پاکستان کی ایران اور امریکہ کو ثالثی کی پیشکش: کیا اسلام آباد جنگ رکوانے میں کامیاب ہو سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
- مصنف, روحان احمد
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
پاکستان نے باضابطہ طور پر ایران اور امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کر دی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت اسلام آباد میں ہو سکتی ہے۔
مذاکرات کی خبریں اتوار کو اس وقت گردش کرنا شروع ہوئیں تھیں جب صدر ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور تہران کے پاور پلانٹس پر حملوں کے فیصلوں مؤخر کیا جاتا ہے۔
ایران نے ان مذاکرات کی تردید کی لیکن اس کے فوراً بعد ہی یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ یہ مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں ہو رہے ہیں۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کی شام سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں لکھا کہ ’پاکستان مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے ذریعے جاری کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے تاکہ خطے میں امن اور استحکام قائم ہو۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’امریکہ اور ایران رضامند ہوں تو پاکستان معنی خیز اور حتمی مذاکرات کروانے کے لیے تیار ہے جن کے ذریعے تنازع کا حل نکالا جا سکے۔‘
صدر ٹرمپ نے شہباز شریف کا بیان ٹرتھ سوشل پر بھی شیئر کیا، جس سے یہ گمان ہوتا ہے کہ شاید واشنگٹن پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے آگاہ ایک ایرانی سفارتکار نے بی بی سی نیوز اردو کے نامہ نگار روحان احمد کو بتایا کہ ’اس بات چیت کے معمولی امکانات موجود ہیں۔‘
’اگر (ان مذاکرات کے حوالے سے) حتمی فیصلہ ہو جاتا ہے تو دیگر جگہوں کے علاوہ اسلام آباد بھی میزبانی کا مقام ہو سکتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کی مذاکرات کی باضابطہ پیشکش کے بعد متعدد سوالات جنم لے رہیں: ایران اور امریکہ اسلام آباد کو بطور ثالث کیوں قبول کریں گے، اگر اس کوشش کے نتیجے میں کوئی معاہدہ ہو جاتا ہے تو کیا پاکستان اس کا ضامن ہوگا؟
سب سے اہم سوال یہ کہ پاکستان کو ان کوششوں سے کیا فائدہ حاصل ہوگا؟

،تصویر کا ذریعہX@CMShehbaz
پاکستان کی ثالثی کی کوششیں
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
گذشتہ 48 گھنٹوں میں پاکستانی رہنماؤں نے ایرانی اور امریکی صدور سے فون پر بات چیت کی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے بی بی سی اردو کو تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ اور پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان گفتگو ہوئی ہے۔ تاہم اس کی جانب سے مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔
دوسری جانب وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے فون پر بات کی اور کشیدگی کو ’بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے‘ کم کرنے پر زور دیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں ممالک کی ہی قیادت سے قربت پاکستان کو ایک اس تنازع کے حل کے لیے ایک مستحکم ثالث بناتی ہے۔
قائدِ اعظم یونیوسٹی سے منسلک اسسٹنٹ پروفیسر محمد شعیب نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’پاکستان کے قیادت کی سطح پر امریکہ اور ایران دونوں سے ذاتی تعلقات ہیں۔ اس کی غیرجانبداری، امن کے لیے کوششیں اور امریکہ اور ایران کا اس پر اعتماد اسے ایک ثالث کا کردار نبھانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔‘
ماضی میں بطور ایرانی سفیر خدمات سرانجام دینے والے آصف درانی بھی اس نقطے سے اتفاق کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
ان کا کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ دونوں ہی پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں۔
’خطے میں کونسا دوسرا ایسا ملک ہے جس سے ایران کے بہتر تعلقات ہوں؟ خلیجی ممالک سے تعلقات میں کشیدگی ہے، ترکی سے بھی تعلقات میں تناؤ ہے۔ ایسے میں پاکستان ہی ایک بہتر ثالث بن سکتا ہے۔‘
سابق سفیر آصف درانی مزید کہتے ہیں کہ امریکہ بھی ان مذاکرات کے لیے پاکستان پر ہی اعتماد کرے گا کیونکہ ’انڈیا تو ان مذاکرات میں غیرجانبدار ثالث نہیں بن سکتا کیونکہ مودی ایران پر حملے سے دو دن قبل اسرائیل میں تھے۔‘
کیا پاکستان کسی متوقع معاہدے کا ضامن بن سکتا ہے؟
ایران واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ گذشتہ برس جون اور پھر دسمبر میں اس نے قطر اور عمان کی ثالثی میں تہران سے مذاکرات کیے اور دونوں مرتبہ ایران پر حملوں کے نیتجے میں یہ بات چیت کا عمل معطل ہوگیا۔
ایسے میں سوال اُٹھتا ہے کہ کیا پاکستان ان مذاکرات کے کو کسی منطقی انجام تک پہنچا سکتا ہے؟
پروفیسر محمد شعیب کہتے ہیں کہ ’پاکستان اس عمل یا کسی معاہدے کی ضمانت نہیں دے گا بلکہ ثالث کے طور پر فریقوں کے درمیان رابطے بڑھائے گا اور یقینی بنائے گا کہ وہ دونوں ممالک اپنے وعدوں کی پاسداری کریں۔‘
’یعنی کہ کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کی صورت میں بھی وہ اپنا بطور ثالث کردار ادا کرتا رہے گا۔‘
سابق سفیر آصف درانی کا بھی یہی ماننا ہے کہ اسلام آباد کسی چیز کی ضمانت نہیں دے سکتا بلکہ وہ اپنی سرزمین پر بات چیت کے ذریعے ایران اور امریکہ کو تنازع کے حل کا موقع دے رہا ہے۔
’ابھی یہ معاملات ابتدائی نوعیت کے نظر آتے ہیں۔ مذاکرات کی ابتدا میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ بطور ثالث ملک کا مینڈیٹ کیا ہوگا۔‘
مذاکرات سے پاکستان کو کیا حاصل ہوگا؟
اس صورتحال میں یہ سوال بھی اُٹھتا ہے کہ پاکستان بطور ثالث ان مذاکرات کی میزبانی کے ذریعے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔
مبصرین سمجھتے ہیں کہ پڑوسی ملک ہونے کے ناتے پاکستان بھی ایران میں جنگ سے متاثر ہو رہا ہے اور کشیدگی میں کمی سے اسے معاشی اور سیاسی آسانیاں مل سکتی ہیں۔
پروفیسر محمد شیعب کہتے ہیں کہ ’کشیدگی میں کمی سے پاکستان کو معاشی، سیاسی اور سماجی فوائد حاصل ہوں گے۔‘
’استحکام سے تجارت پر دباؤ کم ہوگا خاص طور پر ایندھن اور تیل کی مارکیٹ میں آسانی پیدا ہوگی۔‘
پاکستان کے خلیجی ممالک سے بھی اچھے تعلقات ہیں اور اسلام آباد نے ریاض کے ساتھ ایک دفاعی معاہدہ بھی کر رکھا ہے۔ تاہم اس جنگ کی ابتدا کے بعد ایران نے تقریباً تمام ہی ممالک کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
پروفیسر محمد شعیب کہتے ہیں کہ کشیدگی میں کمی کی صورت میں ’خلیجی ممالک کی معیشتوں پر بھی دباؤ کم ہوگا، جہاں سے سب سے زیادہ ترسیلاتِ زر پاکستان آتی ہیں۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ خطے میں استحکام کے بعد پاکستان افغانستان کے محاذ اور اپنے شمال مغربی علاقوں میں دہشتگردی پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز رکھ سکے گا۔
دوسری جانب سابق سفیر آصف درانی کہتے ہیں کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث بننے کی پیشکش کسی فائدے کی وجہ سے نہیں کی۔
’ایران ایک پروسی ملک ہے اور وہاں جنگ کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں۔ تیل کی فراہمی معطل ہے، اقتصادی پریشانیاں جنم لے رہی ہیں۔‘
خیال رہے اس تنازع کی ابتدا کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی تھی، جہاں سے دنیا بھر کو تیل کی فراہمی ہوتی ہے۔
’مذاکرات کروانا ایک خطرہ مول لینا بھی ہے‘

،تصویر کا ذریعہX@ethrelkeld
سابق امریکی سفارت کار اور سٹمسن سینٹر میں ڈائریکٹر برائے امور جنوبی ایشیا الیزبتھ ٹھریلکڈ کا ماننا ہے کہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جن کا امریکہ، ایران سمیت مشرق وسطی کے اہم ممالک سے تعلق ہے اور ’ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں اسلام آباد خاموشی سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کروانے میں کردار ادا کرتا رہا جس کی وجہ سے اسے فریقین کا اعتماد حاصل ہوا۔‘
لیکن کیا امریکہ اور ایران کے بیچ کسی معاہدے کی صورت میں پاکستان ضامن ہو گا؟ اس سوال کے جواب میں الیزبتھ کا کہنا تھا کہ ’فی الحال کسی قسم کے معاہدے کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا جب تک ممکنہ مذاکرات کے نتائج کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل نہ ہو جائیں۔‘ تاہم ان کے مطابق پاکستان کی کوشش ہو گی کہ دونوں فریقین کے ساتھ مرکزی کردار کو برقرار رکھے۔
تو ان کوششوں سے پاکستان کو کیا حاصل ہو گا؟ الیزبتھ کہتی ہیں کہ ’اگر پاکستان ایک معاہدہ کروانے میں کامیاب رہتا ہے تو یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہو گی۔ پاکستان ایک جانب امریکہ سے تعلقات کو مذید مضبوط بنا لے گا تو دوسری طرف سعودی عرب سے دفاعی معاہدے اور ہمسائے ایران سے قریبی تعلقات کی وجہ سے موجودہ کیفیت سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گا۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں بنا کسی رکاوٹ سامان اور توانائی کی رسد سے بھی پاکستان کو فائدہ ہو گا۔‘
تاہم الیزبتھ کا ماننا ہے کہ ’ایران اور امریکہ کے بیچ مذاکرات کروانا ایک خطرہ مول لینا بھی ہے اگر یہ بات چیت کامیاب نہیں ہوتی یا تنازع شدت اختیار کر جاتا ہے۔‘




























