’پاکستانی طیاروں کی افغانستان میں بمباری‘: کابل اور اسلام آباد کے درمیان تنازع میں ٹی ٹی پی کا کردار

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, مامون درانی، علی حسینی، ضیاء شہریار
- عہدہ, بی بی سی پشتو
- مطالعے کا وقت: 15 منٹ
افغانستان نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب پاکستان نے کبل، قندھار، پکتیا اور پکتیکا سمیت ملک کے چند علاقوں میں بمباری کی۔ ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے الزام عائد کیا کہ اس بمباری کے دوران ’عام شہریوں کے گھر بھی نشانہ بنے جس میں چند خواتین اور بچے ہلاک ہوئے۔‘
سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’پاکستانی طیاروں نے قندھار کے ہوائی اڈے کے قریب واقع ایک نجی ایئرلائن کام ایئر کے ایندھن سٹوریج کو بھی نشانہ بنایا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل ایک ’تاجر حاجی خان زادہ کے نجی فیول ڈیپو کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔‘
پاکستان کی جانب سے ان دعووں پر اب تک ردعمل سامے نہیں آیا تاہم اسلام آباد کا کہنا ہے کہ افغانستان میں مختلف مقامات پر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان میں طالبان حکومت کے درمیان جاری تنازع اب تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔
افغانستان اور اسلام آباد میں طالبان حکومت کے درمیان کشیدگی کی بڑی وجہ پاکستانی طالبان کی محفوظ پناہ گاہیں اور پاکستان کے اندر ان کے بڑھتے ہوئے مہلک حملے ہیں۔
بظاہر یہ مسئلہ اس نہج پر پہنچ گیا کہ اس نے پاکستان کو افغانستان میں فضائی حملے کرنے پر مجبور کردیا۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ کابل میں طالبان حکومت ’مسلح گروپوں کی سرگرمیوں کو روکے، خاص طور پر پاکستانی طالبان تحریک، جو افغان سرزمین پر پرتشدد حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور پھر انھیں سرحد پار پاکستان میں اہداف کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔‘
تاہم کابل میں طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتی ہے کہ ’ہم کسی کو بھی افغان سرزمین سے کسی دوسرے ملک کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں دیتے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’اسلام آباد کابل کو ملکی سلامتی کے مسائل سے نمٹنے میں اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کر رہا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
طالبان حکومت پاکستان پر دولتِ اسلامیہ خراسان کی حمایت کرنے اور اس گروپ کو ’بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے‘ ایک آلے کے طور پر استعمال کرنے کا الزام بھی عائد کرتی ہے۔
افغانستان میں طالبان کی حکومت کے نقطہ نظر سے، پاکستانی طالبان کی تحریک ان کی افغانستان میں موجودگی کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ پاکستان کے لیے ایک ’گھریلو مسئلہ‘ ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد کا دعویٰ ہے کہ اس نے بین الاقوامی اداروں کو ثبوت فراہم کیے ہیں کہ پاکستانی طالبان تحریک کے تربیتی مراکز اور ٹھکانے کچھ افغان صوبوں جیسے کنڑ، ننگرہار اور پکتیکا میں سرگرم ہیں اور وہ پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔
کابل کا کہنا ہے کہ اس نے شمالی وزیرستان کے متعدد پناہ گزین خاندانوں کو سرحدی علاقوں سے افغانستان کے دیگر علاقوں میں منتقل کیا ہے، جو 2014 میں پاکستانی فوجی کارروائیوں کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔
کابل کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے پاکستانی طالبان اور اسلام آباد کے درمیان کم از کم دو بار ثالثی کی کوشش کی ہے۔
لیکن مذاکرات کی ناکامی اور پاکستان میں حملوں میں اضافے سے کابل اور اسلام آباد کے درمیان اعتماد ختم ہو گیا ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ طالبان کی حکومت دونوں کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔ ایک طرف اسلام آباد پاکستانی طالبان کے خلاف عملی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کر رہا ہے اور دوسری طرف دونوں گروپوں کے درمیان نظریاتی اور تاریخی تعلقات ہیں جنھیں توڑنا طالبان حکومت کے لیے آسان نہیں۔
جب پاکستان نے ’کابل کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی‘ اور گزشتہ سال 9 اکتوبر کو پکتیکا میں فضائی حملہ کیا، تو سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کیا کہ اس کا مقصد ’تحریک طالبان پاکستان‘ کے رہنما نور ولی محسود کو ختم کرنا تھا۔ تاہم، پاکستانی حکومت نے سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ اس حملے کا مقصد نور ولی محسود تھے۔
ان دعوؤں کے بعد، ٹی ٹی پی نے پہلے مسٹر محسود کی ایک آڈیو ریکارڈنگ اور پھر ایک ویڈیو جاری کی، جس میں انھوں نے کہا کہ وہ زندہ ہیں اور پاکستان میں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہX/@Zabehulah_M33
نور ولی محسود، وہ رہنما جس نے پاکستانی طالبان کو ’افغان طالبان ماڈل‘ کے قریب تر بنایا
2009 اور 2018 کے درمیان، افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے ساتھ پاکستانی طالبان کے تین رہنما: بیت اللہ محسود، حکیم اللہ محسود (پاکستان کی سرزمین پر)، اور ملا فضل اللہ (افغان علاقے میں) امریکی فضائی حملے میں مارے گئے، جس کے بعد نور ولی محسود کو نیا سربراہ مقرر کیا گیا۔
نور ولی محسود اور افغانستان کی کہانی تین دہائی قبل شروع ہوئی تھی۔
ان کے مطابق، 1990 کی دہائی کے اواخر میں، طالبان کی پہلی حکومت کے دوران، وہ شمالی افغانستان میں طالبان مخالف گروپ ’شمالی اتحاد‘ کے خلاف لڑے تھے۔
انھوں نے مزید کہا کہ کچھ عرصے بعد وہ اپنے ملک واپس آ گئے اور چند سال بعد پاکستانی طالبان کے ساتھ اسلام آباد کے خلاف ایک اور جنگ میں حصہ لیا۔
پاکستانی طالبان کے رہنما نور ولی محسود اور ان سے پہلے تین دیگر رہنماؤں نے پاکستانی حکومت کے خلاف تحریک کی لڑائی کو ’دفاعی جہاد‘ قرار دیا۔
اپنی کتاب ’دی محسود ریوولوشن ساؤتھ وزیر ستان: فرام برٹش رول ٹو امیریکن کولونائزیشن‘ میں لکھا ہے: ’قبائل (وزیرستان میں) القاعدہ اور دیگر غیر ملکی جنگجوؤں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن امریکہ کی درخواست پر، پاکستانی فوج نے 2001 کے بعد قبائلی علاقوں میں آپریشن شروع کیا، جو قبائلی مہمان نوازی کے روایتی اصول سے متصادم تھا اور یہیں سے جنگ کا آغاز ہوا۔‘
لیکن دوسری جانب پاکستانی حکومتوں پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ انھوں نے 20 سالہ امریکی موجودگی کے دوران افغان طالبان کو پناہ گاہیں اور مدد فراہم کی۔
بی بی سی آزادانہ طور پر ان اکاؤنٹس کی تصدیق نہیں کر سکتا جو پاکستانی طالبان رہنما نے اپنی کتاب میں ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے درمیان ماضی کے تعلقات کے بارے میں بیان کیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سویڈن میں مسلح گروہوں پر تحقیق کرنے والے عبدالسید کہتے ہیں کہ پاکستانی اور افغان طالبان کے درمیان تعلقات دسمبر 2007 میں پاکستانی طالبان تحریک کے باضابطہ قیام سے پہلے شروع ہوئے تھے۔
ان کے مطابق تحریک کا ابتدائی گروپ ان پاکستانی جنگجوؤں پر مشتمل تھا جو 1990 کی دہائی کی جنگوں میں افغان طالبان کے ساتھ مل کر لڑے تھے۔
2001 میں طالبان کی پہلی حکومت کے خاتمے اور افغانستان سے ان کی پسپائی کے بعد ان پاکستانی جنگجوؤں نے متعدد افغان طالبان کو قبائلی علاقوں میں پناہ دی۔
افغان طالبان نے ان محفوظ ٹھکانوں سے امریکی افواج اور ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ اتحاد کے خلاف افغانستان میں اپنی جنگ کا آغاز کیا۔
اپنی کتاب میں، نور ولی محسود نے سابق پاکستانی وزیر اعظم اور ممتاز سیاستدان بے نظیر بھٹو کے قتل کی ذمہ داری قبول کی اور یہ بھی اعتراف کیا کہ پاکستانی فوج کی کارروائیوں نے ان کی سرگرمیاں شدید حد تک محدود کر دیں اور انھیں افغانستان کی سرحدوں تک پہنچا دیا۔
محقق عبدالسید کہتے ہیں’ پاکستانی طالبان کے رہنما کے طور پر مقرر ہونے کے بعد، محسود نے تحریک کو ایک مرکزی تنظیم میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جو افغان طالبان کے طریقے سے کام کرے گی۔‘
ان کوششوں کے نتیجے میں اگست 2020 سے اب تک تقریباً 80 چھوٹے اور بڑے گروپ پاکستانی طالبان تحریک میں شامل ہو چکے ہیں۔
تاہم، افغان جنگ پر افغان طالبان کی اجارہ داری کے برعکس، پاکستانی طالبان تحریک کا حکومت مخالف مسلح گروہوں پر مکمل کنٹرول نہیں ہے، اور محسود کی کوششوں کے باوجود، کئی اہم گروپ اب بھی آزادانہ طور پر کام کر رہے ہیں اور انھوں نے اپنے متوازی ڈھانچے کو برقرار رکھا ہوا ہے۔
’اس کے علاوہ، پاکستانی طالبان تحریک کے اندر مرکزی قیادت اور سابقہ بااثر گروپ جماعت الاحرار کے درمیان تنازعات موجود ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTTP
جب پاکستانی طالبان افغانستان کے اگلے مورچوں پر لڑے
نور ولی محسود نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستانی طالبان کی تحریک ابھی قائم نہیں ہوئی تھی، بیت اللہ محسود نے افغان طالبان کمانڈروں ملا داد اللہ اور اختر محمد عثمانی کی درخواستوں کی بنیاد پر ’فدائین‘ (خودکش بمباروں) کو بھرتی کرنے کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔
ان کے مطابق اس وقت محسود قبیلے کے بہت سے نوجوانوں نے رضاکارانہ طور پر کام کیا اور 2005 میں قندھار میں پہلے دو خودکش بمبار اسی قبیلے کے افراد تھے۔
رؤٹرز نیوز ایجنسی نے اس وقت (2005 میں) ملا داد اللہ کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ طالبان گروپ نے امریکی افواج کے خلاف کارروائیوں کے لیے ’200 سے زائد رضاکار خودکش بمبار‘ تیار کیے تھے۔
نور ولی محسود کا دعویٰ ہے کہ 700 سے 800 قبائلی افراد خودکش حملوں میں یا افغان جنگ کے اگلے مورچوں میں ہلاک ہوئے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ افغان طالبان قبائلی علاقوں میں بعض افغان طالبان کو پناہ دینے اور اپنے لیڈر ’امیر المومنین‘ سے بیعت کرنے پر خود کو پاکستانی طالبان کا مقروض سمجھتے ہیں۔
30 اگست 2007 کو جنوبی وزیرستان میں بیت اللہ محسود کے عسکریت پسندوں نے 100 سے زائد پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں کو پکڑ لیا۔
اگرچہ اس وقت لڑائی زیادہ تر پاکستانی فریقوں کے درمیان تھی لیکن اس واقعے کا فائدہ افغان طالبان کو ہوا جو پاکستانی جیلوں میں تھے۔
طالبان حکومت کے موجودہ وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے چچا خلیل الرحمان حقانی نے 2024 میں شمشاد ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ ’چار سال‘ سے پاکستانی جیل میں تھے۔
اسی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز کی رہائی کے لیے شرط یہ رکھی گئی تھی کہ پاکستانی جیلوں سے 33 افراد کو رہا کیا جائے۔
ان افراد میں خلیل الرحمان حقانی، سراج الدین حقانی کے بھائی نصیر الدین حقانی، ان کے ماموں مالی خان کے علاوہ افغان طالبان کے ایک سرکردہ کمانڈر اختر محمد عثمانی کے دو بھائی بھی شامل تھے۔
یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ان افراد کو رہا کر دیا گیا۔ 10 دسمبر 2024 کو افغان کابینہ کے سینیئر رُکن اور اہم طالبان رہنما خلیل الرحمان حقانی دارالحکومت کابل میں ایک خودکش حملے میں ہلاک ہو گئے تھے، اس حملے کی ذمہ داری عالمی شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ (داعش) کی مقامی شاخ ’داعش خراسان‘ نے قبول کی۔

،تصویر کا ذریعہEPA
لیکن دونوں فریقوں کے درمیان تقریباً دو دہائیوں سے تعلقات مستحکم نہیں ہیں۔
محقق عبدالسعید کا کہنا ہے کہ 2014 کے بعد دونوں گروپوں کے درمیان تعاون اور مشترکہ سرگرمیوں کی سطح بتدریج کم ہوئی اور بعض صورتوں میں مکمل طور پر رک گئی، کیونکہ پاکستانی طالبان کے کئی گروپ قبائلی علاقوں سے افغانستان کے اندر سرحدی علاقوں میں داخل ہوئے۔
’اس وقت اطلاعات تھیں کہ ان میں سے کچھ گروپوں نے اس وقت کی افغان حکومت کے ساتھ خفیہ معاہدے کیے تھے، جس کے تحت انھیں افغان سرزمین پر آباد ہونے کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم، یہ گروپ اب کھل کر افغان طالبان کے ساتھ مل کر کارروائیوں میں حصہ نہیں لے سکتے تھے۔ تاہم، دونوں تحریکوں کے درمیان عمومی تعلقات اب بھی برقرار ہیں اور کوئی نظریاتی یا تنظیمی توڑ نہیں ہے۔‘
پاکستانی طالبان جنگجوؤں کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹوں میں بھی مختلف اعداد و شمار دیے گئے ہیں۔
کچھ رپورٹس کے مطابق، 2010 کی دہائی میں اس گروپ میں جنگجوؤں کی تعداد کا تخمینہ 30,000 سے 35,000 تھا، لیکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی نگرانی کمیٹی کی جولائی 2025 کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ’پاکستانی طالبان کے پاس تقریباً 6,000 جنگجو ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’پاکستان چاہتا ہے کہ طالبان حکومت اسلام آباد کی جانب سے ٹی ٹی پی سے لڑے‘
اسلام آباد میں قائم پاکستان پیس سٹڈیز سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق افغانستان میں طالبان کی حکومت کے آنے کے بعد سے پاکستان میں پاکستانی طالبان تحریک کے حملوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔
طالبان حکومت کے قیام سے پہلے پاکستان اور افغان طالبان کے تعلقات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا لیکن اب اہم سوال یہ ہے کہ افغانستان میں موجودہ طالبان حکومت اور پاکستانی طالبان تحریک کے درمیان کیا تعلقات ہیں؟
طالبان حکومت نے پاکستانی طالبان رہنماؤں اور افغانستان میں خفیہ ٹھکانوں کی موجودگی کے دعوؤں کی مسلسل تردید کی ہے اور اس بات پر اصرار کیا ہے کہ وہ اپنے معاہدوں پر قائم ہے اور کسی گروپ کو افغان سرزمین سے کسی دوسرے ملک کے خلاف کارروائی کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان میں پاکستانی طالبان رہنماؤں کی موجودگی کے بارے میں اسلام آباد کے دعوے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’سب سے پہلے، ہم اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں کہ ٹی ٹی پی کے رہنما افغانستان میں ہیں۔ ہم کسی کو افغان سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتے، اور افغانستان پاکستان میں جنگ نہیں چاہتا۔‘
حالیہ جھڑپوں کے بعد، افغانستان میں طالبان کی حکومت نے پاکستانی حکومت کے ’ایک مخصوص حلقے‘ پر دونوں ممالک کے درمیان تنازع کو ہوا دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انھیں پاکستانی عوام اور حکومت کی اکثریت سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

طالبان نے بھی بارہا پاکستان پر داعش کی مدد کا الزام لگایا ہے۔
طالبان کی پہلی حکومت کے دوران اسلام آباد میں افغان سفیر عبدالسلام ضعیف کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریکِ طالبان پاکستان کے معاملے کو ’بڑی تصویر‘ دینے کی کوشش کر رہا ہے اور اپنی گھریلو ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرنا چاہتا ہے۔
عبدالسلام ضعیف کے مطابق، اسلام آباد خود کو ’دہشت گردی کا شکار‘ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ بین الاقوامی برادری، خاص طور پر امریکہ سے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے نام پر رقوم اور وسائل حاصل کر سکیں۔ لیکن جب یہ پاکستانی طالبان تحریک کے مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہی تو اس نے ’افغان حکومت‘ پر الزام لگایا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان کو امریکہ سے بہت زیادہ رقم ملی اور اس نے یہ رقم چین کی سرحد سے ایرانی سرحد تک ڈیورنڈ لائن کے ساتھ خار دار باڑ، سکیورٹی چوکیاں اور سڑکیں بنانے پر خرچ کی ہے۔‘
’انھوں نے نگرانی کے لیے سرحد پر سکیورٹی کیمرے بھی نصب کیے ہیں۔ پاکستان اپنے گھریلو مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہا ہے اور اپنے مسائل کو خود سنبھال نہیں سکتا، جس کی وجہ سے وہ دوسروں پر الزام لگانا چاہتا ہے۔‘
ضعیف طالبان حکومت اور پاکستانی طالبان تحریک کے درمیان موجودہ تعلقات کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’پاکستانی طالبان سے وابستہ کچھ پناہ گزین، جو پہلے افغانستان آئے اور طالبان کو پچھلی حکومت سے وراثت میں ملا، خصوصی کیمپوں میں رہتے ہیں اور انھیں نقل مکانی یا جانے کی اجازت نہیں ہے۔‘
’وہ پناہ گزینوں کی طرح رہتے ہیں، جیسا کہ دوسرے ممالک میں عام ہے۔ لیکن پاکستانی طالبان تحریک کے حوالے سے میں یہ ضرور کہوں گا کہ ’ٹی ٹی پی‘ اس خطے کے لوگ ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ بلوچستان اور پشتونستان کے علاقے افغانستان کے ساتھ مشترکہ سرحد رکھتے ہیں اور سرحد کے دونوں طرف ایک قبیلہ آباد ہے۔ لہٰذا، یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جب دو پشتون لائن کے دونوں طرف نسلی اور خاندانی تعلقات برقرار رکھتے ہیں، تو اسے ’ٹی ٹی پی‘ کے ساتھ حمایت اور تعلقات سے تعبیر کیا جانا چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’ہم امارت اسلامیہ افغانستان کی ایک شاخ ہیں‘
افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے چند ماہ بعد، سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں پاکستانی طالبان تحریک کے رہنما نور ولی محسود کو ایک مسجد میں اپنے حامیوں سے یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے، ’پاکستانی طالبان امارت اسلامیہ افغانستان کی ایک شاخ ہے؛ دونوں ایک ہی چھتری کے نیچے ہیں۔‘
افغانستان میں گذشتہ چار سالوں میں پاکستانی طالبان تحریک کے کم از کم دو کمانڈروں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ عمر خالد خراسانی، گروپ کے بانیوں میں سے ایک (صوبہ پکتیا میں 8 اگست 2022) اور یاسر، جسے ’پیرکی‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے (قندھار میں 23 اگست 2022)۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ’پابندیوں کی نگرانی کرنے والی کمیٹی‘ کی 35ویں رپورٹ میں ایک رکن ملک (ممکنہ طور پر پاکستان) کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پاکستانی طالبان تحریک نے کنڑ، ننگرہار، خوست، اور پکتیکا صوبوں میں نئے تعلیمی اور تربیتی مراکز قائم کیے ہیں۔
افغانستان میں طالبان کی حکومت نے بھی ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان رہنما کا مؤقف ہے کہ اس کے ارکان کو دوسرے ممالک میں ’جہاد‘ کے لیے نہیں جانا چاہیے اور وہاں جنگ نہیں کرنی چاہیے۔
مئی 2025 میں، طالبان کے ایک سینئر سرکاری اہلکار، سعید اللہ سعید نے کابل میں پولیس کی گریجویشن کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انھیں ’جہاد‘ کے لیے بیرون ملک نہیں جانا چاہیے کیونکہ ’امیر نے حکم دیا ہے کہ ان کے لیے ملک سے باہر کوئی جہاد نہیں کیا جائے گا۔‘
پاکستانی طالبان تحریک، افغان طالبان کی حکومت، اور پاکستان کا مستقبل
اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد، افغان طالبان نے کابل میں پاکستانی طالبان تحریک اور اسلام آباد کے درمیان مذاکرات کے کم از کم دو دور کی میزبانی کی۔ یہ میزبانی اس بات کی علامت تھی کہ افغان طالبان اسلام آباد میں حکومت کے ساتھ پاکستانی طالبان کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن یہ کوششیں بے نتیجہ رہیں۔
اسلام آباد میں سابق افغان حکومت کے سفیر محمد عمر داؤد زئی کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کو ایک بار پھر وہی بڑی غلطی کا سامنا ہے جو اس نے اپنے پہلے دور میں کی تھی۔
داؤد زئی القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی میزبانی کا حوالہ دے رہے ہیں، جن کے الفاظ حکومت کا تختہ الٹنے کا باعث بنے تھے۔
ان کے بقول، ’اس کارروائی کی وجہ سے طالبان کی پہلی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔ اب جب کہ افغانستان پاکستانی طالبان کی میزبانی کر رہا ہے، یہ مسئلہ تشدد کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔‘
داؤد زئی کے مطابق، پاکستان طالبان کی حکومت کا تختہ الٹ نہیں سکتا، لیکن جنگ کے اپنے غیر ارادی نتائج ہیں، جو ان کے بقول، افغانستان کے مفاد میں نہیں ہیں۔
لیکن ٹی ٹی پی کے مسئلے کو حل کرنے کا ایک اور طریقہ یہ تجویز کرنا ہے کہ اسلام آباد کو پاکستانی طالبان سے براہ راست بات کرنی چاہیے۔
سابق امریکی ایلچی برائے افغانستان امن زلمے خلیل زاد، جو شہباز شریف کی قیادت میں پاکستانی حکومت کے سخت ناقد ہیں، کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ اسلام آباد اپنی حکمت عملی تبدیل کرے اور طالبان حکومت کی حمایت سے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کرے۔













