں میوزک کے، کوک سٹوڈیو یا نیسکیفے بیسمنٹ یہ ان کی مہربانی ہے کہ ہمارے ہاں سنگرز کو موقع ملتا ہے گانے کا۔‘

تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ پلے لسٹ محدود ہے اور یکسانیت کا شکار بھی اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ ایک سو دو سیزن کے بعد میوزک پروڈیوسر کو تبدیل کرنا چاہیے اس سے نئے ٹیلنٹ کو بھی موقع ملے گا۔

Sahir Aliee Bagga Instagram

،تصویر کا ذریعہSahir Aliee Bagga Instagram

بگا انڈین مواد کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیوں کرتے ہیں؟

موسیقی کی صنعت میں سٹریمنگ سروسز اور یوٹیوب کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے ٹیلنٹ کو ابھرنے کے بے پناہ مواقع فراہم کیے ہیں۔ اب کسی بھی فنکار کو البم کی ضرورت نہیں بلکہ وہ محض ایک گوگل اکاؤنٹ کی مدد سے اپنا ہنر پوری دنیا تک پہنچا سکتا ہے۔

وہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ دور میں شائقین کی توجہ تبھی حاصل کی جا سکتی ہے جب فنکار میں واقعی کوئی ٹیلنٹ موجود ہو۔

پاکستان میں ریکارڈ لیبل کے نہ ہونے سے ہونے والے نقصان کو تسلیم کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بڑا المیہ ہے۔ انھوں نے فائیو ریکارڈز بنانے کے بارے میں بتایا کہ وہ جلد ہی اس لیبل کے تحت ایک ٹی وی شو اور گلوکاری کا مقابلہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

گذشتہ دنوں اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا تھا کہ ’ہمیں شادی بیاہ پہ پاکستانی گانے بجانے چاہییں، انڈین گانے نہیں بجانے چاہییں‘، اس کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا موقف تھا کہ یہ بات تو انڈینز کو بھی سوچنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جب انڈیا پاکستانی فنکاروں اور ’سپاٹی فائی‘ جیسے پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کر سکتا ہے تو پاکستانی عوام اور حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی مقامی انڈسٹری کی عزت کریں اور جواباً انڈین مواد کا بائیکاٹ کریں۔‘

’ہم نے تو نہیں ان کو بین کیا تھا، انھوں نے ہمیں بین کر دیا ہے تو پہل تو انھوں نے کی ہے۔ تو ہماری عوام جو ہمارے لوگ ہیں، ہماری حکومت کو ہمارا ساتھ دینا چاہیے کہ ہمارے لیے بھی انڈین مواد کو بند کریں۔‘

Sahir Aliee Bagga Instagram

،تصویر کا ذریعہSahir Aliee Bagga Instagram

’آئمہ بیگ سوتی رہ گئیں‘

جب ہم نے بگا سے اُن کے حال ہی میں ریلیز ہونے والے گانے ’مستانی‘ سے متعلق سوال کیا کہ جس کے بارے میں سننے میں آیا کہ پہلے آئمہ بیگ اسے گا رہی تھیں لیکن پھر انھوں نے وہ گانا چھوڑ دیا تو آپ نے کسی اور سے گوا لیا؟

اس کے جواب میں بگا نے کہا کہ ’آئمہ بیگ نے اس گانے کو فلمانے اور میوزک ویڈیو کے لیے پیسے بھی دیے تھے، پھر یہ ہوا کہ وہ چار مرتبہ شوٹنگ پہ نہیں آئیں، سوتی رہ گئیں، اٹھی ہی نہیں۔ تو یوں چار تاریخیں منسوخ ہوئیں، تو پھر افشاں فواد کو لے کر گانا بنا لیا۔‘

تاہم، انھوں نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ وہ مستقبل میں بھی آئمہ کے ساتھ کام کرنے کے خواہاں ہیں اور اگلی بار انھیں جگانے کے لیے ان پر پانی ڈال دیں گے۔

ساحر علی بگا موسیقی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کو خطرہ نہیں سمجھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت فنکار کو مدد فراہم کر رہی ہے۔

’میرے خیال میں اے آئی اس زمانے کے لیے بہت ہی اچھا ایک تحفہ ہے، مجھے تو بہت مزہ آتا ہے، اے آئی کے ساتھ کام کر کے کیونکہ وہ جیسے آپ کی بات وہ سمجھتا ہے، لگتا ہے انسان کی سمجھ میں ایسے نہیں آئے گا، اس لیے اے آئی بہترین ہے۔‘

’یہ کیسا ونر ہے جس کو بعد میں کام ہی نہیں ملا‘

پاکستان آئیڈل کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’ابتدا میں، میں نے اس کی بہت حمایت کی تھی، اگرچہ بہت سے فنکار اس کے خلاف تھے، لیکن اب وہ شو ایک قانونی مصیبت میں ہے اس لیے کیا کہا جائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’آپ ایک ہی گلوکار سے کہتے ہیں کہ ہمیں ہر قسم کا گانا سناؤ، جس کی آواز پاپ گانے کے لیے بہترین ہے آپ اسے کہتے ہیں کہ فوک سناؤ، جس کی آواز فوک کے لیے اچھی ہے آپ اسے کہہ رہے ہیں کہ ہمیں کلاسیکل سناؤ۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ طریقہ ساحر علی بگا کے مطابق ٹھیک نہیں ہے۔ بگا سمجھتے ہیں کہ پرانے زمانے میں بھی ہر ایک گلوکار کا اپنا انداز تھا، جیسے مہدی حسن، جہانگیر عالم، احمد رشدی، نورجہاں یا پھر ناہید اختر یہ سب مختلف انداز اور آواز کے مالک تھے۔

’10 سال پہلے پاکستان آئیڈل ہوا تھا تو اس میں جیتنے والے کا آج تک نہیں پتہ کہ وہ کہاں ہے اور کس حال میں ہے۔‘

ساحر علی بگا کا کہنا تھا کہ ’یہ کیسا ونر ہے جس کو بعد میں کام ہی نہیں ملا، نہ کسی نے اس کو سنگنگ شوز پہ بلایا، نہ کسی نے اس کو فلم کا گانا گوايا، ہمارے ٹیلنٹ شو کے بعد جیتنے والا گُمنام ہی ہو جاتا ہے۔‘

انھوں نے اپنے نئے شو ’ونرز فائیو‘ کا اعلان کیا جس میں پانچ مختلف اصناف سے تعلق رکھنے والے گلوکاروں کو موقع دیا جائے گا تاکہ انھیں مستقبل میں ان کی صلاحیتوں کے عین مطابق کام مل سکے۔