’پاکستان کا شکریہ‘: ایران جنگ کے دوران عراقچی کا بیان جو اسلام آباد کی ’محتاط‘ حکمت عملی کی طرف اشارہ ہے

،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images
- مصنف, اعظم خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے شروع کی گئی جنگ کے بعد سے ایران نے خطے کے کئی ممالک پر ’جوابی حملے‘ کیے ہیں مگر اس دوران اس نے اپنے پڑوسی ملک پاکستان کا ’یکجہتی اور حمایت‘ پر شکریہ ادا کیا ہے۔
امریکہ نے اسرائیل سے مل کر ایران پر 28 فروری کو حملوں کا آغاز کیا۔ جب حملے شروع ہوئے تو ایران نے جہاں ایک طرف اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کیے وہیں اس نے سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں امریکی اہداف کو بھی نشانہ بنایا۔
خلیجی ممالک نے ایران کے ان میزائل اور ڈرون حملوں کو اپنی سلامتی کے خلاف قرار دیا اور ان کی مذمت کی۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جس نے خلیجی ممالک میں ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے۔
پاکستان کی سویلین اور عسکری قیادت نے اس دوران سعودی عرب کے متعدد دورے کیے۔ پاکستان کا براہ راست تو ایران سے کوئی رابطہ نہیں ہوا مگر اس کے باوجود منگل کو ایران نے پاکستان کے کردار کو سراہا اور اسلام آباد کے کردار کی تعریف کی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے پیر کو امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کا سامنا کرنے والے ایران اور اس کے عوام کے ساتھ پاکستان کی دکھائی گئی ’بھرپور یکجہتی اور حمایت‘ پر حکومت پاکستان اور اس کی عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔
عباس عراقچی کے ایکس اکاؤنٹ سے اردو زبان میں جاری ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’ان بابرکت، الٰہی اور روحانی دنوں اور گھڑیوں میں، میں حکومت اور عوامِ پاکستان کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انھوں نے امریکہ اور صہیونی رجیم کی جارحیت کے مقابلے میں عوام اور حکومتِ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اپنی یکجہتی اور حمایت کا بھرپور اظہار کیا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ’اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسے کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع میں ثابت قدم اور پرعزم ہے، اور ثابت قدمی و استقامت کے ساتھ کھڑا رہے گا۔‘
تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان نے ایسا کیا کیا ہے جو تہران اس کا شکریہ ادا کر رہا ہے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تناؤ میں کمی کی کوششیں
ایک وجہ تو شاید خود پاکستانی حکام کے بیانات سے بھی عیاں ہو سکتی ہے۔ اس ماہ کے آغاز میں سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے تاکہ لڑائی کا سلسلہ ختم ہو سکے۔
انھوں نے ایران کے پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے حق کی بھی حمایت کی۔
لیکن کیا واقعی پاکستان نے کچھ ایسا ہٹ کر کیا کہ جو تہران کو اچھا لگا۔
ایران میں پاکستان کے سابق سفیر آصف درانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ پاکستان کی متوازن سفارت کاری ہے کہ وہ مسلم بھائیوں کو قریب لائے تاکہ ان کے تنازعات کو پُرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔‘

،تصویر کا ذریعہSaudi Press Agency
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اسلام آباد میں واقع قائد اعظم یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ڈاکٹر قندیل عباس کا کہنا ہے کہ پاکستانی قیادت نے جو حالیہ ملاقاتیں کی ہیں اور جس طرح اس معاملے میں کردار ادا کیا ہے لگتا ہے کہ اس سے ایران خوش ہے اور ایران سے متعلق خلیجی ممالک اور بالخصوص سعودی عرب کی قیادت کو پیغام ٹھیک ٹھیک انداز میں بھیجا ہے۔
قندیل عباس کے مطابق پاکستان نے ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان تین سے چار دہائیوں پرانے اور انتہائی پیچیدہ تنازع میں ’محتاط پالیسی‘ اختیار کی۔ ان کی رائے میں یہ ’توازن برقرار رکھنا بہت مشکل ہے مگر پاکستان نے ایسا کیا۔‘
ان کی رائے میں اگرچہ سعودی عرب کے ساتھ معاہدے کے بعد اسلام آباد کی زیادہ ذمہ داریاں یا مجبوریاں بھی ہیں مگر بظاہر پاکستان نے اپنی دیرینہ پالیسی کو ہی مقدم رکھا کہ جب دو اسلامی ممالک میں لڑائی ہو تو پھر اس جنگ یا تنازع کا حصہ بننے کے بجائے ثالثی کا کردار ادا کرنا ہے۔
قندیل عباس کے مطابق ایران نے سعودی عرب، آذربائیجان اور ترکی پر ہونے والے حملوں کو تسلیم نہیں کیا اور انھیں امریکہ کا فالس فلیگ آپریشن قرار دیا۔ ان کی رائے میں پاکستان نے یہ بات سعودی عرب سمیت عرب ممالک کو باور کرائی ہوگی کہ یہ جنگ ان کے خلاف نہیں ہے اور وہ ایران کے خلاف جنگ کا حصہ نہ بنیں۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی کوشش تھی کہ خلیجی ممالک براہ راست اس جنگ میں شراکت دار بن جائیں۔
امریکی صدر نے منگل کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ ممالک نے انھیں ’شدید مایوس‘ کیا ہے کیونکہ انھوں نے ایران کے خلاف امریکی جنگ میں تعاون نہیں کیا۔
ٹرمپ نے خاص طور پر نیٹو ممالک کا ذکر کیا اور کہا کہ انھوں نے برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹامر سے بات کی تھی، جو پہلے ہچکچائے لیکن بعد میں کچھ مدد کی پیشکش کی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’مجھے آپ کے ایئرکرافٹ کیریئرز کی ضرورت نہیں، جب ہم پہلے ہی جنگ جیت چکے ہیں۔‘
تاہم ٹرمپ نے کہا کہ کچھ ممالک امریکہ کے منصوبے میں مدد کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنایا جا سکے، کیونکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ انھوں نے ان ممالک کی نشاندہی نہیں کی لیکن کہا کہ جنوبی کوریا، جاپان اور چین جیسے ممالک کو بھی امریکہ کی مدد کرنی چاہیے۔
ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ’اپنے سے ایک ہزار میل کے فاصلے پر موجود ہر ملک پر میزائل داغ رہا ہے‘۔ انھوں نے کہا کہ ایران ہزاروں میزائل ان ممالک پر داغ رہا ہے جو اس جنگ میں شامل ہونے کی توقع نہیں رکھتے تھے۔
پاکستان ’ایران جنگ میں شامل نہیں‘
ادھر ایران میں پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو نے بھی ایران کا شکریہ ادا کیا ہے۔
ایکس پر ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ تہران نے ’مشکل حالات کے دوران پاکستان کی ایران کے ساتھ تجارت، اور ایران کے راستے ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے مکمل سہولت فراہم کی۔ پاکستان اور ایران کے درمیان زمینی سرحدیں بہترین طور پر کام کر رہی ہیں اور مختلف سرحدی مقامات پر گرین چینلز فعال ہیں، جو دونوں جانب اشیا کی تیز رفتار نقل و حرکت کو یقینی بنا رہے ہیں۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’پاکستان بھی تہران کو بھرپور تعاون فراہم کر رہا ہے تاکہ ہماری تجارت جاری حالات سے متاثر نہ ہو۔ رش اور بھیڑ کے مسائل بھی باہمی کوششوں سے حل کیے جا رہے ہیں۔ پاکستانی سفارت خانہ پاکستان اور ایران دونوں میں سرکاری اور نجی سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ تجارت کی فوری سہولت یقینی بنائی جا سکے۔‘
قندیل عباس کی رائے میں ایران کی طرف سے تعریف کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کے عوام کی بھی کھل کر ہمدردیاں ایران کے ساتھ ہیں اور میڈیا میں بھی ایران کے نقطہ نظر کو بھرپور کوریج مل رہی ہے، جس وجہ سے تہران یہ سب دیکھ کر پاکستان سے خوش ہے۔
اب یہ خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ پاکستان کے ایک تیل بردار جہاز کو بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے، جو اب اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے۔
بی بی سی نیوز اردو کے نامہ نگار روحان احمد نے جب ایک ایرانی سفارتکار سے پوچھا کہ کیا پاکستان نے ایرانی حکام سے آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ گزرگاہ کے لیے رابطہ کیا ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ ’ایران دوست ممالک یا وہ ممالک جو ایران کے ساتھ جنگ میں شامل نہیں ہیں، ان کے محفوظ گزرگاہ کے لیے ضروری اقدامات پر غور کر رہا ہے‘۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان سب سے زیادہ دوستانہ ممالک میں سے ایک ہے۔‘
بی بی سی نیوز نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستانی جھنڈے والا جہاز آبنائے ہرمز سے قدرے طویل راستہ لے کر گزرا ہے۔













