عید کے پیغام میں افغان طالبان کے سپریم لیڈر نے پاکستان کا ذکر کیوں نہیں کیا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان میں برسرِ اقتدار افغان طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخونزادہ کا کہنا ہے کہ افغانستان تمام مسلم ممالک کے ساتھ اسلامی اخوت کی بنیاد پر مضبوط اور مثبت تعلقات کا خواہاں ہے۔
سوموار کے روز افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اخونزادہ کا عید کے موقع پر جاری بیان شیئر کیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان دیگر ممالک کے ساتھ اسلامی اصولوں کی بنیاد پر اچھے اور مثبت تعلقات قائم رکھنے کا خواہشمند ہے۔
اپنے پیغام میں ہیبت اللہ اخونزادہ نے کہا ہے کہ ہم تمام ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ’وہ افغانستان کے عوام کے عقائد اور اقدار کا احترام کریں اور ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان دنیا میں کہیں بھی مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی تمام ناانصافیوں اور حقوق کی خلاف ورزیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
اپنے اس پیغام میں افغان طالبان کے سربراہ نے پاکستان کے ساتھ جاری جھڑپوں یا خطے میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران جنگ کا ذکر نہیں کیا۔
انھوں نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ ’ہم تمام فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ افغانستان کے عوام کے عقائد اور اقدار کا احترام کریں اور ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’امارت اسلامیہ دنیا کے ہر حصے میں مسلمانوں کے خلاف مظالم اور ان کے حقوق کی پامالی کو ناانصافی سمجھتی ہے اور ان کی شدید مذمت کرتی ہے۔‘
عید الفطر کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں ملا ہیبت اللہ اخونزادہ نے اپنے پیروکاروں کو قیادت کی ’اطاعت‘ اور احکامات کو قبول کرنے کو ترجیح دینے کا مشورہ دیا، اور ملک میں طرز حکمرانی کی ایک بار پھر کھل کر تعریف کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے اپنے عوام کو نصیحت کی کہ ’اسلامی شرعی نظام کی حفاظت کریں اور حکام کی مکمل اطاعت کریں، اسلامی نظام کے استحکام کے لیے کوشش کریں، اور کسی قسم کے اختلاف سے گریز کریں۔‘
پاکستان کا ذکر نہ کرنے پر تنقید
مجموعی طور پر یہ عید پیغام مذہبی سفارشات پر مبنی ہے۔ تاہم اس پیغام کے جاری ہونے کے بعد افغانوں میں بڑے پیمانے پر تنقید کی گئی۔
سابقہ افغان حکومت کے دور کے ایک اعلیٰ عہدیدار شاہ محمود میاں خیل نے اپنے ایکس اکاونٹ پر لکھا کہ ’کیا پاکستان کے ساتھ تعلقات بھی بھائی چارے کی بنیاد پر ہونے چاہییں؟ انھوں نے پاکستان کے حملوں کی مذمت کیوں نہیں کی؟
’یا افغانستان پر پاکستان کے حملے ان کے ساتھ مل کر کیے گئے؟ کیونکہ انھوں نے پاکستان کا نام تک نہیں لیا۔ کیا پاکستان کے بم دھماکوں میں شہید اور زخمی ہونے والوں کا ان کے اہل خانہ سے تعزیت کا حق ہے یا نہیں؟‘
خیال رہے کہ اسلام آباد کی جانب سے پڑوسی ملک میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے جس پر افغان طالبان کی طرف سے سرحد پار ’جوابی کارروائیاں‘ بھی کی گئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تجزیہ کار اور صحافی سمیع یوسفزئی نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ افسوسناک اور حیران کن ہے، حالانکہ ان کی وزارت خارجہ نے بھی ایران جنگ پر بیان جاری کیا ہے، ایران سے ہمدردی کے باوجود وہ عرب ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے‘۔
انھوں نے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے ساتھ تنازعات سے متعلق مسائل ہیبت اللہ اخونزادہ کو بہت چھوٹے لگتے ہیں، جبکہ وہ ملک میں بہت چھوٹے مسائل پر فتوے اور احکام جاری کرتے ہیں۔‘ سمیع یوسفزئی نے کہا کہ حیرت ہے کہ طالبان رہنما اہم قومی مسائل پر ’خاموش‘ ہیں۔
سمیع یوسفزئی کے مطابق ’طالبان لیڈر شاید پاکستان کو دکھانا چاہتے ہیں کہ جس مسئلے پر آپ روزانہ پریس کانفرنسیں اور ٹیلی ویژن نشریات کر رہے ہیں وہ ہمارے لیے کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ ہمیں اس سے ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔‘
ہیبت اللہ اخونزادہ نے کیا پیغام دینے کی کوشش کی؟
بی بی سی کے داؤد اعظمی کا کہنا ہے کہ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ افغانستان پر پاکستان کے حملے کوئی نئی بات نہیں۔ ’پاکستان نے اپنا پہلا فضائی حملہ اپریل 2022 میں کیا تھا اور اس کے بعد سے ہر سال دو، تین یا اس سے زیادہ حملے ہوئے ہیں۔‘
ایک اور وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ’مرکزی ترجمان نے انٹرویو دیا ہے یا اس کے بارے میں بات کی ہے، وزارت خارجہ نے بیانات جاری کیے ہیں، اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ حکام نے جو کہا ہے وہ کافی ہے کیونکہ ہر اہلکار جو بولتا ہے وہی کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے‘۔
داؤد اعظمی کہتے ہیں کہ افغانستان کے لیے اس کی اہمیت ایک ملک کے طور پر بہت زیادہ تھی اس لیے لوگوں کو توقع تھی کہ اس کا ذکر کیا جائے گا۔
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کے قریبی طالبان کے ایک سینیئر حکومتی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’چونکہ وفاداروں کے کمانڈر ایک اعلیٰ درجے کی شخصیت ہیں، شاید اسی لیے انھوں نے اس مسئلے پر براہ راست توجہ نہیں دی۔ پیغام میں ممالک کی جانب سے عدم مداخلت کا ذکر ہے، اور یہی کافی ہوگا۔‘
طالبان حکومت کے سربراہ ملا ہیبت اللہ نے گذشتہ تقاریر میں خطے اور افغانستان کی سیاسی صورتحال پر تبصرے کیے ہیں۔ گذشتہ سال اپنی عید الفطر کی تقریر میں انھوں نے امریکی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی تھی اور غزہ پر اسرائیل کے حملوں کو ظالمانہ قرار دیا تھا۔
انھوں نے کہا تھا کہ ’آج کچھ لوگ امریکہ سے دوستی پر خوش ہیں، امریکہ سے دوستی کو کامیابی سمجھتے ہیں، لیکن سب سے بڑا ظالم امریکہ ہے، فلسطین کے تمام مسلمانوں کا قاتل امریکہ ہے۔‘
روایتی طور پر، ماضی کے طالبان رہنماؤں نے بھی اپنی تقاریر اور پیغامات میں اپنی تحریک کے اتحاد پر زور دیا ہے، اور مذہبی سفارشات سے ہٹ کر اپنے دشمنوں کو بالواسطہ اور براہ راست پیغامات دیے ہیں، جیسا کہ سنہ 2001 کے بعد، جب انھوں نے امریکی زیر قیادت نیٹو افواج کے ساتھ جنگ کے دوران انھیں ’جارح‘ کہا تھا۔
طالبان کے سابق رہنما ملا اختر محمد منصور نے سنہ 2016 میں اپنے عید کے پیغام میں کہا تھا کہ ’ہم پر جنگ مسلط کر دی گئی ہے اور ہماری زمینوں پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔
’ہمیں اپنی سرزمین کا ہر طرح سے دفاع کا حق حاصل ہے۔‘













